ملتان کے ہندو: اپنے دیس کے اجنبی

پانچ ہزار سال سے آباد دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہونے والے شہر ملتان میں یوں تو مختلف اقلیتیں آباد ہیں لیکن ماضی کے حوالے سے ملتان کی بنیادی پہچان ہندو مت کو قرار دیا جاتا ہے۔

ہزاروں سال قبل ملتان ہندوﺅں کا مرکز ہوتا تھا اور مؤرخین کے مطابق یہاں ہندوﺅں کا سب سے بڑا میلہ بھی لگتا تھا جس میں دنیا بھر سے ہندوﺅں کی بڑی تعداد شریک ہوتی تھی۔ اسی میلے کی وجہ سے ملتان تجارتی مرکز بھی سمجھا جاتا تھا کہ میلوں میں آنے والے اس دوران تجارت بھی کرتے تھے اور انہی میلوں کی وجہ سے ملتان کی مصنوعات دور دراز علاقوں تک جاتی تھیں۔

ملتان میں قلعے پر واقع پرہلاد اور سورج کنڈ روڈ پر سورج دیوتا کے مندروں کو تاریخی حوالوں سے بہت اہمیت حاصل ہے۔ سورج دیوتا کے مندر کے تو آثار بھی ختم ہوچکے تاہم پرہلاد کا شکستہ مندر اب بھی موجود ہے اور روایت ہے کہ ہندوﺅں میں ہولی کا تہوار اسی مندر سے شروع ہوا تھا۔

قدیم مندروں میں سے کچھ مندر صدر بازار اور اندرون شہر کے مختلف علاقوں میں  موجود ہیں۔ تاہم وہاں اب عبادت نہیں ہوتی اور انہیں رہائشی مقاصد کے لیے اوقاف نے لیز پر دیا ہوا ہے۔ کئی قدیم مندر سانحہ بابری مسجد کے بعد ردعمل کے طورپر مسمار کر دیے گئے۔ ہندومت کے حوالے سے ملتان کی اس تاریخی اہمیت کا احوال بیان کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اب ملتان میں ہندوکس حال میں رہتے ہیں۔ ان کی عبادت گاہوں کی تعداد کتنی ہے اور ماضی میں جو شہر ہندو مذہب کا مرکز سمجھا جاتا تھا، وہاں اب ہندو کن مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں؟

مذاہب کے حوالے سے تحقیق کرنے والے زکریا یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے اسسٹنٹ پر وفیسر شہزاد علی نے ستمبر2010 میں اقلیتوں کے بارے میں میڈیا کے طرز عمل پر جو تحقیق کی اس کے مطابق پاکستان میں موجود اقلیتوں میں مسیحی اور ہندو برادری کا شمار بڑی اقلیتوں میں ہوتا ہے۔ ملتان میں بھی یہی دو اقلیتیں زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔ سکھوں کی تعداد ملتان میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ احمدی بھی یاتو ملک چھوڑ گئے یا پھر اپنی شناخت ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ البتہ چند پارسی اس شہر میں موجود تھےجن میں سے اب صرف ایک آدھ خاندان ہی یہاں موجود ہے۔ بیشتر پارسی  گزشتہ چند برسوں کے دوران یا تو بیرون ملک چلے گئے یا پھر انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔

ملتان میں ہندوﺅں کی آبادی پانچ سے چھ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ طارق آباد، لودھی کالونی، گلشن آباد، ڈبل پھاٹک، گراس منڈی، شیرشاہ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں رہتے ہیں۔ شہر میں مقیم چھ ہزار ہندوﺅں کے تین مندر فعال ہیں جو شیرشاہ روڈ پر بجلی گھر کے سامنے والی آبادی، ڈبل پھاٹک میں اوورہیڈ برج کے نیچے اور باغ لانگے خان کے قریب گلشن آباد میں واقع ہیں۔ ملتان کی ہندوبرادری انہی مندروں میں عبادت کرتی ہے۔

شہر میں ہندوﺅں کے قبرستانوں کی تعداد بھی تین ہے۔ پاک مائی قبرستان میں کچھ جگہ ان کے لیے مختص ہے۔ شاہ شمس پارک کے قریب ان کا ایک قبرستان ہے جس کا کچھ حصہ ایدھی والوں نے لاوارث لاشوں کے لیے بھی لے رکھا ہے۔ گراس منڈی کے قریب ہندوﺅں کا ایک قدیم قبرستان 42 کنال پر محیط تھا جس میں سے اب ڈھائی تین کنال جگہ باقی رہ گئی ہے۔ شمشان گھاٹ شہر میں ایک بھی نہیں۔

قدیم ملتان میں سورج کنڈ روڈ، پل شوالہ اور نالہ ولی محمد کے کنارے شمشان گھاٹ ہوتے تھے لیکن اب یہ نالے بھی خشک ہوچکے ہیں۔ ہندو برادری کے مہنت ڈاکٹر کشور مراد ماضی میں اقلیتوں کی مرکزی مشاورتی کونسل اور ضلعی اقلیتی کونسل کے رکن رہ چکے ہیں۔ وہ ہندو برادری کے مسائل کے حل کے لیے بھی مصروف رہتے ہیں۔

ہندوﺅں کو درپیش مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شمشان گھاٹ نہ ہونے کے باعث انہیں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ ’ہمیں پیشکش کی گئی تھی کہ دریائے چناب کے کنارے آپ کوشمشان گھاٹ بنوا دیتے ہیں لیکن شہر سے اتنی دور میت لے جانا ہماری برادری کے لیے ممکن ہی نہیں کیونکہ ہم مالی طور پربھی زیادہ مضبوط نہیں۔ اگر کسی کو شمشان گھاٹ استعمال کرنا ہو اوراس کے پاس وسائل بھی ہوں تو پھراسے ڈیرہ غازی خان جانا پڑے گا جہاں گزشتہ دور حکومت میں دریائے سندھ کے کنارے شمشان گھاٹ بنایا گیا تھا۔‘

ڈاکٹر کشور مراد نے کہا کہ ’میں جانتا ہوں کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت جو مندر چلا رہے ہیں وہاں جگہ کی کتنی کمی ہے۔ ہمیں اجتماعی عبادت کے دوران مشکلات درپیش ہیں۔ اوقاف والوں سے رابطہ کیا تھا کہ ہمارے جو مندر آپ نے رہائشی مقاصد کے لیے لیز پردے رکھے ہیں اگر وہ مندر ہی ہمیں واپس مل جائیں توہمیں عبادت میں سہولت ہوجائے گی۔‘ لیکن ڈاکٹر کشور کے مطابق یہ کوئی آسان کام نہیں۔

’اوقاف والے حامی تو بھر لیتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں ہندوﺅں کے لیے انہی کا مندر خالی کرانا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ ہم بھی مجبور ہیں کسی جھگڑے سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ بھگت پرہلاد کے ملتان اور ہندومت کے اس قدیم مرکز میں بسنے والے ہندوﺅں کا اب کوئی پرسان حال نہیں۔ ’ہماری تواب کوئی آواز ہی نہیں۔ نہ ہمارے نمائندے ہیں جو قومی یا صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں ہمارے مسائل بیان کرسکیں۔‘

ملتان میں بیشتر ہندوؤں کا تعلق ہندوؤں میں سمجھی جانے والی نچلی ذات سے ہے۔ بلکہ ملتان سے رحیم یار خان تک نچلی جاتی والوں کی اکثریت ہے۔ ڈاکٹر کشور کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی جنرل سیٹوں میں ہندوؤں کے پاس چارسیٹیں ہیں۔ قومی اسمبلی کے تمام امیدوارسندھ سے منتخب ہوجاتے ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی کی ایک نشست ہمیشہ رحیم یارخان ، چولستان اور بہاولپور کے حصے میں آتی ہے۔ وہاں موجود بھیل، باگڑی اور دیگر ذاتوں والے ہندوﺅں کا ووٹ بینک ہے۔ اس لیے منتخب ہونے والے بعدازاں ملتان کے ہندوﺅں کو پلٹ کربھی نہیں دیکھتے۔

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)