آئی ایم ایف کی خوش گمانی کی خیر ہو

  • تحریر
  • ہفتہ 21 / ستمبر / 2019
  • 5260

پاکستان کی معیشت درست سمت کی طرف گامزن ہے۔ اصلاحات کا عمل جاری ہے اور مشکل فیصلے لئے جا رہے ہیں۔ ایک سال تک بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

آئی ایم ایف کے وفد کی پاکستان کے دورے کے بعد میڈیا ٹاک اور اعلامیے کا خلاصہ کچھ ان الفاظ میں سامنے آیا۔ آئی ایم ایف کی خوش گمانی کی خیر ہو، اللہ کرے درست سمت جو انہیں دکھائی دی وہ سمت عوام کو بھی دکھائی دے۔ فی الحال تو عوام کو مہنگائی اور کساد بازاری نے چندھیا رکھا ہے، حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفر موج صبح شام یقین دلانے پر مامور ہے مگر عوام کی اکثریت ہے کہ ماننے پر تیار نہیں۔ بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ کرایوں ، خوراک اور دوائیوں کی قیمتوں میں اضافے کا رونا لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب اگر بقول آئی ایم ایف کے یہ مشکل فیصلوں کی دین ہے اور اس کے نتیجے میں سمت، درست ہو گئی ہے تو ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ بہتری ایک سال کی دوری پر ہے تو لشٹم پشٹم یہ وقت بھی گزار لیں۔  عوام کا رونا اپنی جگہ میڈیا کے چند جوشیلے اینکرز کی سینہ کوبی چغلی کھا رہی ہے کہ یہ سال بہت مشکل ہو گا۔

حکومت اور اس کی فنانشل ٹیم کا دعوی ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں تجارتی خسارے کا بے قابو بھینسا قابو میں آ گیا ہے۔ تجارتی خسارہ 35 فیصد کم ہوا ہے ۔ گو اگست کی برآمدات کم ہیں لیکن جولائی اگست ملا کر برآمدات میں پونے تین فی ضد اضافہ ہوا ہے۔ درآمدات میں بھاری بھر کم کمی نے تجارتی خسارے کا رخ کمی کی طرف موڑ دیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں معمولی ہی سہی کچھ اضافہ تو ہواہے۔ روپے کی قدر بھی قدرے مستحکم ہوئی ہے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے اقدامات پر شدید رد عمل اپنی جگہ مگر حکومت عید کی تعطیلات کے باوجود مالی سال کے  پہلے دو ماہ کے اپنے ٹیکس اہداف کا 90فی صد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور پہلی بار چار لاکھ سے زائد نئے ٹیکس گزار بھی ڈھونڈ نکالے۔

یہ سب اشاریے مثبت اور خوش کن خبریں ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے حکومت کو صبح شام عوام کو اعتبار دلانے کی کیا ضرورت ہے۔ اور عوام اور میڈیا ہیں کہ بے اعتباری کے گھوڑے سے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔

اکنامکس کی ایک ترکیب ہے ، میکرو اکنامکس یعنی معیشت کے مجموعی اور بڑے بڑے کلیدی اشاریے مثلاً تجارتی خسارہ، مالیاتی خسارہ، جی ڈی پی شرح  نمو، بیرونی قرضوں کی شرح وغیرہ وغیرہ ۔آئی ایم ایف اور ایسے عالمی مالیاتی اداروں میں دنیا کی بہترین یونی ورسٹیوں سے فارغ التحصیل ان ماہرین کو ان پیچیدہ تراکیب کی سوجھ بوجھ ہے۔ ان کے موٹے بنک اکاونٹس میں ہر ماہ ٹرانسفر ہونے والا خطیر مشاہرہ بھی ان کی اسی مہارت کا آئینہ دار ہے۔ سو انہیں اعداد و شمار کی یقیناً سوجھ بوجھ ہو گی۔

مگر دوسری طرف عوام کی اکثریت ایسے تصورات سے نا بلد ہے۔ ان کی بد قسمتی کہ وہ صرف ہر ماہ بجلی گیس کے بل بھرنے، ہر پندرھواڑے تیل کی قیمتوں سمیت آٹے دال کے بھاؤ میں الجھے رہتے ہیں۔ انہیں کچھ اور سجھائی ہی نہیں دیتا۔

یہی دیکھ لیں گورنر اسٹیٹ بنک، مشیر مالیات، وزیر اعظم سمیت اب آئی ایم ایف وفد کے سربراہ تک کو صاف دکھائی دے رہا ہے معیشت درست راستے یعنی ٹریک پر ہے لیکن عوام کو دکھائی ہی نہیں دے رہا۔ اللہ کرے آئی ایم ایف کو سال بعد بھی یہی دکھائی دے اور عوام کو بھی۔۔۔