ایران اقوام متحدہ میں امن منصوبہ پیش کرے گا: صدر روحانی
- اتوار 22 / ستمبر / 2019
- 5040
ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران خلیج فارس میں کشیدگی کم کرنے کے لیے منصوبہ پیش کریں گے۔
سرکاری ویب سائٹ پر ایک بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’اس سال تہران خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک منصوبہ پیش کرے گا جس کے مطابق ایران خلیج فارس اور بحیرہ اومان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی اقدامات کرسکتا ہے‘۔
خیال رہے کہ 14 سمتبر کو سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ سعودی عرب اور امریکا نے ایران پر ان حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔ جبکہ تہران نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
بیان میں ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ غیر ملکی فورسز کی خطے میں موجودگی تیل اور اس کی ترسیل میں عدم تحفظ پیدا کرے گی۔ حسن روحانی نے کہا کہ ’ہم ان کی طرح نہیں ہیں جو دوسروں کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ ہی ہم کسی کو اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی کی اجازت دیں گے‘۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پہلی ایران-عراق جنگ 1988-1980 کی یادگاری تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آرامکو تیل تنصیبات حملے کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی تھی تاہم سعودی حکام نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ شمال کی جانب سے ہوا۔
دوسری جانب اس حملے کی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کے باعث امریکا نے 21 ستمبر کو ایران پر نئی سخت پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ سعودی عرب کی درخواست پر خلیجی ممالک میں فوج بھیجنے کا کیا تھا۔
پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے کہا تھا کہ ایران اپنی سرزمین پر کسی کو بھی جنگ کی اجازت نہیں دے گا۔ اس کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر حسن روحانی کے خطاب کو اہمیت دی جارہی ہے۔