حزب اختلاف کا لاک ڈاؤن
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 22 / ستمبر / 2019
- 5050
حزب اختلاف کو حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کوئی سیاسی حکمت عملی یا سخت گیر فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ دھرنا یا لاک ڈاؤن جیسے فیصلے بھی سیاسی حکمت عملی سے جڑے ہوتے ہیں۔
حتمی بات یہ ہونی چاہیے کہ حزب اختلاف کی مزاحمتی سیاست کے سامنے دو پہلو اہم ہونے چاہئیں۔ اول جو بھی تحریک چلائی جائے وہ سیاسی او رجمہوری فریم ورک میں ہو، دوئم سیاسی و جمہوری تحریک میں تشدد یا ریاستی ٹکراؤ کی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ پرامن سیاسی جدوجہد میں مختلف طریقہ کار ہونا چاہیے او راس کی حمایت بھی ہونی چاہیے۔ جہاں تک مولانا فضل الرحمن کے لاک ڈاؤن کا مسئلہ ہے اس کا بھی سیاسی تجزیہ کیا جانا چاہیے۔پہلی بات یہ تسلیم کرنی ہوگی کہ تحریک انصاف کی حکومت کی کامیابی یہ ہے کہ اس کے خلاف کاغذوں میں تو متحدہ حزب اختلاف موجود ہے مگر عملی طور پر یہ ایک تقسیم شدہ قافلہ پر مبنی حزب اختلاف ہے۔ ان کا مشترکہ یا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان حکومت کی مخالفت او راس کا خاتمہ ہے۔ یہ مشترکہ حزب اختلاف کاغذوں یا میٹنگز یا اجلاسوں کی حدتک تو متحد ہے مگر عملی طور پر سب کے اپنے اپنے سیاسی ایجنڈیا ور ترجیحات ہیں۔مولانا فضل الرحمن اگرچہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں تمام حزب اختلاف کی جماعتیں شریک ہوں۔لیکن پہلے مولانا یہ توتسلیم کریں کہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ ان کا ذاتی یا جماعتی فیصلہ ہے۔اگر واقعی مولانا سب حکومت مخالف جماعتوں کی شرکت کے حامی تھے تو یہ فیصلہ بھی مشترکہ حزب اختلاف کی کمیٹی میں ہونا چاہیے تھا جو ممکن نہیں ہوسکا۔
اس لیے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ لاک ڈاؤن مولانا فضل الرحمن کا سیاسی فیصلہ ہے۔ یہ ہی وجہ کہ حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں اس لاک ڈاؤن میں شرکت کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں۔ ویسے بھی حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کے بغیر مولانا کا لاک ڈاؤن سیاسی تحریک سے زیادہ ایک مذہبی جماعت کی تحریک بن کر رہ جائے گی۔ اس تحریک میں بھی دیگر مذہبی جماعتیں ان کے ساتھ نہیں ہوں گی۔ پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے تو صاف لفظوں میں مولانا فضل الرحمن کے لاک ڈاؤن میں شرکت سے انکار کرکے محض اس کی اخلاقی سیاسی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ سیاست میں آپ ایک واضح سیاسی لکیر کھینچتے ہیں کہ آپ لاک ڈاؤن کے حامی ہیں یا مخالف۔محض سیاسی او راخلاقی حمایت کافیصلہ تضاد پر مبنی ہے۔
پیپلز پارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف ان کا موقف ہے کہ وہ دھرنے یا لاک ڈاؤن کی سیاست کے نہ تو ماضی میں حامی تھے او رنہ اب ہیں ی،ہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سسٹم کو چلانے کے حامی ہیں او رحکومت طاقت کے زور پر گرانا ہماری سیاست نہیں تو پھر دوسری طرف حکومت کے خاتمہ کی بات کرکے بھی تضاد دکھایا جاتا ہے۔حکومت کو گرانے کا ایک سیاسی طریقہ تو وزیر اعظم اورحکومت پر عدم اعتماد کی تحریک او رعددی بنیاد پر حکومت کی تبدیلی ہوتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ ایک بڑی سیاسی تحریک کا منظر پیدا کرنا اور حکومت کو مجبور کرنا کہ وہ استعفی دے یا نئے انتخاب کا راستہ اختیار کرے۔تیسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ طاقت کے زو رپر عوامی مزاحمت سے حکومت کا خاتمہ کریں۔ پیپلز پارٹی کیا چاہتی ہے واضح نہیں ہے۔ایک طرف وہ حکومت مخالف تحریک بھی چلانا چاہتی ہے اور دوسری طرف وہ اسی حکومت او راسٹیبلشمنٹ سے پس پردہ معاملات کو طے کرنے کے کھیل کا بھی حصہ بنی ہوئی ہے۔ بعض سیاسی پنڈتوں کے بقول مولانا فضل الرحمن کے لاک ڈاؤن میں عدم شرکت کو بھی ان ہی پس پردہ مفاہمت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
جہاں تک مسلم لیگ ن کا تعلق ہے تو وہ اس وقت لاک ڈاؤن یا مزاحمت یا مفاہمت کی سیاست کے درمیان واضح طو رپر تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طرف نواز شریف او ران کے قریبی ساتھی ہیں تو دوسری طرف شہباز شریف او ران کے ساتھی ہیں۔ اس وقت عملی طور پر ووٹ بینک نواز شریف کا ہے،لیکن ا پارٹی پر کنٹرول شہباز شریف کا زیادہ ہے۔نواز شریف او رمریم کی گرفتاری کے بعد شہباز شریف پارٹی معاملات میں زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ شہباز شریف کبھی بھی مزاحمتی سیاست کے کھلاڑی نہیں رہے۔ وہ خود بھی مفاہمت سے چلنا چاہتے ہیں اور ہر سطح پر نواز شریف کو پہلے بھی او راب بھی یہ ہی مشورہ دیتے ہیں کہ مفاہمت سے کام لیا جائے او رٹکراؤ کی سیاست سے گریز کیا جائے۔ یہ سب کو پتہ ہے کہ شہباز شریف اب بھی پس پردہ معاملات چلارہے ہیں۔ اپنے لیے او راپنے خاندان کے لیے۔ ایسے میں ان کو کسی بھی طورپر مولانا فضل الرحمن کا سیاسی لاک ڈاؤن قبول نہیں ہوگا۔
شہباز شریف، خواجہ آصف او راحسن اقبال کی نواز شریف سے جیل میں ہونی والی ملاقات کی ایک کڑی مولانا فضل الرحمن کا لاک ڈاؤن تھا اور نواز شریف کو یہ ہی سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ہمیں فوری کسی بڑے اقدام کی بجائے وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن لاک ڈاؤن کا حصہ نہیں بنے گی او راگر شرکت کا فیصلہ کیا بھی گیا تو یہ چند افراد کی شرکت تک محدود ہوگا۔بطور سیاسی جماعت اس لاک ڈاون کا حصہ نہ بناجائے۔اس وقت مسلم لیگ ن کے مجموعی ارکان پارلیمنٹ بھی لاک ڈاؤن کی سیاست کے حامی نہیں اور سب سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں لاک ڈاؤن کا حصہ بننا پہلے سے بحران کا شکار مسلم لیگ ن کے لیے او رزیادہ مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن یقینی طور پر حکومت کی مخالفت میں پیش پیش ہیں اور چاہتی ہیں کہ حکومت تبدیل ہو مگر ان کو لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا فیصلہ جذباتی ہے اورکیونکہ وہ او ران کی جماعت پارلیمنٹ میں زیادہ نمائیندگی نہیں رکھتی، اس لیے ہمیں مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں اندھا دھند شامل ہونے کی بجائے اپنی سیاسی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا چاہیے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی عدم شمولیت کے باوجود لاک ڈاؤن کریں گے او راگر وہ کرتے ہیں تو ان کا یہ انفرادی فیصلہ کیسے مجموعی طور پر حزب اختلاف کی سیاست کو مضبوط کرے گا؟کیونکہ اگر مولانا فضل الرحمن کچھ نہ کرسکے او رلاک ڈاؤن کی کال موثر ثابت نہ ہوسکی تو یہ اقدام حزب اختلاف کی سیاست کو کمزو رکرے گا۔
حکومت کو اندازہ تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن موجودہ صورتحال میں کسی بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کی سیاست کا حصہ نہیں بنے گی او ر ان کا بڑا خطرہ یقینی طور پر پہلے بھی مولانا فضل الرحمن سے تھا او راب بھی ہوگا۔ کیونکہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مولانا کی طاقت مذہبی سیاسی کارکنوں اور مدارس کے طلبہ پر مشتمل ہے او ربڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھاکرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت حکومت کی کوشش ہوگی کہ مولانا فضل الرحمن پر مختلف محاذ سے دباوؤبڑھایا جائے کہ وہ لاک ڈاؤن کی سیاست سے گریز کریں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت حکومت او رمولانا دو مخالف سمتوں میں کھڑے ہیں او ربہت زیادہ بداعتمادی کا شکار ہیں۔ایسے میں ان میں مصالحت کا عمل بہت کمزور نظر آتا ہے۔جہاں تک مولانا کا پندرہ سے بیس لاکھ لوگوں کو جمع کرنے کا دعوی ہے اسے محض سیاسی بیان بازی ہی سمجھا جائے، مگر یقینی طو رپر وہ بڑا مجمع کرسکتے ہیں، مگر لاک ڈاؤن سے حکومت ختم کرنا خواہش تو ہوسکتی ہے مگر عملی طور پر ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔
اس وقت حکومت کو بڑا خطرہ حزب اختلاف سے کم اپنی سیاسی او رمعاشی پالیسیوں سے زیادہ ہے۔ بالخصوص اگر وہ اگلے ایک برس میں معاشی امور کے معاملات میں بہتری پیدا نہ کرسکے تو صورتحال ان کے خلاف جاسکتی ہے۔اصولی طور پر تو تحریک انصا ف کی حکومت کسی بڑے مارجن سے نہیں بنی او راس کو ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ہی عددی تبدیلی کی کوشش ہونی چاہئے۔ ماضی کی سیاست کا تجربہ یہ ہی بتاتا ہے کہ سڑکوں پر حکومت گرانے کے کھیل کا فائدہ سیاسی قوتوں کو کم او رغیر جمہوری قوتوں کو زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے فوری طو رپر لاک ڈاؤن مسئلہ کا حل نہیں بلکہ زیادہ حکومت مخالف جدوجہد او رتبدیلی کا عمل پارلیمنٹ کے اندر سے ہی ہونا چاہیے۔