احتجاج کے دوران ہوسٹن میں مودی ٹرمپ ریلی

  • سوموار 23 / ستمبر / 2019
  • 4110

امریکی ریاست ہوسٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ریلی میں اکٹھے شرکت کی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی تعریف کی جبکہ باہر کھڑے مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں 49 روز سے جاری کرفیو کے خلاف احتجاج کیا۔

امریکا کے شہر ہوسٹن کے این آر جی اسٹیڈیم میں بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کے جلسے کے خلاف مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی ریلی نکالی اور مودی کونسل پرست قرار دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظالم کی جانب دنیا کی توجہ دلائی۔

پاکستان تحریک انصاف  کی جانب سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پوسٹ میں کہا گیا کہ 'ہر رنگ، نسل، جنس اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد سڑکوں پر نکلے اور مودی کی نسل پرست حکومت کی مذمت کی'۔ پوسٹ کے مطابق 'مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی پرتشدد مداخلت کے خلاف سخت احتجاج کیا'۔

مودی مخالف احتجاج میں شریک ایک خاتون ماریا قاری کا کہنا تھا کہ ہوسٹن کے اطراف سے مظاہرین کو جلسہ گاہ تک لانے کے لیے بسوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ ریلیاں نکالنے کی منصوبہ بندی میں کم از کم 3 گروپ شامل تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاج میں حصہ لیا۔

مظاہرین نے ڈرمز اٹھا رکھے تھے اور وہ انہیں بجاتے ہوئے نعرے لگارہے تھے جبکہ گاتے ہوئے اپنا پیغام اور احتجاج ریکارڈ کروا رہے تھے۔ مظاہرین نے اس موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں پر جاری ظلم کو ختم کرایا جائے۔

اس دوران ریلی میں شریک متعدد بھارتی نژاد امریکیوں نے بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت کی علامت کے طور پر زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی سے معصوم شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے پر عزم ہیں۔ ان کے اس بیان پر بعد میں نریندر مودی نے شرکا کو کھڑے ہو کر ٹرمپ کا خیر مقدم کرنے کی ہدایت کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں بھارتی وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں  پر پاکستان کا نام لیے بغیر تنقید کی۔ بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’وہ کشمیر کے لیے برابر کا درجہ اور ترقی چاہتے ہیں اور ان اقدامات کی وجہ سے ان لوگوں کو مسئلہ ہورہا ہے جو اپنا ملک ہی سنبھال نہیں پارہے اور دہشت گردی کو پروان چڑھاتے ہیں‘۔ ان لوگوں نے بھارت کے خلاف نفرت کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا محور بنا لیا ہے۔

قبل ازیں اسٹیڈیم کے اندر ڈرمز کے شورمیں امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کا استقبال کیا گیا تھا جو دنیا کو دونوں ممالک میں اتفاق کا پیغام دیتے ہوئے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اسٹیج تک پہنچے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے دونوں ممالک کے مابین جاری تجارتی تنازع کے بجائے بھارت میں امریکی برآمدات میں اضافے، بھارت کی جانب سے امریکی ساختہ دفاعی نظام پر اربوں ڈالر خرچ کرنے اور نئی دہلی کے ساتھ فوجی مشقوں پر روشنی ڈالی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’بھارت نے اس سے قبل امریکا میں اس طرح سرمایہ کاری نہیں کی جس طرح اب کررہا ہے اور ہم بھی بھارت میں یہی کررہے ہیں'۔

ریلی میں 50 ہزار کے قریب بھارتی نژاد امریکیوں نے شرکت کی۔ جب ٹرمپ نے نریندر مودی کو اپنا دوست، اپنا بھارتی دوست کہہ کر مخاطب کیا تو انہوں نے مودی مودی کے نعرے لگائے۔ امریکی صدر نے بتایا کہ مودی نے انہیں گزشتہ ماہ فرانس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ریلی میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

بھارتی وزیر اعظم نے بھی امریکی صدر کا سیاسی نعرہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ سختی سے ’امریکا کو دوباہ عظیم بنانے‘ کے عزم پر کاربند ہیں۔ ’میں جب ان سے پہلی مرتبہ ملا تو انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں بھارت کا سچا دوست موجود ہے‘۔