جرمنی میں بزم ادب برلن کے زیر اہتمام محفل مشاعرہ
- تحریر عشرت معین سیما
- سوموار 23 / ستمبر / 2019
- 15050
بزم ادب برلن جرمنی میں اردو ادب کے فروغ کے لیے گزشتہ تین دہائیوں سے سرگرمِ عمل ہے۔ بزم اردو ادب کے نثری ، شعری ، لسانی اور فکری عوامل پر بے شمار محفلیں سجاچکی ہے۔
اردو ادب و شاعری کے کئی دمکتے ستارے اپنی شرکت سےاس بزم کو منور و تاباں کر چکے ہیں۔ سرور غزالی اس ادبی تنظیم کے روح رواں ہیں ۔ ان کی انتھک محنت اور بے لوث ادبی خدمات کی بدولت ایک بار پھر محفل افسانہ جیسی روایت قائم ہوئی ۔
بزم ادب نے ایک شعری محفل کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر نواسہ رسولِ خدا اور کو شہیدانِ کربلا کو سلام عقیدت پیش کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت جرمنی کے بزرگ شاعر عارف نقوی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی جنوبی امریکہ سے تشریف لانے والی مفکرہ محترمہ خالدہ عبید تھیں۔
مشاعرے کے آغاز سے قبل تنظیم کے جرنل سیکریٹری سرور غزالی نے محرم الحرام کے مقدس مہینے کے حوالے سے اس محفل کے انعقاد کا مقصد بیان کیا اور نواسہ رسول اکرم ( ع) کی دین اسلام اور انسانیت کے لیےبےلوث قربانی پر خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد بزم ادب برلن کے صدر علی حیدر وفا نے واقعہ کربلا کی روشنی میں دین اسلام کی سربلندی اور انسانیت کی بقا و نجات کے علاوہ فلاح انسانیت کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
مشاعرے کے آغاز سے قبل سید اسد علی شاہ کو نعت رسولﷺ پیش کرنے کی دعوت دی گئی ۔ جس کے بعد خالدہ عبید نے سرور غزالی کی حمد اپنی آواز میں پیش کی۔
مدبر احسان نے مشاعرے کی نظامت کی۔ انہوں نے عالمی ادیان کے تناظر میں انسانیت کے راہ نما آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی شان میں بے حد عمدہ نعتیہ کلام پیش کر کے حاضرین محفل سے داد سمیٹی۔ مشاعرے میں پہلی بار افشاں عین الحق نے ایک غزل کے چند خوبصورت اشعار پیش کئے۔ جس کے بعد محمد ارشاد ، عامر عزیز نے نظمیں پیش کیں۔ نظم میں واقعہ کربلا اور موجودہ کشمیر کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر منظر نامہ پیش کیا گیا تھا۔
سرور غزالی نے اپنی لازوال نظمیں سنا کر حاضرین کے دل موہ لئے۔ اس کے بعدراقم نے محفل میں سلام بحضور حسین ابن علی علیہ سلام اور چند غزلوں کے اشعار سنائے۔
بزم ادب برلن کے صدر علی حیدر وفا نے اپنا تازہ نعتیہ کلام پیش کیا اور آخر میں صدر محفل عارف نقوی نے اپنے کلام سے حاضرین کو نوازا۔ اختتامی کلمات میں اردو انجمن برلن کے بانی و صدر عارف نقوی نے اس قسم کی ادبی محفل کے انعقاد پر بزم ادب برلن کی اس کاوش کو سراہا۔ واقعہ کربلا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امام حسین کی یہ قربانی صرف دین اسلام کی بقا کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے بقا کے لیے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
پروگرام کے آخر میں سرور غزالی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور چائے کے ساتھ گرما گرم سموسے اور پکوڑے پیش کئے گئے۔
مہمان شرکا کے کچھ اشعار قارئین کی بصارتوں کی نذر کئے جارہے ہیں :
عامر عزیز:
ہنگامہ دنیا میں خدا بھی نہیں یاد عزیز
پس مرگ جو یاد آؤں تو یاد کرنا
مدبر احسان کی نظم "سنجوگ" کا آخری شعر یوں تھے:
سنسار کے سارے روگ ہمارے غم ہو جاتے ہیں
جب من اور تو کا فرق مٹے تو ہم ہو جاتے ہیں
سرور غزالی:
حدیثِ بیاں الفاظِ قرآن
بیاں در بیاں در بیاں دربیاں
عشرت معین سیما :
لیتا ہے اُن کا نام بھی دشمن ادب کے ساتھ
یہ حق کی جیت ہے، یہی شانِ حسین ہے
اُس کی پیاس پہ آبِ کوثر ناز کرے
جس کے نام پہ آنکھ سے دریا بہتا ہے
عارف نقوی کی نظم کا ایک بند:
نشتر چلایا جوں ہی ہمارے طبیب نے
یاد آگئے مجھے ایک اک رفیق سب
واں نوجوان سرکو کٹاتے ہیں رات دن
جنگ وجدل کی یو جنا رچتے ہیں کچھ یہاں
انسان جن کو جوش دلا کر مٹا دیا
تیروں سے جن کے سینوں کو چھلنی بنا دیا
عیسیٰ کو مار مار کے سولی چڑھا دیا
ابنِ علی حسین کو نیزے چڑھا دیا
سینے میں اہل دین کے بھالے چبھو دیے
جلتی ہوئی زمین پہ پیاسا سلا دیا
دور جدید ہے یہ ہے ایٹم کا دور اب
ظالم کا روپ اور ہے حکمت بھی اور ہے
بیتاب ہے کہ رونق عالم مٹائے گا
دنیا مٹا کے خوب منافع کمائے گا
جنگ وجدل سے کفر سے دوزخ بنائے گا