مودی نے بہت جارحانہ بیان دیا ہے: صدر ٹرمپ
- منگل 24 / ستمبر / 2019
- 4440
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر طویل عرصے سے حل طلب ہے اور اگر دونوں ممالک چاہیں تو ثالثی کے لیے تیار ہوں۔
وزیراعظم عمران خان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال سمیت دیگر معاملات پر مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کررہے ہیں۔
نیویارک میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ 'میں مدد کے لیے تیار ہوں اور یہ دونوں رہنماؤں پر منحصر ہے کہ کیا ثالثی چاہتے ہیں، یہ گھمبیر مسئلہ ہے جو طویل عرصے سے جاری ہے لیکن میں مدد کرنے کے لیے تیار ہوں'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ میرے بڑے اچھے تعلقات ہیں اور اگر کسی بھی وقت ثالثی کا کہیں گے تو میں اچھا ثالث ہوں گا لیکن ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو دوسرے فریق کو بھی سامنے رکھنا ہوگا'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میرے بھارت سے بھی اور دونوں ممالک سے اچھے تعلقات ہیں اور اگر وہ پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو میرے خیال میں اس معاملے پر مدد کرنا چاہیے'۔
ٹرمپ نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'ماضی میں امریکا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔ آپس میں اعتماد کا مسئلہ رہا ہے۔ میں اس عمران خان پر اعتماد کرتا ہوں اور پاکستان پر اعتماد ہے کیونکہ نیویارک میں بہت سارے پاکستانی میرے دوست ہیں جو بڑے اسمارٹ اور اچھے مذاکرات کار ہیں'۔
دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی اقدامات پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ 'بڑی پیش رفت ہوئی ہے کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ورنہ غربت اور افراتفری ہے'۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ 'میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں ہرکسی سے اچھا سلوک ہو۔ یہ دو بڑے ملک ہیں'۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'گزشتہ روز بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے انتہائی جارحانہ بیان دیا گیا۔ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ ان کا بیان بہت جارحانہ تھا'۔
تاہم انہوں نے کہا کہ 'مجھے امید ہے کہ بھارت اور پاکستان مل کر اچھا کریں گے وہ حل بھی جانتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ کوئی حل نکلے گا'۔
ایران سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے ایران کو دنیا میں دہشت گردی کی نمبر ون ریاست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بہت خراب کام کر رہا ہے، میں نے جب امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا تو ایران پورے مشرق وسطیٰ اور شاید اس سے آگے کے لیے ایک حقیقی خطرہ تھا اور اب اسے اپنے اس تاثر کو زائل کرنے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن بھارت تیار نہیں اور یہ مسئلہ جس طرح دیکھا جارہا ہے اس سے کہیں بڑا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے سربراہ ہیں اور مسئلے کا حل نکالنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ثالثی کی پیش کش کی جس کے لیے پاکستان تیار ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں اس وقت یہ بحران کا آغاز ہے اور جو کچھ کشمیر میں ہورہا ہے اس کے مطابق یہ بحران سنگین ہوسکتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ امریکا طاقت ور ترین ملک ہے اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور ان کی آواز ہے اس لیے ہم امریکا کی طرف دیکھتے ہیں کہ کردار ادا کرے۔
اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ بہت سارے لوگ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن میں سب سے مل نہیں سکتا۔ مگر میں عمران خان سے ملنا چاہتا تھا، یہ ایک عظیم لیڈر ہیں اور بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔