پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید زلزلہ، 19 افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی
- منگل 24 / ستمبر / 2019
- 3940
اسلام آباد کے علاوہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں اور آزاد کشمیر میں شدید زلزلہ کے باعث عمارتوں کی دیواریں گرنے اور سڑکوں پر حادثات سے کم ازکم 19 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد شہری زخمی ہوگئے۔
سہ پہر 4 بجے کے قریب آنے والے زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی۔ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض نے اے ایف پی کو بتایا کہ زلزلے سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے چند علاقے متاثر ہوئے جبکہ سب سے زیادہ نقصان میرپور آزاد کشمیر میں ہوا ہے جہاں مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ اور متعدد علاقوں میں گہرے شگاف پڑے ہیں۔
زلزلے کے خوف سے لوگ گھروں، دفاتر اور عمارتوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر آگئے۔ زلزلے کا دورانیہ 8 سے 10 سیکنڈ تک تھا لیکن اس کے جھٹکے شدید تھے۔
پنجاب میں لاہور، ملتان، سرگودھا، فیصل آباد، گجرات، سیالکوٹ، ساہیوال، رحیم یار خان، راجن پور، پاکپتن، گجرات سمیت مختلف علاقوں میں جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کے اضلاع پشاور، ایبٹ آباد، مردان، شانگلہ، بونیر، دیر، ہری پور، مالاکنٹ میں بھی زلزلہ آیا۔
آزاد کشمیر میں میرپور سمیت مختلف حصوں میں زلزلے سے کئی افراد کے زخمی ہونے اور مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ میرپور میں زلزلے سے مسجد کے مینار گرگئے جس سے کئی افراد زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی پسپتال میں منتقل کردیا گیا۔
زلزلے کے بعد آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور تمام زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کردی گئی۔ زلزلے کا مرکز جہلم کے شمال میں 5کلو میٹر تھا اور یہ 4 بجکر ایک منٹ پر آیا اور اسے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے علاقوں میں محسوس کیا گیا۔
زلزلے کے بعد ریسکو اداروں کے علاوہ شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کی مدد کی۔ پاک فوج کے سربراہ کی جانب سے بھی سول انتظامیہ کی مدد کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ 'چیف آف آرمی اسٹاف نے آزاد جموں کشمیر میں زلزلے کے متاثرین کے لیے سول انتظامیہ کے ساتھ فوری طور پر ریسکیو آپریشن کی ہدایت کردی ہے'۔
طبی ٹیمیں اور ایوی ایشن کے ساتھ فوجی دستے فوری طور پر روانہ کردیے گئے ہیں۔