زلزلے میں مرنے والوں کی تعداد 37 ہوگئی، لوگوں میں خوف و ہراس

  • بدھ 25 / ستمبر / 2019
  • 4430

آزاد کشمیر میں گزشتہ روز آنے والے شدید زلزلے کے بعد علاقے میں آفٹرشاکس جاری ہیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ متعدد زلزلہ متاثرین نے رات گھروں سے باہر گزاری۔ زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 37 ہوگئی۔

منگل کو آنے والے 5.8 شدت کے زلزلے سے سب سے زیادہ آزاد کشمیر کے علاقے متاثر ہوئے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ ڈپٹی کمشنر قیصر اورنگزیب کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 37 ہوگئی ہے جبکہ 500 سے زائد زخمی ہیں۔ زلزلے نے جہاں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی وہی اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی شہریوں کو خوف میں مبتلا کیا۔

رپورٹس کے مطابق علاقے میں زلزلے کے آفٹرشاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ زلزلے کے باعث جاتلاں میں مختلف مقامات پر سڑکیں دھنس گئیں جبکہ متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوگئی جس کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ متعدد زلزلہ متاثرین نے رات گھروں سے باہر گزاری جبکہ خواتین اور بچے بھی مختلف مقامات پر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور نظر آئے۔

زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے پاک فوج، سول انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کا امدادی آپریشن جاری ہے اور مختلف علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجنمنٹ اتھارٹی  کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل افضل نے اپنی ٹیم اور امدادی سامان کے ہمراہ میرپور کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے بھی ہسپتال کا دورہ کیا اور زلزلے سے متاثرہ افراد کی خیریت دریافت کی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور زخمیوں سے ملاقات کی۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے زلزلہ متاثرین کی بحالی کا کام جاری ہے اور اب تک 200 ٹینٹس، 800 کمبل اور 200 کچن سیٹس فراہم کیے جاچکے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک 452 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی، جس میں 160 افراد شدید جبکہ 292 معمولی زخمی بتائے گئے۔

اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ جتلاں بازار میں عمارتیں تباہ ہونے سے لوگ وہاں پھنس گئے جبکہ بھمبر سے بھی پل کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔

زلزلے کے باعث ضلع میرپور اور کوٹلی میں بجلی کی فراہمی معطل ہے جبکہ مرکزی جتلاں سڑک کو بری طرح نقصان پہنچا۔

24 ستمبر 2019 کو آزاد کشمیر سمیت پنجاب اور خبیرپختونخوا کے مختلف شہروں میں شدید زلزلے سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔ سہ پہر 4 بجے آنے والے زلزلے کی شدت 5.8 تھی اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ اس کا مرکز جہلم کے شمال میں آزاد کشمیر اور پنجاب کو جدا کرنے والی سرحد سے 22 اعشاریہ 3 کلومیٹر دور تھا۔