مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کے بعد قتل عام کا خدشہ ہے: وزیراعظم
- بدھ 25 / ستمبر / 2019
- 4170
وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کررکھا ہے اور 9 لاکھ فوج تعینات ہے۔ کرفیو کے خاتمے کے بعد قتل عام کا خدشہ ہے۔
نیویارک میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کے ساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 'کیوبا کے بحران کے بعد دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہوں گی جو ناقابل تصور ہے'۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے۔ کشمیریوں کو براہ راست رائے دہی کے ذریعے حق خود ارادیت حاصل ہے۔ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ان کا حق ہے لیکن 70 برس سے ایسا نہیں ہوسکا۔
عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے یک طرفہ طور پر اقدامات کیے اور اپنے ہی آئین اور قانون کے خلاف گئے اور آرٹیکل 370 کو ختم کردیا۔ بی جے پی حکومت نے کہا تھا کہ ہم مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کریں گے جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزری ہے۔ فورتھ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی وار کرائم تصور کیا جاتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ جب کرفیو اٹھایا گیا تو کیا ہوگا۔ ہمیں خوف ہے کہ 9 لاکھ فوج وہاں ہے اور قتل عام ہوسکتا ہے اس لیے ہم عالمی برداری سے کہتے ہیں کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ 'میرا دوسرا خدشہ یہ ہے کہ کشمیرمیں اگر کچھ ہوا تو بھارت اس کا الزام پاکستان پر عائد کرے گا کیونکہ فروری میں ایک کشمیری لڑکے نے بھارتی فوجی قافلے پر حملہ کیا تھا جس سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ لیکن بھارت نے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کیا حالانکہ ہم نے بھارت سے کہا تھا کیا کہ ثبوت فراہم کریں ہم کارروائی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج بھارت میں نسل پرست، ہندو قوم پرست اور بھارت میں دہشت گرد جماعت کے طور پر تین مرتبہ پابندی کا شکار ہونے والی پارٹی آر ایس ایس کی حکمرانی ہے۔ آر ایس ایس مہاتما گاندھی کے قتل کی ذمہ دار تھی۔ وزیراعظم نریندر مودی آر ایس ایس کا تاحیات رکن ہیں اور وہ گجرات میں 2 ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار بھی تھے۔
مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے عالمی رہنماؤں سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بورس جانسن، انجیلا مرکل، فرانس کے صدر میکرون اور مسلم رہنماؤں سے بات کی ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے اس پہلے کہ وقت نکل جائے کیونکہ کیوبا بحران کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہونے جارہی ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے روایتی انداز میں بات کی ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کو روکے۔ وہ خود کس طرح کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی کی وضاحت کریں گے۔ 80 لاکھ افراد 50 روز سے محصور ہیں وہ اس کی کیا وضاحت دیں گے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جب یہاں سے واپس جاؤں تو میں سب کو صورت حال سے آگاؤں کرپاؤں۔ یہ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ سلامتی کونسل کی قراردادیں ہیں جو کشمیریوں کو حق خود رادیت دیتی ہیں اور اس وقت جو صورت حال ہے اس پر اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں عالمی رہنماؤں اور خاص کر بڑے اور طاقت ور ممالک پر زور دوں گا کہ وہ بڑی مارکیٹوں سے آگے دیکھیں کیونکہ اگر یہاں کچھ غلط ہوا تو اس کے اثرات برصغیر کی سرحد سے ہٹ کر پڑیں گے۔ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل کو کچھ کرنا تھا تو اب وقت ہے۔ کشمیر کے عوام مشکلات کا شکار ہیں کیوںکہ سلامتی کونسل ان کو حق خود ارادیت دلانے کے اپنے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کروا سکی۔
ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ 'میں عالمی برادری سے مایوس ہوا ہوں کیونکہ اگر 80 لاکھ یورپی اس طرح 50 روز تک محصور ہوتے، یہودی محصور ہوتے یا صرف 8 امریکی محصور ہوتے تو کیا ردعمل ایسا ہی ہوتا۔ ابھی تک مودی پر اس محاصرے کے خاتمے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا'۔
انہوں نے کہا کہ 'ہم دباؤ بڑھاتے رہیں گے اور میں اقوام متحدہ کو اپنے خطاب میں بتاؤں گا کہ اگر قتل عام ہوا، 9 لاکھ فوجی کیا کررہے ہیں وہاں۔ بھارت جب پاکستان پر 500 دہشت گرد بھیجنے کا الزام دیتا ہے تو 500 دہشت گرد 9 لاکھ فوج کے سامنے کیا کریں گے۔ 500 دہشت گرد 9 لاکھ فوج کے ساتھ نہیں لڑ سکتے'۔
عمران خان نے ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صدر اردوان اگلے ماہ پاکستان آرہے ہیں اور ہم تجارت اور تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے بات کریں گے۔