جائیں تو جائیں کہاں
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- بدھ 25 / ستمبر / 2019
- 7000
یارانِ تیز گام نے محمل کوجا لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
ہم تو ورلڈ کپ جیت کر آئےتھے۔ اوراکڑ اکڑ کر چلتے تھے۔ ہمیں تو فخر تھا۔ کہ ہم شلوار قمیص پہنے ہوئےتھے اور ہمارے ہاتھ میں پرچی بھی نہیں تھی۔ پھر ہم نے دس پندرہ ہزار لوگوں کا اجتماع بھی کر لیا۔ اور سینہ پھیلا کے کہتے کہ دیکھو ہم نے واشنگٹن کولاہور بنا دیا ۔
ہم نے اس اجتماع میں اے سی اتارنے ، ٹی وی واپس لینے اور این آر او نہ دینے جیسے بڑے بڑے منصوبے پیش کر کے اپنی اعلیٰ تعلیم یافتہ عوام سے خوب داد بھی سمیٹی۔ ہم نے واشنگٹن کے سٹیڈیم کو ڈی چوک کا کنینر بھی بنا دیا ۔ پھر شہنشاہ عالم نے شرف باریابی بخشا تو ہم نے دوران گنفتگو بار بار ان کی جاہ و حسشمت کا تذکرہ کیا ۔ اُنہیں با رہا یاد دہانی کروائی ۔ کہ وہ دُنیا میں سب سے زیادہ طاقت کے مالک ہیں۔ حاسد لوگ ہماری ان باتوں سے حسد کی آگ میں جل کر کوئلہ ہوتے رہے ۔ اور ہماری اس تابعداری کو چاپلوسی سےتعبیر کرتے رہے۔ کتنے نا ہنجار لوگ تھے۔
شہنشاہ عالم کی صفت سخاوت نے جوش مارا ۔ اور انہوں نے ہماری جانب ایک نظر عنائت کی ۔ اور ہمسا ئے کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے ثالثی کی پیشکش کر دی ۔ کہاں شہنشاہ عالم اور کہاں ہم ۔ اُن کی اس غیرمتوقع عنائت پہ ہم نہال ہو گئے۔
آسمان نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ جب ہمیں اکیس توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔ حاسدوں کا حسد دو آتشہ ہو گیا اوروہ انگشت بدنداں یہ سب دیکھتے رہے۔ ہم خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ کہ شہنشاہ عالم نے ایسی مدارت کسی کی نہ ہو گی۔ شہنشاہ عالم نے ہمیں کچھ حکم دیے ۔ جو ہماری خوش بختی تھی۔ ہم نے اپنی اس خوش بختی کی خوب داد سمیٹی ۔ شہنشاہ عالم شاید ہماری گاؤں کی سیاست بھی واقفیت رکھتے ہوں گے ۔ کہ ہمارے ہاں چودھری جب کسی کمی کو کام سونپتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتا ہے۔ کہ چودھری صاحب نے نظر عنائت کی ہے۔
لیکن پھر شہنشاہ عالم نے ایک ہی ٹھوکر سے ہمارا ریت کا یہ گھروندا توڑ ڈالا۔ وہ گھروندہ جسے ہم سیاسی کعبہ سمجھ کے اس کاطواف کررہے تھے اور ظلٍ سُبحانی کو لبیک لبیک کہہ رہے تھے۔ اس نے ہمیں دیا گیا کام خود ہی ختم کر دیا۔ اور ہمسائے سے پینگیں بڑھا لیں۔ رقیب جاں کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ اور اس کے ساتھ مل کے پچاس ہزار افراد کا جلسہ کر ڈالا۔ ورلڈ کپ جیتنے والوں کی تالیاں خاموش ہوگئیں۔ وہ بھی شہر میں موجود ہیں لیکن:
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح
اک بار ہمیں ملاقات کا موقع دے دے
شہنشاہ عالم دشمن جاں پہ فریفتہ ہوئے جاتے ہیں۔ اسے گلے لگاتے ہیں۔ اور محبت کے عہد وپیمان باندھتے ہیں۔ اور رقیب ہمارا منہ چڑاتے ہوئے کہتے ہیں ۔ کہ پہلے اپنا گھر سنبھالو۔ رقیب جب ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ تو شہنشاہ عالم پناہ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہتے ہیں:
سرٍ تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے ۔
ہم ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں۔ تو تالیاں خاموش ، بلند بانگ دعوے بند اور ہماری خارجہ اور دفاعی پالیسی کی اُجاڑ قبریں ۔ جن پہ فاتحہ پڑھنے والا بھی کوئی نہیں۔ کہ سب اپنے اپنے معاشی مفاد کے اسیر ہیں۔ ہماری طرح کرائے پہ نہیں لئے گئے۔
دُ کھ کی بات یہ ہے ۔ کہ اگر ہم اپنی سیاسی تاریخ کا نوحہ بھی پڑھیں ۔ یا ہمیں اس گڑھے میں دھکیلنے والوں کا ذکر بھی کریں تو قابل گردن زدنی قرارپائیں گے۔ تمغۂ غداری سے سرفراز کئے جائیں گے۔ خود ساختہ حُب الوطنی کے نیزوں اور بھالوں سے لیس یہ لوگ آدم بو آدم بو کہتے ہوئے حملہ آور ہو جائیں گے:
عجب دستور زباں بندی ہے تیری محفل میں
یہاں تو بات بھی کرنے کو ترستی ہے زباں میری
لیکن ہم جیسوں کا مسئلہ یہ ہے کہ بولیں تو یہ لوگ مارتے ہیں۔ چُپ رہیں تو اندر کا ضمیر مارتا ہے۔ جائیں تو جائیں کہاں ۔