ٹرمپ نے یوکرائن کے صدر کو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کا کہا تھا

  • جمعرات 26 / ستمبر / 2019
  • 5130

صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر پر زور دیا تھا کہ وہ امریکی اٹارنی جنرل اور ٹرمپ کے ذاتی وکیل سے مل کر ان کے سیاسی حریف اور سابق نائب صدر جو بائیڈن سے متعلق تحقیقات کریں۔ یہ بات اس انتہائی اہم ٹیلی فون کال میں بتائی گئی ہے، جس کا خلاصہ بدھ کو ٹرمپ انتظامیہ نے جاری کیا ہے۔

آدھے گھنٹے کی یہ ٹیلی فون کال جولائی میں کی گئی، جس کے تفصیلی سرکاری متن میں ’التجا، وعدے اور خوشامد کے امتزاج‘ کا دلچسپ تبادلہ سامنے آتا ہے۔ اس گفتگو کا جو بائیڈن سے کوئی تعلق نہیں۔ مثلاً، یہ بات کہ صدر ٹرمپ صدر ولادیمیر زیلنسکی سے کہتے ہیں کہ ’مجھ پر یہ احسان کریں‘۔ اس بات کا 2016 کے امریکی صدارتی انتخابی مہم کے بارے میں تنازع سے تعلق تھا۔

خلاصہ جاری کرنے سے ایک روز پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ ڈیمو کریٹ پارٹی کی اکثریت والا یہ ایوان مواخذے کی تحقیقات کی کارروائی کا آغاز کر رہا ہے۔ ہاؤس اسپیکر کے اس اعلان سے ایک ڈرامائی سیاسی محاذ آرائی سامنے آنے کا اندیشہ ہے جس سے صدر ٹرمپ کی صدارت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات 2020 کی انتخابی مہم پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

پچیس جولائی کی اس ٹیلی فون کال کے بارے میں ڈیموکریٹ نمائندگان کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس میں صدر ٹرمپ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ بائیڈن کو سیاسی نقصان پہنچانے کے لیے یوکرائن سے مدد مانگ رہے ہیں۔

یہ ٹیلی فون کال ایسے وقت کی گئی جب امریکہ نے یوکرائن کے لیے 40 کروڑ ڈالر کی امداد منجمد کرنے کے احکامات دے رکھے تھے، جس رقم کو بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے جاری کیا۔ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ ایڈم شِف نے کہا ہے کہ یہ حقائق ایک غیر ملکی سربراہ کو مافیا کے انداز میں الجھانے کا ایک مثالی نمونہ ہیں۔

فون کال سمری کے مطابق صدر ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا تھا کہ امریکی قانون کے نفاذ کے چوٹی کے اہلکار، اٹارنی جنرل ولیم بَر اور ٹرمپ کے ذاتی وکیل، روڈی جولیانی ان سے یوکرین کی گیس کمپنی سے متعلق یوکرین کی جانب سے تفتیش کا دوبارہ آغاز کرنے کے معاملے پر گفتگو کریں گے، جس ادارے میں بائیڈن کا بیٹا، ہنٹر سربراہ رہ چکا ہے۔

بَر کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’دوسری بات یہ کہ بائیڈن کے بیٹے کے بارے میں بہت سی باتیں ہو چکیں، یہ کہ بائیڈن نے مقدمہ چلائے جانے کے عمل کو روکا اور یہ کہ اس بارے میں بہت سے لوگ اصل حقائق جاننا چاہیں گے۔ اس لیے آپ اٹارنی جنرل سے مل کر جو کچھ بھی ممکن ہو، کر سکتے ہیں۔ یہ بہت اچھا ہوگا۔‘

خلاصے میں ٹرمپ نے واضح طور پر زیلنسکی سے یہ نہیں کہا کہ امریکی امداد جاری کرنے کا تعلق بائیڈن کے خلاف تحقیقات سے ہے۔ لیکن ٹرمپ نے امریکی حمایت کی اہمیت بیان کی، جس کے بعد بائیڈن کے خلاف اقدام پر زور دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں یہ کہوں گا کہ ہم یوکرائن کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں۔‘‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ جرمن چانسلر انجیلا مرکیل یوکرین کے لیے کچھ بھی نہیں کرتیں جب کہ یوکرائن کے لیے امریکہ نے بہت کچھ کیا ہے‘۔

سمری میں بیان کیا گیا ہے کہ زیلنسکی نے جواب دیا کہ ٹرمپ ’1000 فی صد‘ درست ہیں۔ انہوں نے دفاع کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حمایت کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور امریکہ سے اسلحے کی مزید خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔