جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں: سعودی ولی عہد

  • جمعرات 26 / ستمبر / 2019
  • 4560

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ صحافی جمال خاشقجی قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کیونکہ یہ سانحہ  ان کے اقتدار میں ہوا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد نے استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں صحافی کے قتل کے حوالے سے اس سے قبل عوامی سطح پر کبھی بات نہیں کی تھی۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور دیگر مغربی حکومتوں نے الزام لگایا تھا کہ محمد بن سلمان نے صحافی خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے تاہم سعودی حکام کا کہنا تھا کہ اس میں ولی عہد کا کوئی کردار نہیں تھا۔

جمال خاشقجی کے قتل پر عالمی سطح پر غم و غصہ سامنے آیا تھا جس کی وجہ سے سعودی ولی عہد کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا تھا جس کے بعد سے انہوں نے امریکا اور یورپی ممالک کا کوئی دورہ نہیں کیا۔

'دی کراؤن پرنس آف سعودی عرب' کے نام سے دستاویزی فلم کے پری ویو میں پی بی ایس کے مارٹن اسمتھ سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ 'یہ میرے اقتدار کے دوران ہوا، میں اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتا ہوں'۔

ابتدائی طور پر انکار کے بعد سعودی بیانیے نے قتل کی ذمہ داری آپریشن کرنے والے حکام پر ڈال دی تھی۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے وسط میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق ریکارڈنگ کی نئی تفصیلات سامنے آئی تھیں جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ میرا منہ بند نہ کریں، مجھے دمہ ہے۔

ترک حکومت کے حامی اخبار ’ڈیلی صباح ‘ میں شائع رپورٹ میں جمال خاشقجی کے قتل کی آڈیو ریکارڈنگ کے حوالے سے نئی دستاویزات جاری کی گئی ہیں جو مبینہ طور پر سعودی صحافی کے آخری لمحات کی ریکارڈنگ ہے۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس وقت کے ڈپٹی انٹیلی جنس چیف نے خاشقجی کو ملک واپس لانے کا حکم دیا تھا تاہم مذاکرات کار نے بحث کے دوران انہیں واپس آنے کے لیے رضامند نہ کرنے پر قتل کا حکم دیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق سابق شاہی مشیر سعود القحطانی نے اسکائپ کے ذریعے قتل کے احکامات دیے اور آپریشن سے قبل متعلقہ ہٹ ٹیم کو خاشقجی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی تھی۔

مارٹن اسمتھ نے جب سعودی ولی عہد سے سوال کیا کہ ان کے علم میں لائے بغیر قتل کیسے ہوا تو محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس 2 کروڑ لوگ ہیں، ہمارے  30 لاکھ سرکاری ملازمین ہیں'۔

مارٹن اسمتھ نے سوال کیا کہ 'کیا وہ آپ کا جہاز بھی لے سکتے ہیں'۔ ولی عہد نے جواب دیا کہ 'میرے پاس کئی عہدیدار اور وزرا ہیں جو معاملات کو دیکھتے ہیں، وہی ذمہ دار ہیں، ان کے پاس اختیار ہے ایسا کرنے کا'۔

واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ کے سینئر عہدیدار نے جون میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ریاض پر جمال خاشقجی قتل کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ سعودی عرب کے 11 مشتبہ افراد کو خفیہ کارروائی کرنے پر ٹرائل پر رکھا گیا تاہم اب تک صرف چند سماعتیں ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سعودی ولی عہد اور دیگر سعودی حکام کے خلاف تحقیقات کرنے کا کہا گیا تھا۔

سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2017 سے امریکا میں مقیم تھے۔ انہیں  2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے۔ بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔