’دوستو مسئلہ کا حل نکالو‘ ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان اور بھارت کو پیغام
- جمعرات 26 / ستمبر / 2019
- 4190
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم سے رواں ہفتے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں دونوں رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تنازعات حل کریں۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے کہا دوستو! (مسئلے کا) کوئی حل نکالو، بس اب حل نکالو‘۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ دونوں جوہری ممالک ہیں انہیں مسائل حل کرنے ہی ہوں گے‘۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی میں 5 اگست سے مزید اضافہ ہوا، جب بھارت نے یک طرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے متنازع علاقے کا بھارت سے الحاق کردیا تھا۔
بھارت کے اس اقدام کے ساتھ ہی مقبوضہ علاقے میں کرفیو اور لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور مواصلاتی روابط منقطع کردیے تھے جو 50 روز گزرنے کے بعد جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے تنازعات کے حل کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔ امریکی صدر نے پہلی مرتبہ پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش جولائی میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے دوران کی تھی۔
بعدازاں وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی صدر ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش دہرائی جبکہ بھارت ہر مرتبہ اس پیشکش کو مسترد کرچکا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ یہ دونوں بہترین انسان (عمران خان اور نریندر مودی) مل کر کوئی حل نکال لیں گے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 74ویں اجلاس کا پاک بھارت معرکہ بن چکا ہے۔ دونوں ممالک عالمی حمایت حاصل کرنے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے تو دوسری جانب بھارت یہ الزام لگا رہا ہے کہ اسلام آباد وادی کشمیر میں 500 عسکریت پسند بھیجنے والا ہے۔
یہی سوال بھارتی صحافیوں نے منگل کو ٹرمپ اور مودی کانفرنس کے دوران کیا لیکن امریکی صدر نے اس بحث میں پڑنے سے گریز کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش دہرادی۔ جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ ’آپ کس طرح پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی کو روکے گے؟‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ میری وزیراعظم عمران خان سے بہت اچھی ملاقات ہوئی ہے جس میں ہم نے بہت سے باتیں کیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں وہ ایسا کچھ دیکھنا ضرور پسند کریں گے جو ثمر آور ہو، بہت پر امن ہو اور میرے خیال میں آخر کار ایسا ہو کر رہے گا‘۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ’آپ نے پاکستان کی بات کی لیکن ایران اس حوالے سے سر فہرست ہے، کیوں کہ جب آپ دہشت گرد ریاستوں کی جانب دیکھتے ہیں تو وہ کافی عرصے سے پہلے نمبر پر موجود ہے۔