کشمیر ایشو: عمران خان کا دورہ امریکہ اور سوشل میڈیا پر سنگ باری

  • تحریر
  • جمعرات 26 / ستمبر / 2019
  • 4940

ہم نے کشمیر کاز کا دفاع کیا کرنا ہے، ہم سے تو اتنے ووٹ بھی اکٹھے نہ ہو سکے جو اقوام متحدہ کے ایک ادارے میں اپنا کیس پیش کرنے کے لئے مطلوب تھے ۔ اس موضوع پر مبنی پوسٹس سوشل میڈیا میں خوب گردش میں ہیں ۔

 اپنی اپنی سیاسی عصبیت اور وابستگی کے مطابق اس پوسٹ پر تبصروں کا گھمسان کا رن جاری ہے۔ حقیقت کیا تھی؟ بقول شمشاد احمد خان، سابق سیکریٹری خارجہ، یہ انتہائی لغو پروپیگنڈا ہے، جھوٹی خبر ہے۔ ایسا کوئی ووٹ اقوام متحدہ یا اس کے کسی ذیلی ادارے میں شیڈول ہی نہیں۔ سو پاکستان کی سفارتی شکست یا  سبکی کیا معنی؟

شمشاد احمد خان کی بلند بانگ تصحیح اہنی جگہ مگر سوشل میڈیا کے جنگجو اگر صحیح یا فیک خبروں کی تصدیق کی جھنجھٹ میں پڑنے لگیں تو سوشل میڈیا  پر ہاتھ کے ہاتھ حساب چکتا کرنے میں کیا خاک مزہ رہ جائے گا۔ سوشل میڈیا کے میدان میں لائیکس اور فارورڈ کا شمار ہی اہم ہے۔ آج یہ خبر ہے کل کوئی اور۔ یہ شب و روز کا دھندہ ہے جس میں کشمیر کی حساسیت کا لحاظ کرنے سے سوشل میڈیا جنگجوؤں کے دھندے میں مندے کا اندیشہ ہے۔ 

یہ رویہ اب ایک سفاک سچ کے طور پر ہر گزرتے روز اجاگر ہو رہا ہے کہ سیاسی پسند نا پسند اور تقسیم کا رنگ موضوع کی حساسیت سے بھی گہرا ثابت ہو رہا ہے۔ زلزلے کی آفت ہو، معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کا معاملہ ہو، ڈینگی کے خوفناک پھیلاؤ کی بات ہو یا امریکہ میں عمران خان کی سفارتی کوششوں کا ذکر ہو، ہر معاملے پر سیاسی عصبیت کا رنگ غالب ہے۔

 سفارت کاری ایک پیچیدہ اور صبر آزما عمل ہے۔ اس عمل سے گزرنے والے جانتے ہیں کہ عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات میں مفادات اہم ہوتے ہیں۔ مفادات کی بدلتی گول پوسٹ یا نئے مفادات کے امکانات کے ساتھ ہی بیانئے اور رویے بدل جاتے ہیں ۔

کشمیر کے لاک ڈاؤن کا المیہ بھارت سے جڑے امریکہ کے مفادات کے سائے تلے گہنا رہا ہے۔ یہ تلخ اور بے رحم سچ ہے مگر اسے سمارٹ فون کی اسکرین سے نیو یارک ، واشنگٹن تک پھیلائی ہوئی سیاسی تقسیم اور باہمی نفرت سے  دنیا کو کوئی خاص فرق پڑنے والا ہے  نہ دنیا اہنے ورلڈ آرڈر کی مجبوریوں کو چھوڑنے پر تیار ہے۔

البتہ ملک کے اندر کی سیاسی منافرت، تقسیم اور طنز کی سنگ باری سے ہم اپنی تاریخ کے حساس ترین مسئلے پر ایک منقسم قوم کا امیج پیش کرکے دشمن اور دنیا کو ہمیں سنجیدہ نہ لینے کا غیر سنجیدہ پیغام ضرور دے رہے ہیں۔

 مشکلات میں گھرے ملک اور قوم کے لئے زمانے میں پنپنے کی  کیا یہی باتیں ہونی چاہیں؟ ایسے میں دنیا کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہمارے دشمن سے ہماری خاطر بگاڑ پیدا کریں۔ افسوس کہ کشمیر کا المیہ بھی ہمیں متحد نہیں کر سکا۔۔