قندیل بلوچ قتل کیس میں بھائی کو عمرقید، مفتی قوی سمیت باقی ملزم بری
- جمعہ 27 / ستمبر / 2019
- 6180
ملتان کی ایک عدالت نے ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ جب کہ باقی پانچ ملزموں کو بری کر دیا ہے۔ ان میں قندیل کے بھائی اسلم شاہین اور مفتی عبد القوی بھی شامل ہیں۔
ملتان کی ماڈل کورٹ نے قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ جمعرات کو محفوظ کیا تھا۔ جو آج سنایا گیا ہے۔ عدالت نے مقدمے میں نامزد مقتولہ کے بھائی وسیم کو اقبال جرم پر عمر قید کی سزا سنائی جب کہ دوسرے بھائی اسلم شاہین اور کزن حق نواز کو بری کرنے کا حکم دیا۔ ماڈل کورٹ نے اس کیس میں نامزد مفتی عبدالقوی اور ایک ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط کو بھی بری کردیا۔
سوشل میڈیا پر شہرت پانے والی قندیل بلوچ کو 16 جولائی 2016 کو ملتان کے علاقے مظفر آباد میں قتل کر دیا گیا تھا جہاں وہ اپنے والدین کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھی۔ تھانہ مظفر آباد کی پولیس نے 17 جولائی 2017 کو قندیل کے والد عظیم ماہڑہ کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا اور مقدمہ میں ابتدائی طور پر قندیل بلوچ کے بھائی وسیم کو ملزم ٹھہرایا گیا۔
ملتان پولیس نے ملزم وسیم کی گرفتاری کے بعد دیے گئے بیان کے بعد مجموعی طور پر سات ملزمان کو مقدمے میں شامل کیا جن میں وسیم کے علاوہ قندیل بلوچ کے دو بھائیوں اسلم شاہین اور عارف کے علاوہ قندیل کے رشتہ داروں حق نواز اور ظفر کو بھی قتل میں معاونت کرنے کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا۔
تفتیش آگے بڑھنے پر قندیل بلوچ کے ساتھ سیلفی بنانے والے مفتی عبدالقوی کو بھی شامل تفتیش کیا گیا۔ ملتان پولیس کی حراست میں ملزم وسیم نے ابتدائی طور قتل کا اقرار بھی کیا تھا۔ لیکن جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل ہونے کے بعد ملزم اپنے بیان سے منحرف ہوگیا اور اس نے فرد جرم کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔
قندیل بلوچ قتل کیس میں چالان جمع ہونے کے بعد مقدمہ کی پہلی سماعت 24 اکتوبر 2016 کو ہوئی یہ کیس تین سال سے زائد عرصہ ملتان کی پانچ مختلف عدالتوں میں چلتا رہا۔ کیس میں مجموعی طور پر 35 گواہوں کی شہادتیں قلم بند کی گئیں
ملزم وسیم گرفتاری کے بعد سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں رہا اور قندیل بلوچ کا سعودی عرب میں مقیم بھائی ملزم عارف مفرور قرار دیا گیا۔ لیکن اس کیس میں مفتی عبدالقوی، اسلم شاہین، ظفر اقبال اور عبدالباسط کو عدالت نے ضمانت دے دی تھی۔
قندیل بلوچ کے والدین نے اپنے بیٹے وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کرنے کی درخواست دی تھی۔ لیکن عدالت نے یہ درخوست مسترد کردی تھی۔