ہم کیسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں؟

جیسا کرو گے ویسا بھروگے یا پھر جو بویا تھا وہی کاٹو گے،  ایسے بہت سارے محاورے ہماری سماعتوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ بڑوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں کو سمجھائیں۔

 ایک وقت تھا جھوٹ بولنا یا سننا تو دور کی بات تھی جھوٹ بطور لفظ سنائی نہیں دیتا تھا۔ آج جھوٹ سے بات شروع ہوتی ہے اور جھوٹ پر ہی اختتام پذیر ہوجاتی ہے۔جھوٹ بطور لفظ اب گونج بنا ہوا ہے اور سب ایک دوسرے کو جھوٹا جھوٹا کہتے نہیں تھکتے اور زبانیں تو گھسنے سے رہیں۔

 فرد معاشرے کی اکائی ہے یعنی معاشرے افراد پر مشتمل ہوتے ہیں، افراد ہی معاشرے کی اقدا ر ترتیب دیتے ہیں، تہذیب، تمدن اور ثقافت کے ضامن ہوتے ہیں۔ افراد ہی معاشروں کی پہچان کراتے ہیں اور افراد ہی معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔ بھوک، افلاس، غربت، بیماری، قدرتی آفات اور دہشت گردی یہ وہ عناصر ہیں جو آج کے معاشرے کو اس حدتک توڑ مڑوڑ کے رکھ دیتے ہیں کہ وہ تہذیب تمد ن اور ثقافت دور کی بات یہ بنیادی قدروں سے بھی مکر جاتے ہیں۔ رہی سہی کثر لاقانونیت پوری کردیتی ہے۔ کوئی ڈوبتے سورج کو خودکشی سے بچانے کی چاہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور کوئی جسم کو سنگ مر مر بنا کر برائے فروخت  پیش کرتاہے۔اگر معاشرہ پہلے سے ہی ناتواں، کمزوراور غیر مستحکم ہوتو پھر یہ عناصر تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتے ہیں۔

ہم نے اعلی تعلیمی اداروں کو ترقی یافتہ درسگاہیں بنانے کیلئے  مغربی طرز معاشرت کو مکمل آزادی دے دی۔  ہم یہ بھی بھول گئے کہ معاشرے اپنے لباس سے پہچانے جاتے ہیں، اپنے برتاؤ سے پہچانے جاتے ہیں، ان بنیادی عوامل پر قوموں کے مستقبل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بحث و مباحثہ کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے گوکہ یہ معاشرے کے شعور کیلئے ایک صحت مند سرگرمی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے مباحثے اور ان مباحثوں میں شرکت کرنے والوں کا کیا معیار ہوتا ہے۔ پچھلی دو نسلوں کی سطحی تربیت میں معاشی و معاشرتی و ریاستی دہشت گردی نے بہت بڑا  کردار ادا کیا ہے۔ خوف میں مبتلا  نسل اور اس کی  بنیاد پر سوچ بچار کرنے والے لوگوں نے ان سطحی سمجھ رکھنے والوں  کویرغمال بنانا شروع کردیا۔ سماجی میڈیا نے شعور کو کتنا بیدار کیا یہ ہم اپنے آس پاس میں محسوس کر سکتے ہیں کہ لوگ کس طرح  ایک دوسرے  سے  برتاؤ کررہے ہیں، وہ کس طرح سے چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھ جاتے ہیں اور کس طرح سے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے ہیں۔ ہم انفرادی طور پر ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ہیں اور جو کوئی ذمہ داری لے اس کے پیچھے  یوں ہاتھ  دھو کر پڑتے ہیں کہ اس ذمہ دار کی نسلیں توبہ کرلیں۔ رویوں میں ہیجان کا اس درجہ بڑھ جاناکہ کسی روٹی چوری کرنے والے کو ہاتھوں اور لاتوں سے مار دینا کسی ایک فرد کی ذمہ داری یا بے راہ روی نہیں ہوسکتی۔یہ پورے معاشرے کی کیفیت  ہے یہی معاشرتی خرابی ہے۔

 ہم اس نہج پر پہنچنے والے ہیں جہاں علم بھی ہوگا، لامتناہی معلومات بھی ہوں گی، ایک سے ایک مسائل پر بات کرنے والا بھی ہوگا، راستے بتانے والے بھی ہوں گے  لیکن  کوئی بھی عمل کرنے والا نہیں ہوگا اور کوئی صحیح راستہ چننے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ اب لوگوں  گزرے ہوئے  زمانے اور وقت پر سوائے وقتی افسوس کرنے کے اور حال اور مستقبل میں غرق ہونے کے کچھ بھی یاد نہیں ہے۔

 ہماری ترجیحات معاشرے کی  اصلاح سے مکمل طور پر ہٹ چکی ہیں۔  ہم ہر معاشرتی تخریب کاری پر اپنی بے بسی کے اظہار سے زیادہ  کچھ نہیں کرتے۔  ہم نے سمجھ لیا ہے کہ جنگیں زبانی کلامی جیت لی جاتی ہیں۔ وقت کو  نگام ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے اگر ہم سمجھتے ہیں کہ نئی نسل کو معاشرتی اقدار بنانے یا پرانی اقدار سنبھالنے کی جانب راغب کرنا چاہئے تو   اس وجہ سے خاموش نہیں رہا جاسکتا  کہ وہ نہیں سنیں گے۔

چوبیس گھنٹوں کی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالیں اور سوچیں کہ  معاشرہ  کس طرف جارہا ہے۔ اس خرابی میں اپنے کردار پر بھی نگاہ ڈالنی چاہئے۔