دھرنے اور احتجاج نہیں معاشی پیش رفت کی ضرورت
- تحریر افتخار بھٹہ
- جمعہ 27 / ستمبر / 2019
- 7720
پاکستان میں تبدیلی کی علامت اور مدینہ کی فلاحی ریاست کے قائم کرنے کی دعوے دار حکومت نے بجٹ منظور کیا تو مہنگائی بے روز گاری میں تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ ڈالر کی قیمت تیزی سے گری۔کسی دائیں بازو کی جماعت نے اس معاشی گراوٹ پر احتجاج نہیں کیا بلکہ حکومت کے حامی اینکر، دانشوروں اور تجزیہ نگاروں نے حکومت کی نام نہاد اصلاحات کی تعریف توصیف کی۔
ان میں سے بہت کم جدید معیشت کے تقاضوں سے واقف ہیں۔ اس کے علاوہ دائیں بازو کے سرمایہ دارانہ نظام کے حامی کالم نگاروں، تجزیہ نگاروں اور اینکرز پر مشتمل کئی ایک چینلز نے اپنے تھینک ٹینک بنا رکھے ہیں جہاں پر یہ لوگ اپنی رائے کا اظہار پارٹیوں، اداروں اور مقتدرہ طبقات کی پالیسیوں کے تناظر میں کرتے ہیں۔ حالانکہ ان میں شامل زیادہ تر لوگوں کا کام محض کالم نگاری، واقعات نگاری، تعلقات عامہ اور اہم شخصیات سے تعلقات کو اجاگر کرنا ہے۔ انہیں تاریخ، سیاست، معیشت، سماجیات اور جدید بدلتے ہوئے معاشی، فوجی اور سیاسی تناظر کے بارے میں بہت کم علم ہے۔ اسی لیے وہ عوام کے بنیادی مسائل صحت، بے روز گاری، کاروباری اور صنعتی کساد بازاری گرتی ہوئی برآمدات اور انسانی سرمایہ کی تخلیق کیلئے سرمایہ داری کے بارے میں بہت گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک صرف نجی شعبہ ہی ملک میں ترقی لا سکتا ہے جو کہ یوں بھی آج کل نیو لبرل اکانومی کا ایجنڈا ہے۔
اگر ہم یورپ کے سرمایہ دار ممالک کو دیکھیں تو وہاں پر فلاح عامہ کے شعبوں تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست پر ہے جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں پر نجی شعبے نے عوامی فلاح کے منصوبوں صحت اور تعلیم پر قبضہ کر کے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ آج کل ہمارے ٹی وی میڈیا میں اپوزیشن یا حکومت کے ترجمان ایک دوسرے کو ذاتی حوالوں سے نشانہ بناتے ہیں،۔ کبھی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ بیرون ممالک پاکستانیوں کے 200ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں جن کے آنے سے قرضے ادا ہونے کے بعد باقی رقم سے معیشت میں بہتری آ سکتی ہے، کبھی احتساب عمل کے ذریعے اربوں ڈالر کی ریکوری کی نوید سنائی جاتی ہے، کبھی بتایا جاتا ہے کہ کسی اپوزیشن لیڈر پراربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں جس کے ثبوت حاصل کر لیے گئے ہیں۔ اور وہ بہت جلد احتساب کا سامنا کرے گا۔ مگر گزشتہ ایک سال سے ہونے والے احتساب میں دیکھا گیا ہے کہ الزامات اور انکواریاں تو اربوں روپے کی ہوئی ہیں لیکن آج تک ایک روپیہ ریکوری نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ریفرنس منطقی انجام تک پہنچے ہیں۔
کئی دانشوروں نے عمران خان کی سیاست میں انٹری اور وزیر اعظم بننے سے قبل لکھا تھا کہ وہ جمہوری روایات سے بیگانہ ہے اور پارلیمانی تجربہ نہیں رکھتے۔ معیشت کی پیچیدگی کو نہیں جانتے ہیں اور انتظامی تجربے سے محروم ہیں۔ ان کا صوبہ پختون خواہ میں حکومت چلانے کا تجربہ ناکام رہا ہے۔ کوئی ترقیاتی پراجیکٹ اب تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ عمران حکومت گہرے غور و فکر سے عاری ہے یہی وجہ ہے اس کی پالیسیوں میں تسلسل اور خود اعتمادی نہیں ہے، ان کے رفقاء میں حد سے زیادہ خود اعتمادی اور خود سری ہے۔ انہیں اپنے ساتھیوں کی درست شناخت نہیں ہے، یہی وجہ ہے یہ لوگ اپنے مفادات پر مبنی بیانات کے ذریعے اپنی ہی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں۔جدید سیاسی بیانیے اور مذہبی نعرے کی کشمکش میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
حکومت کے اقتدارمیں آئے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے معیشت کی ابتری اور جمود اب بحث کا موضوع نہیں رہے۔ ملک کی 90%غریب آبادی کو اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جانوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ ستر سال سے جاری بلند بانگ نعرے بازی کے سحر میں مبتلا ہے۔ ہماری مڈل اور لوئر مڈل کلاس ان جھوٹے نعروں، ترانوں، گانوں اور ڈانس، قادری، رضوی اور ایٹم بم کی اہمیت کے چکنے چپڑے نعروں کے رومانس میں جکڑی ہوئی ہے۔ دوسری طرف میڈیا پر شام 7بجے سے رات12بجے تک مخصوص ذہنیت،طبقات اور سیاسی جماعتوں کے حامی مختلف موضوعات پر لا یعنی اور بے مقصد گفتگو اور بحث کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ عوام کو شعور آگاہی دینے والی جماعتیں اور دانشور پس منظر میں چلے گئے ہیں۔وہ تصوراتی باتیں کرتے اور نعرے لگاتے اور مختلف نظاموں کے نفاذ کی باتیں کرتے ہیں۔کچھ کے نزدیک اردو کا ذریعہ تعلیم نہ ہونا ہماری پسماندگی کی علامت ہے کچھ پنجابی زبان کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ہر شخص نے سماج کو سدھارنے کیلئے اپنے اپنے ٹوٹکے گڑھ رکھے ہیں۔
دیکھا جائے ان کی اس جدید عہد میں قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سماجی اور معاشی ترقی صرف جدید علوم اور سائنس ٹیکنالوجی کے ذریعے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔بے شعوری صرف عام آدمی مڈل کلاس نہیں بلکہ سارے سماج کی بیماری ہے۔ رائے عامہ کنٹرول میں ہے۔پریس کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون سازی کا آغاز ہو چکا ہے۔ عوام، دکان دار، صنعت کار، محنت کش اور کسان پریشان ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والاہے۔ تنخواہ دار اور محدود آمدنی والوں کو ڈالر کے مہنگا ہونے کی وجہ سے مہنگائی کا سامنا ہے۔ یوں بھی روپے کا نرخ کم ہونے سے ماہانہ تنخواہ پانے والوں کی قو ت خرید 30%کم ہو چکی ہے۔ اسی دوران بجلی گیس اور پیٹرول مہنگا کر کے اس کی قوت خرید مزید کم کر دی گئی ہے۔ اس مہنگائی میں تنخواہ اور پنشن کی قدر نصف رہ گئی ہے،گاڑیوں کی قیمتیں بڑھنے سے خریدار ختم ہو چکے ہیں۔ جبکہ فیکٹریوں نے اپنی پیدا وار کم کر دی ہے۔
ہم نے معاشی اصلاحات کیلئے عالمی مالیاتی اداروں میں ملازمت کرنے والے ملازمین حاصل کیے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی ماضی میں تمام سابق حکومتوں نے معاونت حاصل کی تھی اور ان کی پالیسیاں معیشت کو استحکام کی طرف لے جانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ معاشی معاملات اور پالیسیاں سابق ڈگر پر چلتی رہیں گی، آئی ایم ایف کے لوگ ہماری تسلی کیلئے مثبت رپورٹیں جاری کرتے رہیں گے اور حکومت پر زور دیں گے کہ وہ اقتصادی اصلاحات نافذ کریں جس سے ان کے قرضوں کی وصولوکو یقینی بنایا جا سکے خواہ اس سے عوام بھوکے مر جائیں۔ حکومت کے حامی تجزیہ نگار ٹی وی پر شعلہ بیانی اور دشنام طرازی کرتے رہیں گے۔ کسی وزیر کو تبدیل کر دیا جائے گا مگر ان اقدامات سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ اس سیاسی بحرانی کیفیات میں اپوزیشن کے راہنما جیلوں میں بند ہیں جن کے خلاف ابھی تک کوئی ٹھوس شواہد نہیں لائے جا سکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ کرنے والے ہیں۔ یاد رہے ان دھرنوں اور جلوسوں کے متعلق ہمارا تجربہ خوشگوار نہیں ہے۔ اگر ہم نے ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو اس کا راستہ قانون، دستور اور سیاسی عمل سے نکلے گا۔ اگر انتشار حد سے بڑھ جائے تو اس سے آئین اور ریاستی ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔ ہمیں سیاسی محاذ آرائی کو کم کرتے ہوئے صلح کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ سیاسی استحکام ہی سے معیشت کا پہہ چالو کیا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کے بقول پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ اس کے لوگ سیاست اور تاریخ کو نہیں سمجھتے ہیں اور یہ تمام بحران اس کی کارکردگی کی علامت ہیں۔
یوں لگتا ہے عمران خان کی حکومت ناکام ہو رہی ہے جمہوری جدو جہد کو عمران کی ذات سے منسلک کرنا سیاسی قوتوں کی غلطی ہوگی۔پاکستان کے بائیس کروڑ عوام اس الزام کے اسٹیک ہولڈر ہیں اور کوئی بھی جماعت تنہا ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتی ۔ نہ ہی کوئی کٹھ پتلی سیٹ اپ قوم کو ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ پاکستان کے عوام با صلاحیت ہیں انہوں نے پاکستان میں مختلف سیاسی تجربات دیکھے ہیں۔ ہمیں دھرنوں کی نہیں دستوری اور معاشی پیش قدمی کی ضرورت ہے۔