پاکستان میں 9 لاکھ قابل اعتراض ویب سائٹس بند کر دی گئیں

  • ہفتہ 28 / ستمبر / 2019
  • 4720

پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی نے ملک میں جنسی مواد، توہین مذہب، ریاستی اداروں، عدلیہ اور دیگر اہم اداروں کے خلاف کام کرنے والی 9 لاکھ ویب سائٹس کو بند کر دیا گیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق عام شہریوں نے اتھارٹی میں غیر قانونی مواد کی کئی شکایات دائر کر رکھی تھیں۔ یہ بات پی ٹی اے نے اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے اجلاس میں بتائی، جس کی صدارت چئیرمین کمیٹی علی خان جدون نے کی۔

اجلاس میں پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ یہ سائٹس پی ٹی اے نے بند تو کر دی ہیں لیکن ان کے خلاف ایکشن لینے کا اختیار سائبر کرائمز سے متعلق ایف آئی اے کے پاس ہے۔ ایف آئی اے وزارت داخلہ کے ماتحت ادارہ ہے اور ان کے پاس ان سائٹس چلانے والوں کے خلاف ایکشن کی کوئی تفصیلات موجود نہیں۔ پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ ان کے پاس کسی مجرم کو نئی موبائل سم لینے سے روکنے سے متعلق بھی کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

اجلاس میں کمیٹی ارکان نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے اختیارات میں توسیع کا بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے۔ بل کے مطابق نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ وفاقی حکومت کو ’اِی گورننس‘ کے تحت چلانے کے اقدمات کرے گا۔ وزارت آئی ٹی کی جانب سے یہ بل پیش کیا گیا۔ بل کے مطابق وفاقی حکومت اور تمام ڈویژنز کو ’اِی گورننس‘ کے تحت لایا جائے گا۔ آئی ٹی بورڈ وزارتوں میں اِی گورننس کی تربیت اور سہولت کاری کرے گا۔

بل کے مطابق نیشنل آئی ٹی بورڈ (این آئی ٹی بی) صوبائی حکومتوں کی معاونت بھی کر سکے گا اور گڈ گورننس کے لئے کسی بھی وزارت یا ڈویژن کے ڈیٹا کو سیکورٹی بھی فراہم کرے گا۔ تمام وزارتیں بوقت ضرورت این آئی ٹی بی کے ڈیٹا بیس سے مستفید بھی ہو سکیں گی۔ آئی ٹی بورڈ حکومت کے مابین روابط اور اداروں کے درمیان تعاون کا کام بھی سرانجام دے سکے گا۔

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے بعض افراد کو اس پر تحفظات ہیں کہ حکومت پی ٹی اے کے پاس قوانین نہ ہونے کے باوجود مختلف اداروں کے ذریعے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور مختلف ویب سائٹس کو مختلف الزامات کے تحت ان کا مؤقف سنے بغیر پاکستان بھر میں بند کر دیا جاتا ہے۔