افغان صدارتی انتخابات: سخت سکیورٹی میں ووٹنگ

  • ہفتہ 28 / ستمبر / 2019
  • 4210

افغانستان میں عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کے سائے میں صدارتی انتخاب کا عمل جاری ہے۔  امریکہ کے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی وجہ سے یہ انتخابات دو بار تعطل کا شکار رہ چکے ہیں۔

چند دن قبل ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد طالبان نے پولنگ سنٹرز پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ ان حملوں کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں ہزاروں افغان سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔  تاہم ووٹنگ  شروع ہونے کے کچھ وقت کے بعد قندھار شہر کے ایک پولنگ سٹیشن پر دھماکہ ہوا۔  اس دھماکے میں متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کچھ پولنگ سنٹرز پر انتخابی عمل تعطل کا شکار ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کا عمل تین پولنگ سنٹرز پر بند کردیا گیا ہے جبکہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ دیگر چار سنٹرز پر انتخابی عمل کا انعقاد کیا جا سکے گا یا نہیں۔  اس سے قبل یہ کہا گیا تھا ملک بھر میں پانچ ہزار سنٹرز ووٹنگ کے لیے کھلے رہیں گے۔

انتخاب میں دو مرکزی امیدوار موجودہ افغان صدر اشرف غنی اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ ہیں۔ دونوں سنہ 2014 سے اقتدار میں شراکت دار ہیں۔ آزاد الیکشن کمیشن کے ترجمان ذبیح سادات نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا  ہے کہ پورے ملک میں ووٹنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ عوام پہلے ہی پولنگ مراکز میں بڑی تعداد میں اپنے ووٹ دینے کے منتظر ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی اور افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ دونوں پر اقتدار میں رہتے ہوئے کرپشن کے الزامات ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق ملک میں بے روزگاری کا تناسب تقریباً 25 فیصد ہے اور تقریبا 55 فیصد افغان عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔