بھارت درحقیقت ہندو توا کا پرچار کر رہا ہے: پاکستان
- اتوار 29 / ستمبر / 2019
- 5490
پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت 30 سال سے جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ سیکولرازم کا دعویدار بھارت درحقیقت ہندوتوا کا پرچار کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفارتی مشن کے اہل کار ذوالقرنین چھینہ نے ہفتے کی شام 'رائٹ ٹو رپلائی' کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریے پر کاربند ہے۔ اس نظریے کے تحت بھارت میں ہندوؤں کے علاوہ کسی مذہب کے ماننے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
ذوالقرنین چھینہ کا کہنا تھا کہ اسی نظریے کے پیروکاروں نے 1948 میں مہاتما گاندھی کا قتل کیا اب یہی نظریہ جموں و کشمیر میں نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذوالقرنین چھینہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادھو کو گرفتار کیا۔ کلبھوشن یادھو نے اعتراف کیا کہ وہ بلوچستان اور کراچی سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خطاب کے بعد بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں 'رائٹ ٹو رپلائی' کا حق استعمال کرتے ہوئے عمران خان کی تقریر کو نفرت انگیز قرار دیا تھا۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ کی افسر ودیشا میترا نے کہا تھا کہ عمران خان کی تقریر ایک مہم جو کی تقریر تھی۔ جس میں خون، ہتھیاروں اور نسلی تعصب کی باتیں کی گئیں جن کی 21 ویں صدی میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے ایٹمی جنگ کی دھمکی دے کر خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا عندیہ دیا۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 50 منٹ تک خطاب میں موسمیاتی تبدیلیوں، اسلامو فوبیا، منی لانڈرنگ اور جموں و کشمیر کی صورتِ حال پر اظہار خیال کیا تھا۔
بھارت کی جانب سے پانچ اگست کو اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرکے اسے یونین کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ بھارتی اقدامات کو پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے معاملہ سیکورٹی کونسل میں اٹھایا تھا۔ بھارتی حکومت کشمیر سے متعلق اقدامات کو اندرونی معاملہ قرار دیتی ہے۔