پاکستان میں 5 سال کے دوران سیاحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ

  • سوموار 30 / ستمبر / 2019
  • 4360

پاکستان کے ثقافتی اور سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی تعداد میں گزشتہ 5 برسوں میں 315 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں پنجاب میں سب سے زیادہ سیاحوں کی آمد میں  95 فیصد  اضافہ ہؤا۔

گیلپ پاکستان کی ’پاکستان میں ثقافتی ورثے اور عجائب گھروں کے دورے‘ نامی رپورٹ میں اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا کہ سیاحت ملک کی معیشت کی بہتری میں ایک ممکنہ گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے۔ رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سیاحتی اور ثقافتی مقامات پر سیاحوں کی آمد میں 2014 سے اضافہ ہوا اور یہ تعداد 16 لاکھ سے 317 فیصد بڑھ کر 2018 میں 66 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔

اس میں سب سے زیادہ 95 فیصد سیاح ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں آئے جبکہ ان برسوں میں خیبرپختونخوا اور سندھ میں سیاحوں کی تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہی۔ اسی طرح عجائب گھروں کا دورہ کرنے والے سیاحوں کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ  تعداد 2014 میں  17 لاکھ افراد سے بڑھ کر 2018 میں 27 لاکھ ہوگئی۔

اسی طرح پاکستان میں ثقافتی مقامات او عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں بھی دوگنا ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5برسوں میں میوزیم آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 130 فیصد جبکہ غیر ملکی سیاحوں کے دورے میں 100 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں یہ اضافہ چاروں صوبوں میں دیکھا گیا تاہم خیبر پختونخوا اس حوالے سے سرِ فہرست رہا جہاں 2018 میں عجائب گھروں کے دوروں میں 250 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق لاہور کا شاہی قلعہ سیاحوں میں سب سے مقبول ثقافتی مقام رہا، جس کے بعد سال 2016 اور 2018 میں شالیمار گارڈن سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا مقام تھا جبکہ 2017 میں سیاحوں نے سب سے زیادہ شیخوپورہ کے ہرن مینار کی سیر کی۔

دوسری جانب غیر ملکی سیاحوں میں 2016 اور 2017 میں لاہور میوزیم سب سے زیادہ مقبول رہا تاہم 2018 میں ٹیکسلا میوزیم وہ مقام تھا جہاں سب سے زیادہ سیاح سیر کے لیے گئے۔