6 ماہ میں 50 خواتین، 28 مرد کاروکاری پر قتل

  • سوموار 30 / ستمبر / 2019
  • 7680

سندھ کے دیہی علاقوں میں نام نہاد غیرت یا کارو کاری کے نام پر قتل کے واقعات بلاروک ٹوک جاری ہے۔  رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران 70 سے زائد لوگ اس رسم کی وجہ سے ہلاک کئے گئے۔

بیشتر کیسز میں تحقیقات بے نتیجہ رہیں اور کسی کو بھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ سرکاری اعداد و شمارکے مطابق جنوری سے جون 2019 تک سندھ کے مختلف حصوں میں  78 لوگ قتل ہوئے جبکہ کاروکاری کے جرم میں 65 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ ان میں سے 90 فیصد کیسز مختلف وجوہات کے باعث زیرالتوا ہیں۔ زیادہ تر کیسز میں پولیس کی تحقیقات کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی۔

ذرائع نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان 78 متاثرین میں سے 50 خواتین اور 28 مرد ہیں۔ سندھ کے  مختلف حصوں میں غیرت کے نام پر قتل کی کُل 65 ایف آئی آر درج ہوئیں اور ان میں سے 60 کیسز میں چارج شیٹ فائل کی جاچکی ہے۔  تاہم اب بھی 57 مقدمات زیرالتوا ہیں اور کسی کیس میں کوئی سزا نہیں ہوئی۔

آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام کی زیر صدارت حالیہ اجلاس میں غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں تحقیقات سے متعلق پولیس کے تنظیمی ڈھانچے میں تشویش پائی گئی۔ گزشتہ ماہ آئی جی کلیم امام نے کاروکاری سے متعلق تفتیش میں پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیا تھا۔

دوسری جانب سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل نے تفتیش کاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبے بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے کیسز میں سزا اور رہائی سے متعلق ہر کیس کی بنیاد پر تفصیلی رپورٹ تیار کریں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو  ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تفیتش میں کوئی خامی نہ رہے اور عدالتوں کے سامنے بھی اس کو مناسب طریقے سے پیش کیا جائے۔

اسی اجلاس میں ڈی آئی جی سکھر کو کہا گیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیں اور ان کی مشاورت سے ایک مسودہ تجویز دیں تاکہ کاروکاری کی لعنت کو ختم کرنے میں مدد ملے۔

حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی کوششوں کے باوجود یہ گھناؤنا رجحان جاری ہے۔  پولیس کے لیے اس طرح کے قتل کی موثر طریقے سے تفتیش کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر معاملات میں متاثرین اور ملزمان ایک ہی خاندان یا قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز عبدالخالق شیخ کا کہنا تھا کہ 'غیرت کے نام پر قتل ایک سماجی مسئلہ ہے اور اس کی جڑی اس قبائلی ثقافت اور ذہنیت میں موجود ہیں، جہاں خواتین کو مردوں کے تابع سمجھا جاتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'معاشرے میں خواتین کو بااختیار بنانے اور اس طرح کی ذہنیت کی تبدیلی میں ایک طویل مدتی حل ضروری ہے۔ پولیس نے غیرت کے نام پر قتل سے نمٹنے کے لیے کئی مفید اقدامات اٹھائے ہیں'۔