ایران کے ساتھ جنگ عالمی معیشت کیلئے تباہ کن ہوگی: سعودی ولی عہد
- سوموار 30 / ستمبر / 2019
- 4440
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ایران سے جنگ کے نتیجے میں عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ وہ علاقائی حریف کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے غیر فوجی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
گزشتہ روز سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ ’ اگر دنیا ایران کو روکنے کے لیے مستحکم اور ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو آنے والے وقت مین مزید کشیدگی پیدا ہوں گی جس سے عالمی مفادات کے لیے خدشات پیدا ہوں گے‘۔
سعودی ولی عہد نے کہا کہ تیل کی فراہمی متاثر ہوگی اور تیل کی قیمتیں ناقابل تصور بلند ترین سطح تک پہنچ جائیں گی جو ہم نے اپنی زندگی میں پہلے نہیں دیکھی ہوں گی۔ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہ خطہ عالمی توانائی کی 30 فیصد فراہمی، 20 عالمی تجارتی گزرگاہوں، دنیا کی 4 فیصد مجموعی پیداوار کی نمائندگی کرتا ہے۔ تصور کریں کہ یہ تینوں چیزیں رک جائیں تو کیا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس جنگ سے صرف سعودی عرب یا مشرق وسطیٰ کے ممالک ہی کی نہیں بلکہ عالمی معیشت تباہ ہوجائے گی۔
محمد بن سلمان نے کہا کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب کے تیل کے مراکز پر کیا جانے والا حملہ احمقانہ تھا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب اور امریکا نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کیا تھا جس کے نتیجے میں سعودی عرب کے تیل کے ذخائر کو نقصان پہنچا تھا۔
سعودی ولی عہد نے کہا کہ ’ اس کا کوئی اسٹریٹیجک مقصد نہیں تھا۔ کوئی بیوقوف ہی عالمی سپلائز کے 5 فیصد پر حملہ کرے گا۔ اس کا واحد اسٹریٹیجک مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ بیوقوف ہیں اور انہوں نے ایسا کیا۔
انٹرویو کے دوران محمد بن سلمان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے گزشتہ برس اکتوبر میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور لاش کے ٹکڑے کرنے کا حکم دیا تھا؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ’ ہرگز نہیں، یہ ایک گھناؤنا جرم ہے لیکن میں سعودی عرب کا لیڈر ہونے کی حیثیت سے اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ قتل سعودی حکومت کے لیے کام کرنے والے افراد نے کیا تھا‘۔ سعودی ولی عہد نے کہا کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل سے لاعلم تھے۔