وزیر اعظم عمران خان کا کمال
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 30 / ستمبر / 2019
- 4520
وزیر اعظم عمران خان نے حقیقی معنوں میں خود کو عالمی سطح پر ایک بڑے سیاسی مدبراور فہم وفراست پر مبنی راہنما کے طور پر پیش کرکے عالمی پزیرائی حاصل کی ہے۔انہوں نے اس دعویٰ کو سچ کردکھایا کہ وہ خود کو کشمیر کے سفیر بنیں گے۔
بطوروزیر اعظم اس قدر متحرک اور فعال کردار کی ماضی میں ہمیں کوئی نظیر نہیں ملتی او ریہ ہی وجہ ہے کہ دیگر عوامل کے علاوہ وزیر اعظم کی کشمیر پر مضبوط سیاسی کمٹمنٹ نے اس وقت اس مسئلہ کی بین الااقوامی حیثیت کو اس حد تک متحرک کردیا ہے۔ یہ دنیا ے اہم یجنڈاے میں شامل ہوچکا ہے۔ اگرچہ ہمیں فوری طور پر کشمیر کے تناظر میں کوئی بڑے نتائج نہ مل سکیں، مگر اب دنیا آسانی سے اس مسئلہ کو نظر انداز نہیں کرسکے گی۔
وزیر اعظم عمران خان کا یو این او کے اجلاس سے تاریخی خطاب، مختلف ملکوں کے سربراہان اور وزرائے خارجہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقاتیں، مختلف فورمز پر مدلل اور دوٹوک انداز گفتگونے مسئلہ کشمیر کے مسئلہ کو نہ صرف پرجوش بنادیا ہے بلکہ بھارت کو عملی طور پر دفاعی پوزیشن پر کھڑا کردیا ہے۔اس دورہ امریکہ میں دنیا، میڈیا او رمختلف پالیسی ساز تھنک ٹینک کی توجہ کا مرکز مودی نہیں بلکہ وزیر اعظم عمران خان کی شخصیت تھی۔یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ ماضی میں سفارت کاری اور ڈپلومیسی کا محاذ وہ نتائج نہیں دے سکا جو ہمیں درکار تھی۔لیکن عمران خان نے بطور وزیر اعظم خود کو ایک بڑے سفارت کار یا قائد کے طو رپر پیش کرکے سفارت کاری کے پورے شعبہ کو متحرک کردیا ہے۔
پچاس منٹ تک ان کے بے لاگ خطاب نے ان کے سیاسی مخالفین کو بھی حیران کیا ہے جو ان کو نہ تو سیاست دان مانتی ہے اور نہ ہی ان کو منتخب وزیر اعظم۔لیکن اس کے باوجود جو عالمی پذیرائی عمران خان کو ملی ہے اس نے واقعی پاکستان کی ایک نئی تصویر دنیا کے سامنے اجاگر کی ہے کہ ہم درست سمت میں کھڑے ہیں۔اگرچہ بھارت دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور دنیا کے ساتھ اس کے بہتر او رموثر تعلقات بھی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس وقت بھارت پر داخلی اور خارجی محاذپر دباؤہے۔ عملی طو رپر نریندر مودی ایک دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان جانتے ہیں کہ بھارت پر دباؤ ہے او راس دباؤ کو اور زیادہ بڑھانا ہے او ریہ دباؤ کیسے بڑھایا جائے گا اس کی حکمت عملی بھی ان کے ذہن میں ہے۔
جو لوگ ڈھٹائی سے کہہ رہے تھے کہ مودی نے آئین کی شق370اور35-Aکو ختم کرکے برتری حاصل کرلی ہے او راب کچھ نہیں ہوسکے گا۔اول یہ سمجھنا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک محض ان شقوں کی بنیاد پر کھڑی ہے تو اس سے زیادہ مضحکہ خیز تجزیہ نہیں ہوسکتا۔عملی طور پر ہمیں تو نریندر مودی کو داد دینی ہوگی کہ اس کے انتہا پسند اقدامات نے مسئلہ کشمیر کی حیثیت کو ایک نئے او رمضبوط انداز میں دنیا کی نظروں کے سامنے پیش کیا ہے جو کشمیر کی آزادی کے حق میں جاتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ جس انداز سے مسئلہ کشمیر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔یہ عمل پاکستان کے او رکشمیر کے حق میں جاتا ہے، لیکن یہ کامیابی کی ابتدا ہے، ہمیں ابھی سیاسی، سفارتی محاذ پر بہت کچھ کرنا ہے اور یہ کام تسلسل او رکسی بڑی سیاسی حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔
بنیادی طور پر وزیر اعظم عمران خان نے کامیاب سفارت کاری سے مسئلہ کشمیر کے حل کی بال اقوام متحدہ، امریکہ سمیت دنیا، حکمران طبقات، میڈیا اور پالیسی ساز یا تھنک ٹینک اداروں کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔ ان کے بقو ل دنیا او رحکمران طبقات کوطے کرنا ہوگا کہ اسے منافع کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہے یا اس کے سامنے انسانیت کا ایجنڈا سرفہرست ہوگا۔ان کا یہ کہنا اہم ہے کہ کشمیر میں انصاف یا سو ا ارب لوگوں کی مارکیٹ میں سے دنیا ایک کا انتخاب کرے ۔عمرا ن خان نے مطالبہ کیا کہ فوری کرفیو کا خاتمہ، تمام قیدی رہا اور عالمی برادری کو کشمیریوں کا حق خود ارادیت دینا ہوگا۔اسی طرح انہوں نے مودی او رآر ایس ایس کا باہمی گٹھ جوڑ بھی خوب اجاگر کیا او رکہا کہ مودی آر ایس ایس کا رکن ہے جو کہ ہٹلر او رمسولینی کے نظریے پر چلتی ہے،یہ نظریہ مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت انگیز برتاؤ کرتا ہے۔ پہلی بار دنیا میں جس انداز سے عمران خان نے آر ایس ایس اور بھارتی حکومت کا باہمی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا وہ بہت سے لوگوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ مودی کی سیاسی ذہنیت کیا ہے اور وہ کسی تکبر کا شکار ہیں۔
اسی طرح انہوں نے دنیا کے سامنے اسلام کا مقدمہ بھی خوب لڑا او ربنیادی نکتہ یہ اٹھایا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا او راس کو دنیا ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اسلام کے ساتھ جوڑ کر اسلامی دنیا میں ایک سخت ردعمل پیدا کررہا ہے۔اگرچہ عمران خان کوئی عالم دین نہیں لیکن ان کا مذہب پر فکر کسی عالم دین سے کم نہیں تھی۔ان کی یہ بات بجا ہے کہ مغرب کی بہت سی پالیسیوں او رطرز عمل نے مسلمانوں میں ردعمل کی سیاست کو تقویت دی او ریہ ہی عمل انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سبب بھی بنا ہے۔ ان کے بقول مغربی راہنماؤں کی متضاد باتوں سے مسلم دنیا میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں او راسی طرح اگر دنیا میں خونریزی ہوگی تو اس کی وجہ اسلام پسندی نہیں بلکہ عدم انصا ف کی سیاست ہوگی۔
عمران خان نے درست دنیا کو انتباہ کیا کہ اگر دو ایٹمی ملکوں میں جنگ ہوگی تو یہ محض دو بارڈر تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا او رخطہ کی سیاست پر بھی پڑیں گے۔ ان کے بقول وہ کوئی دنیا کو دھمکی نہیں دے رہے بلکہ جو دنیا میں خوف ہے اس کو اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اس جنگ کو ہر سطح پر روکا جاسکے۔انہوں نے ان تمام کوششوں کوبھی دنیا کے سامنے پیش کیا جو وہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے حوالے سے کرتے رہے تھے مگر ان کے بقول ان کی امن پسندی کو مودی حکومت نے کمزوری سمجھا اور خطہ کو جنگی ماحول میں بدلا ہے او راگر واقعی جنگ ہوگئی تو اس کے نتائج پوری دنیا بھگتے گی۔
جو لوگ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے اجلاس اور وزیر اعظم کی تقریر سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ایسا نہیں ہے۔ اس سفارتی کامیابی کو ہمیں چار تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ اول مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کی بحالی، دوئم مودی حکومت پر دنیا او ربالخصوص میڈیا او رتھنک ٹینک سمیت انسانی حقوق کے اداروں کا کشمیر کے تناظر میں دباؤ، سوئم دنیا میں پاکستان کے موقف کی پزیرائی۔ چہارم خود بھارت کے اندر سے مودی کشمیر پالیسی کی مخالفت بالخصوص وہ لوگ کل تک کشمیر میں بھارت نواز پالیسی کا حصہ تھے، وہ اب مخالف کیمپ کا حصہ ہیں۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مودی حکومت کشمیر پر موجود ہ پالیسی کو لمبے عرصے تک برقرار رکھ سکے وہ غلطی پر ہیں او ر اب مودی سرکار کو کوئی متبادل راستہ تلاش کرنا ہوگا جو کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔
بعض لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا بنیادی نکتہ کشمیر نہیں تھا بلکہ وہ اور موضوعات میں بھی الجھے رہے ہیں۔ جب کہ اگر ان کے پورے دورہ امریکہ کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں مسئلہ کشمیر سرفہرست تھا او رپھر انہوں نے جو دیگر موضوعات بھی اٹھائے ہیں ان کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ دنیا میں ہمیں جس منفی انداز سے پیش کیا جارہا تھا اس کا جواب دینا بھی ضروری تھا۔
عمران خان کے خطاب نے پاکستان کو مجموعی طو رپر ایک بڑی امید بھی دی ہے او رپاکستان کے مثبت تشخص کو بھی بحال کیا ہے۔ان کی اقوا م متحدہ کے اجلاس سے کی گئی تقریر کی گونج کافی دنوں تک دنیا میں محسوس کی جاتی رہے گی اور یہ ہی ہماری بڑ ی سفارتی کامیابی ہے۔ ہم نے دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑا بھی ہے اور چیلنج بھی کیا ہے اوراسی بنیاد پر ہم سرخرو ہوسکتے ہیں۔