ملیحہ لودھی کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟

  • منگل 01 / اکتوبر / 2019
  • 7340

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹا کر اُن کی جگہ منیر اکرم کو مستقبل مندوب تعینات کردیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی پاکستانی دفتر خارجہ نے بڑے پیمانے پر مختلف ممالک میں تعینات سفیروں اور قونصل جنرلز کے عہدوں میں بھی رد و بدل کیا ہے۔  وزیرِ اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں خطاب اور دورہ امریکہ سے واپسی کے صرف ایک دن بعد ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی سبکدوشی کے اقدام کو بڑا فیصلہ قرار دیا جارہا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے وزارتِ خارجہ میں نئی تعیناتیوں کی منظوری دی ہے۔  ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق ڈائریکٹر جنرل برائے اقوام متحدہ خلیل احمد ہاشمی کو جنیوا میں مستقل مندوب تعینات کیا گیا ہے جبکہ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری محمد اعجاز کو ہنگری، احسن کے کے کو مسقط اور سید سجاد حیدر کو کویت میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ٹورنٹو میں تعینات قونصلر جنرل عمران احمد صدیقی کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں ڈھاکہ میں ہائی کمشنر مقرر کر دیا جب کہ اُن کی جگہ عبدالحمید کو پاکستانی سفارت خانے میں قونصل جنرل تعینات کیا ہے۔ میجر جنرل (ر) محمد سعد خٹک سری لنکا میں ہائی کمشنر بن گئے ہیں جبکہ ابرار حسین ہاشمی کو ہوسٹن میں قونصل جنرل تعینات کیا گیا ہے۔

ملیحہ لودھی کے خلاف سوشل میڈیا پر گزشتہ دو تین ماہ سے  مہم چل رہی تھی جس میں ان کے بیٹے فیصل شیروانی کی اہلیہ کو مبینہ طور پر ایک بھارتی خاتون بتایا گیا اور ان کے خاندان کے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی مراسم بتائے گئے تھے۔

ملیحہ لودھی نے اپنے خلاف چلنے والی مہم کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد امریکہ میں ہی ایک تقریب کے بعد ایک شخص کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی جس میں وہ ملیحہ لودھی سے ان کی کارکردگی پوچھ رہے تھے اور پاکستانی اسٹاف اس شخص کو روک رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر میحہ لودھی کے خلاف باتیں کی جارہی تھیں اور ان کی فراغت کے بعد کئی افراد نے ٹوئٹس بھی کیے ہیں۔  سینئر صحافی شاہین صہبائی نے ایک ٹوئٹ میں ملیحہ لودھی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سینئرز اور جونیئرز کی بے عزتی کرتی  ہیں۔ وہ بہت زیادہ اپنی ذات کے اندر رہنے والی خاتون ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اُنہیں بہت برداشت کیا اور پھر وہی کیا جو اُنہیں کرنا چاہیے تھا۔

ملیحہ لودھی پر تنقید کرنے کے علاوہ بعض افراد نے ان کی تعریف بھی کی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود نے ملیحہ لودھی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے بہت بااعتماد اور قابل احترام انداز میں ملک کی نمائندگی کی۔

ملیحہ لودھی نے لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کی۔ پاکستان واپسی کے بعد دو اخبارات کی ایڈیٹر بھی رہیں۔  ملیحہ لودھی 'پاکستان انکاؤنٹر ود ڈیمو کریسی' کی مصنفہ  ہیں۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی خدمات پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھا۔ پہلی مرتبہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں سال 1994 میں انہیں امریکہ میں پاکستانی سفیر تعینات کیا گیا اور پھر 1999 سے 2002 تک امریکہ میں سفیر رہیں۔

ملیحہ لودھی سال 2003 سے 2008 تک لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کے طور پر فرائض سر انجام دیتی رہی ہیں۔ 2015 میں ان کا تقرر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے حیثیت سے کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ میں تعینات ہونے والے نئے مستقل مندوب منیر اکرم سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت 2002 سے 2008 تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔  بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد اقوام متحدہ سے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے بعض امور پر منیر اکرم کے پیپلز پارٹی کی حکومت سے اختلافات ہوئے جس کے بعد اُنہیں اس عہدے سے ہٹایا گیا۔

منیر اکرم کی تعیناتی کو ابھی محض چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ اُن کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔  2003 میں ان کی مبینہ گرل فرینڈ کی طرف سے ان کے خلاف تشدد کے الزامات کے تحت دائر کیے جانے والے کیس کو لے کر باتیں کی جارہی ہیں۔ اس کیس میں  سفارتی استثنیٰ کے باعث کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

صحافی طحہ صدیقی نے ان کے اسی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ٹوئٹ کی اور کہا کہ منیر اکرم جنگ کو بڑھاوا دینے والوں میں سے ہیں۔