گھر کے چولہے اور جنازے

جنازہ گھر سے اٹھے اور چولہا گھرکا بجھے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دکھ کیا ہوتا ہے۔ صدمہ کیا ہوتا ہے اوربے روزگاری کیا ہوتی ہے ۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے روزنامہ دنیا ملتان کے بارے میں جو افواہیں چل رہی تھیں اور جو کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا تھا اور اس پر ہمارے بعض آسودہ حال صحافیوں کا جو طرز عمل تھا، وہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوس ناک تھا ۔ میں صحافیوں کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نےاس شہر میں صرف ایک یا دو اخبارات کی اجارہ داری دیکھی ۔جس نے مختلف اوقات میں ملتان کےآٹھ اخبارات میں‌مختلف عہدوں‌ پر کام کیا ، جسے ملتان کے چاراخبارات کی بانی ٹیم میں‌شامل ہونے کا اعزازبھی حاصل ہوا۔ اور جسے مختلف اخبارات سےاپنے بقایاجات بھی آج تک وصول نہیں ہوئے ۔

میری نسل کے لوگوں ‌کے لئے یہ بہت اطمینا ن کی بات تھی کہ ملتان میں نئے اخبارات آنے سے جہاں‌مسابقت کاجذبہ پیداہؤا، وہیں کارکنوں‌کے حالات کار بھی بہترہوئے۔ اوران پر رزق کے نئے دروازے کھلے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے سفر کا جہاں‌سے آغازکیاتھا، معاملات اب واپس اسی مقام پرجارہے ہیں۔ کارکنوں‌کو پہلے بھی بیک جنبش قلم بے روزگارکیاجاتا تھااب بھی ویساہی ہوا۔ فرق صرف اتناہے کہ ہمیں‌بقایاجات بھی نہیں‌ملتے تھے جس ادارے میں‌جتنی بھی تنخواہ واجب الاداہوتی تھی ہم وہیں‌ چھوڑ کر آگے چلےجاتے تھے۔ چلو اب یہ توہوا کہ دنیا جیسےاخبار نے جس کی ادائیگیوں ‌کے بارےمیں‌شہرت اتنی اچھی بھی نہیں، اپنے کارکنوں‌کو اضافی تنخواہیں اورپراویڈنٹ‌فنڈدے کر رخصت کیا ۔

اس کافائدہ صرف یہ ہوگا کہ یہ کارکن دوچارماہ میں‌متبادل روزگار کابندوبست کرنے کے قابل ہوجائیں گے لیکن جنہیں صحافت کے سوا کوئی اورکام ہی نہیں آتا، ان کاکیابنےگا؟ اس سوال کاجواب توکسی کے پاس بھی نہیں ۔اس بحران کی زد میں ہمارے بہت سے دوست آ چکے اور کل ہماری اور آپ کی بھی باری ہو سکتی ہے ۔

صحافتی تنظییمں اتنی کمزور ہو چکی ہیں کہ ان کی افادیت ہی باقی نہیں‌رہی ۔ ان کے بیشتر عہدیدار، مالکان کے نمائندے ہیں اور انہی کے مفاد کو کارکن کا مفاد سمجھتے ہیں ۔

ہم بے بس لوگ اس پر صرف کڑ ھ سکتے ہیں ۔ مالکان کو برا بھلا کہہ سکتے ہیں‌اوراچھے مسلمان کی حیثیت سے ہر کام کی طرح اس میں سے بھی اللہ کی مصلحت تلاش کر کے اس پر کا شکر ادا کر سکتے ہیں‌کہ اس کے ہر کام میں یقیناً بہتری ہوتی ہے۔ جیسے کچھ عرصہ قبل دنیا اخبار کے کارکنوں نے ہی اپنی تنخواہیں کم ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ ان کی نوکری اس وقت بچ گئی تھی ۔

اس ساری صورتحال سے حکومت کو بری الذمہ قرار دینے والوں سے بس ایک سوال ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ 70 برس سے شائع ہونے والے ادارے ایک ایک کر کے موجودہ دور حکومت میں ہی بند کئے جا رہے ہیں‌۔ حکمران اگرچاہیں تومالکان کا احتساب کرکےڈاؤن سائزنگ روک سکتے ہیں‌۔ جیسے ناپسندیدہ اینکرز کی ملازمت ختم کرائی جاتی ہے، اسی طرح کارکنوں کا روزگار بچانا بھی حکومت کے لئے مشکل تو نہیں۔ لیکن اصل ضرورت تو یہ ہے کہ آوازوں‌کو ختم کیا جائے لفظوں‌ اور حرفوں‌ کو ختم کیا جائے اور یہ جو آزادی اظہار کا شور مچاتے ہیں انہیں‌ان کی اوقات یاد دلائی جائے۔

حکومت اس مقصد میں کامیاب ہے ۔ دوستوں کے بے روزگار ہونے کا دکھ اپنی جگہ لیکن مسئلہ کشمیر کے بعد آزادی صحافت کا دیرینہ مسئلہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے پر ہمیں حکمرانوں کو مبارک باد تو دینی چاہیئے ۔