بہتانستان کا آئیندہ حکمران کون ہوگا؟
- تحریر صہیب اقبال
- جمعرات 03 / اکتوبر / 2019
- 7690
قارئین آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل آپ کو تحریر "شکر ہے ہم بہتانستان کے باسی نہیں ہیں " میں کوہ قاف کے ایک ملک کے دورے کا احوال بتایا تھا جس میں اور میرے دوست وسیم ناصر وہاں گئے تھے۔
اس بار وہاں جانے کا اتفاق تو نہ ہوسکا لیکن وہاں کے حکمرانوں کی خفیہ ٹیلی فونک گفتگو لیک ہوگئی ہے جس سن کر میں ابھی تک حیران ہوں۔ دراصل عہد قدیم سے لےکر موجودہ حکمرانوں تک کو دیکھیں تو زیادہ تر حکمران بیرونی حملہ آوروں کی بجائے اندرونی سازشوں کے باعث ہی تخت سے اتارے گئے۔
اس ٹیلیفونک گفتگو میں بھی بہتانستان کے حکمران کی اپنے ہی ایک وزیر کے ساتھ سخت گفتگو ہوئی جو لیک ہوکر ہم تک پہنچی ہے۔ تاہم وزیراعظم اور وزیر کا پورا نام لکھنے کی بجائے ان کے نام کے پہلے حروف استعمال کئے گئے ہیں۔ لیجئے پوری گفتگو سنئے:
("ع" حکمران جس نے اپنے وزیر "ش" کو ٹیلیفون کیا )
ع : اسلام علیکم ( غصیلے انداز میں)
ش : وعلیکم السلام ( خوشامدانہ انداز میں )
ع : کیسے ہیں آپ؟
ش : میرے محبوب لیڈر اچھا ہوں آپ کی جانب سے جو ذمہ داری دی گئی ہے اسی میں دن رات محنت کررہا ہوں
ع : جی جی نظر آرہا ہے آپ تو کچھ زیادہ ہی محنت نہیں کررہے آج کل ( سوالیہ انداز میں)
ش : (وزیر صاحب کو آواز سے کچھ تلخی محسوس ہوئی ) جی میرے وزیراعظم میں سمجھا نہیں
ع : مجھے معلوم ہؤا ہے کہ آپ کی نظریں میری کرسی پر ہیں۔ آپ نے تو طاقتور حلقوں جبکہ اپوزیشن کی بھی غیر اعلانیہ حمایت حاصل کرلی ہے۔
ش : ( حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ) وزیراعظم صاحب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں
ع : ش صاحب آپ انتخابات سے قبل کوہ قاف ملک کی بڑی ریاست کے مکھیہ منتری بننے کے خواہشمند تھے لیکن ایک نوجوان نے آپ کو شکست دی۔
ش : (جھنجلاتے ہوئے ) وزیراعظم صاحب اگر آپ یہ قصہ چھیڑ رہے ہیں توسنیے مجھے مجھے منتری بننے کا عندیہ بھی آپ نے دیا اور آپ کے جہاز والے امیر دوست نے اپنا کردار ادا کرکے مجھے شکست سے دوچار کیا
ع : اچھا اس کا مطلب ہے کہ آپ بڑی ریاست کا مکھیہ منتری نہ بننے کا غصہ وفاق پر نکال رہے ہیں۔ اب آپ کی نظریں پردھان منتری یعنی کہ میری کرسی پر ہیں
ش : (غصے میں ) وزیراعظم صاحب آپ جو بھی سمجھیں
ع : مجھے سب معلوم ہے کہ تم رات کی تاریکی میں دارلحکومت سے چند کلومیٹر دور ایک مضبوط ریاستی اداروں کے لوگوں سے ملتے ہو اور میری قابلیت پر انگلیاں اٹھاتے ہو
ش : میں جہاں جاؤں جس سے ملوں یہ میرا استحقاق ہے
ع : اچھا کوہ قاف کے ایک ادارے کے اجلاس میں، ہمارے ملک کے ایک حصے کے بارے میں، جس پر ہمسائی ریاست نے قبضہ کر رکھا ہے، تم نے مجھے مس گائیڈ کیا۔ تم نے کہا ہمارے ساتھ پچاس سے زائد ریاستیں ہیں جبکہ وہاں 47 ریاستیں رکن ہیں اور ہمیں 17 کی حمایت حاصل کرنا تھی۔ تم یہ کام بھہ نہ کرسکے اور قرار داد بھی بروقت جمع نہ کرواسکے۔
ش : وزیراعظم صاحب آپ میری نیت پر شک کررہے ہیں میں نے اس مقبوضہ حصے کے لیے بھرپور آواز اٹھائی
ع : تم نے طاقتور ریاستی اداروں کو ششیے میں اتار لیا ہے اور اب تم میری کرسی چھیننے کے لئے کوہ قاف کے طاقتور ملک میں بھی اپنے آپ کو قابل قبول منوانے میں مصروف ہو۔ اپنے ریاستی اداروں اور اس طاقتور ملک کے گٹھ جوڑ کو میں بھی جانتا ہوں
ش : حضور نہیں جانتا کس نے آپ کے کان بھرے ( چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل جاتی ہے )
ع : بہت جلد تمہارے بارے میں کوئی بڑا فیصلہ کروں گا
ش : جی اچھا ( اس بات پر ش دل میں کہتے ہوئے کہ ہمارے وزیر اعظم کے پاس بڑا تو کیا چھوٹا فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں رہا۔ میری کرسی تو کہیں جاتی نہیں ہاں آپ کی کرسی کا کوئی علم نہیں )
قارئین آپ نے کوہ قاف کی ایک ریاست کے حکمران کی اپنے وزیر کے درمیان خفیہ ٹیلیفونک گفتگو سنی۔ اس حوالے سے کوئی مزید آپ ڈیٹ آئی تو اپ کو ضرور آگاہ کریں گے ۔
(کسی دوسرے ملک یا شخصیت سے مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔ یہ رپورٹ بہتانستان کے حکمرانوں کی خفیہ گفتگو کی بنیاد پر تیار ہوئی ہے)