افغان طالبان کی اسلام آباد میں زلمے خلیل زاد سے ملاقات

  • جمعہ 04 / اکتوبر / 2019
  • 5410

افغان طالبان  کے وفد نے پاکستان میں موجود امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی ہے۔

افغان طالبان کا 12 رکنی وفد ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں اسلام آباد میں موجود ہے۔ وفد نے جمعرات کو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں۔ وفود کی سطح پر دفتر خارجہ میں ہونے والی ملاقات میں پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق افغان طالبان کے وفد نے جمعرات کو ہی امریکی نمائںدۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت سے بھی ملاقات کی ہے۔ زلمے خلیل زاد اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایک ٹوئٹ کے ذریعے امن مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان تقریباً ایک سال تک مذاکراتی عمل جاری رہا تھا۔  گزشتہ ماہ ہی فریقین نے کہا تھا کہ وہ معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق افغان طالبان اور زلمے خلیل زاد کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی جس میں باضابطہ مذاکرات پر بات نہیں ہوئی۔ البتہ فریقین نے اعتماد کی بحالی پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے سینئر حکام کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ طالبان اور زلمے خلیل زاد کی ملاقات کا اہتمام کرانے کے لیے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے جمعرات کو طالبان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان کے مسئلے کا حل افغان عوام کی خواہشات اور افغان قوم کے ذریعے چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افغانستان میں مفاہمت اور مذاکرات کے لیے پاکستان کردار ادا کرتا رہے گا۔