مسئلہ شاید حکمت عملی کا ہے

  • تحریر
  • جمعہ 04 / اکتوبر / 2019
  • 4990

جو پرفارم نہیں کرے گا  وہ گھر جائے گا، امریکہ سے لوٹنے کے فوراٌ بعد اگلے روز وزیر اعظم نے پارلیمانی  پارٹی کے اجلاس میں واشگاف انداز میں اعلان کیا۔ پچھلے کچھ عرصے سے حکومت پر میڈیا، اپوزیشن  حتیٰ کہ  پارٹی کے اندر سے  بھی تنقیدی آوازیں بلند ہو رہی تھیں  کہ گورننس  ڈیلیور نہیں کر پا رہی،   عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی  سوشل میڈیا پر کئی فہرستیں گردش میں آ گئیں۔ خبروں، خواہشوں اور چسکے پر مبنی ان فہرستوں میں کتنی حقیقت ہے، آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔ موجودہ وفاقی کابینہ ایک بھاری بھر کم کابینہ ہے، وزراء کی ایک فوج ظفر موج ہے، مشیران کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے جن میں وہ  ٹیکنوکریٹس  شامل ہیں جو  حکومت کی کابینہ کی صلاحیتوں میں اضافت کے لئے درکار تھے۔ 

 کابینہ کے اجلاس بھی بہت باقاعدگی سے ہوتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم  کے ا یوان میں وعدے کے باوجود کم کم آنے  کی  وجہ بھی یہی بتائی جاتی رہی کہ وہ کابینہ اجلاسوں اور حکومت کے انتظامی امور میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ ایوان میں آنے کے لئے وقت نہیں نکال پاتے۔ اپنی کابینہ کو  مزید پروفیشنل  مدد کی فراہمی کے لئے ٹاسک فورسز  کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر وسیع اور منظم انتظامی بندوبست کے باوجود حکومت کو ڈیلیور کرنے میں کیوں دقت پیش آرہی ہے؟ کیا صرف چند وزراء کی پرفارمنس کی وجہ سے تنقید کا شور و غوغا ہے؟ 

حکومت میں آنے سے قبل  جو  وعدے کئے گئے ان میں نمایاں ترین  معیشت کو ٹھیک کرنے،  بے لاگ احتساب، کرپشن  فری گورننس، اصلاحات اور سادہ طرزِ حکومت جیسے اقدامات کا اعلان تھا۔ مقصود یہ تھا  کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر گورننس کا ایک بہتر اور برتر نمونہ پیش کیا جا سکے جو پیش رو حکومتوں سے اسے نمایاں کر سکے، اس قدر ممتاز کر سکے کہ اس دعوے   کے لئے مزید کسی تصدیق کی ضرورت نہ ہو کہ انہیں ایک بار موقع تو دیں!

عوام نے حکومت سے یہی توقعات رکھیں  جن کا بار بار ان سے الیکشن سے قبل  وعدہ ہو ا  اور حکومت سنبھالنے  کے  بعد بھی مسلسل اعادہ ہوتا رہا۔ پی ٹی آئی کو  مایوس کن  معیشت  کا ورثہ ملا لیکن یہ اس کی  لیاقت کا امتحان بھی تھا۔ ایک سال گزرنے کے بعد اگر مڑ کر پیچھے دیکھا جائے تو تمام  اقدامات حکومت نے اپنی دانست او ر سوچ کے مطابق اٹھائے۔ متبادل آپشنز بھی سہل  نہ تھے اور حالات بھی آسان نہ تھے لیکن جو بھی پالیسی اقدامات حکومت نے اٹھائے، اس  کی ذمہ داری اور نتائج اجتماعی طور پر پوری حکومت اور وزارتوں پرعائد ہوتے ہیں۔ حکومت کی  اکنامک ٹیم ان تمام مشکلات کے دوران  ہوا میں تو کام نہیں کر رہی تھی!

 وزیر اعظم اور کابینہ میں طویل سوچ  بچار اور بحث و تمحیص کے بعد ہی فیصلے  کئے گئے۔ آؤٹ آف باکس  اقدام اٹھانے کا  فیصلہ پوری کابینہ کا تھا،  صرف اس وقت کے وزیر خزانہ کا نہ تھا۔  آئی ایم ایف کے پاس  جانے کی بجائے دوست ممالک  کی مدد سے زرِمبادلہ  ذخائر کو سنبھالا دینے کا فیصلہ تھا یا بالآخر آئی ایم ایف کے پاس جانے اور  استحکام ِ معیشت (Stablization program)  کے لئے شرائط  کو رد کرنے یا  ماننے  کا فیصلہ، سب فیصلے  اجتماعی تھے ۔  طویل بحث و تمحیص کے بعد   ایک پروگرام پر آمادگی کی صورت بنی لیکن  پھر اچانک راتوں رات پوری ٹیم ہی تبدیل کر دی گئی۔ 

جس  آئی ایم ایف پروگرام میں جانے یا نہ جانے اور اس کے خدو خال پر قیمتی وقت  صرف ہوا  اور بحث ہوئی، اکنامک ٹیم تبدیل ہونے کے دو تین دن  بعد   ہی میں یہ  مژدہ سننے کو ملا کہ نئی  اکنامک ٹیم نے آئی ایم ایف کے ساتھ  پروگرام تشکیل  بھی دے ڈالا ہے  اور حکومت کی تمام سیاسی قوت  اور انتظامی بصیرت اس پروگرام کے ساتھ کھڑی ہے۔  اس کے بعد جو ہوا سب کے حافظوں میں محفوظ ہے۔ کیا یہ سب ایک دو انفرادی وزراء کا کیا دھرا تھا؟

نہیں، یقینا نہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی۔ بحران اور مشکلات کے جھکڑمیں  آسان آپشنز کہاں ملتے ہیں۔ ایک طرف چٹان اور دوسری طرف گہری کھائی جیسی صورتحال تھی۔  پروگرام کے خدو خال اور تفصیلات سامنے آئیں تو  اسی وقت بہت سے ماہرین کا ماتھا ٹھنکا کہ اس پروگرام سے پیدا شدہ مشکلات سے معیشت کا چلتا پہیّہ رکاوٹوں میں پھنس سکتا ہے۔ اکنامک ٹیم نے نہایت تیزی سے دستیاب وقت میں بجٹ بنایا، ٹیکس محاصل کے  ناقابل یقین ٹارگٹ  طے کئے۔ زرِمبادلہ کی شرح  مارکیٹ کے حوالے  ہوئی تو ڈالر اور روپے کی شرح  چھلانگیں لگاتے اور دیکھتے دیکھتے  165 تک جا پہنچی۔ بعد ازاں کچھ ٹھہراؤ بھی آیا مگر اس دوران امپورٹ اور ایکسپورٹ کے  روایتی کاروبار کی چولیں ہل گئیں۔ بجلی گیس ٹرانسپورٹ  کے کرائے چند ماہ میں کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔ یہ فیصلے انفرادی وزارتوں کے نہیں تھے اجتماعی تھے لیکن ان فیصلوں کا اثرسب وزارتوں اور عوام پر ہوا۔

بعض  وزراء کی ناتجربہ کاری یا  جوشیلے پن  نے بھی  اپنا رنگ دکھایا لیکن  معیشت اور گورننس  کی اختیار کی گئی حکمت عملی  کا کردار کلیدی رہا ہے۔  آئی ایم ایف پروگرام کے اس قدر سخت خدوخال پر اتفاق تو ہو گیا مگر حقیقی معیشت  کی اس کے لئے تیاری نہ تھی۔ معیشت کو دستاویزی ڈگر پرڈالنے سے کسے اتفاق نہ ہو گا لیکن دِہائیوں کی عادت اور پوری ویلیو چین  کا  ڈھانچہ راتوں رات چند نوٹیفیکیشن سے تبدیل ہونا ممکن تھا اور نہ اس قدر آسانی سے ہورہا ہے۔ اصلاحات کا بہت شہر ہ رہا اور اس کا انتظار بھی رہا۔ کئی مشیر اور سپیشل اسسٹنٹ  بھی اسی کام پر مامور  ہوئے لیکن اصلاحات  کے لئے کمیٹیاں  اور ٹاسک فورسز تو بنیں مگر ابھی تک واضح روڈ میپ تو نہیں آیا۔                             بیوروکریسی  میں صلاحیّت کے فقدان اور اس میں سیاسی رجحان کا ذکر بھی ہوتا رہا بلکہ اس بنیاد پر کئی ایک وزراء نے تو بیوروکریسی کو مطعون بھی کیا لیکن بیوروکریسی میں اصلاحات کا واضح روڈ میپ سامنے نہیں آسکا۔ لے دے کر وفاقی اور پنجاب میں روایتی ڈی ایم گروپ جسے اب ایڈمنسٹریٹو سروسز کہا جاتا ہے، اس کی گرفت پہلے سے بھی مضبوط  ہو گئی ہے۔ پنجاب کی حد تک پولیس ریفارمز  کی شکل یہی سامنے آئی کہ اسے اسی  ایلیٹ ایڈمنسٹریٹو گروپ کی سرپرستی  میں دے دیا جائے۔

                احتساب کا دائرہ اور انداز بھی کچھ ایسا رہا کہ بیوروکریسی  کے ساتھ ساتھ  پرائیویٹ سیکٹر  بھی متاثر ہوا۔ نیپرا جو ایک ریگولیٹر ادارہ ہے  اسے بھی اسی احتساب کے قہر کا سامنا کرنا پڑا جس کا ذکر اس نے اپنی سالانہ انڈسٹری رپورٹ میں بھی کیا۔ احتساب  کسی بھی معاشرے میں ایک غیر محسوس  عمل  کے طور  پر جاری رہتا ہے  لیکن ہمارے ہاں  موجودہ شکل میں جاری احتساب سیاست، معیشت اور گورننس  پر حاوی ہوتا نظر آ رہا ہے۔  سرمایہ کاری اور خوف کا ایک جگہ نباہ  نہیں ہو سکتا۔

وزیر اعظم کا اختیار ہے کہ جب چاہیں اپنی کابینہ میں تبدیلی کریں۔ جو وزراء دانستہ اپنے کام میں میں کوتاہی کے مرتکب ہیں ان سے پرسش ہونی چاہئے، ان کے قلمدان واپس  لینے اور تبدیل کرنے کا انتظامی اختیار بھی  ان کی اپنی صوابدید ہے۔ مگر یہ سوال اپنی  جگہ  غور طلب ہے کہ حکومت پر کی جانے والی زیادہ تر تنقید وزراء کی انفرادی لیاقت یا صلاحیّتوں پر  ہے یا   اس حکمت عملی سے پیدا ہونے والے نتائج  پر ہے جو حکومت نے اجتماعی طور پر اپنائی۔ ایسے میں کابینہ  میں ایک اور اکھاڑ پچھاڑ مسائل کا حل نہیں ہے۔ حکمت عملی پر  دوبارہ غور کی  ضرورت شاید  زیادہ ہے۔