نواز شریف نے جج ویڈیو اسکینڈل میں دلائل سننے کی درخواست دائر کردی

  • ہفتہ 05 / اکتوبر / 2019
  • 5500

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف جج ویڈیو اسکینڈل کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے  استدعا کی ہے کہ دوسرے فریق کو سن کر شواہد کا جائزہ لیا جائے۔

نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل کے ساتھ جج وڈیو اسکینڈل سے متعلق متفرق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروادی۔  اپنے وکیل خواجہ حارث کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں نواز شریف نے موقف اختیار کہ ویڈیو اسکینڈل کیس میں جج ارشد ملک کے بیان حلفی اور پریس ریلیز کو اپیل کا حصہ بنایا گیا جو یک طرفہ کا موقف ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ اس کیس میں دوسرے فریق کو بھی سن کر شواہد کا جائزہ لیا جائے۔

اس کیس کے مرکزی کردار ناصر بٹ نے بھی جج ارشد ملک کے ساتھ ملاقات کی آڈیو اور وڈیو ریکارڈنگ اور اس کی فرانزک رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست دائر کی ہے۔

وکیل نصیر بھٹہ کے توسط سے جمع کروائی گئی اس درخواست میں ناصر بٹ نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کی اپیل کے ساتھ اضافی دستاویزات لگانے کی اجازت دی جائے جن میں جج ارشد ملک سے ملاقات کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ، متعلقہ آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کی فرانزک رپورٹ اور نوٹرائزڈ ٹرانسکرپٹ شامل ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ارشد ملک نے 6 جولائی کی پریس کانفرنس کے نتیجے میں 7 جولائی کو پریس ریلیز جاری کی اور 11 جولائی کو بیان حلفی جمع کروایا جس میں میرے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے اور اپنی ملاقات کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ سے انکار کیا جو غلط ہے۔

ناصر بٹ نے استدعا کی کہ چونکہ عدالت نے ارشد ملک کے بیان حلفی اور پریس ریلیز کو نواز شریف کی اپیل کے ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے، اس لیے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس سے متعلق دیگر دستاویزات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دی جائے۔

العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل اور متفرق درخواستوں پرسماعت 7 اکتوبر کو ہوگی۔