حکومت کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی: مولانا فضل الرحمٰن
- ہفتہ 05 / اکتوبر / 2019
- 4520
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن حکومت کے خلاف نہ ختم ہونے والے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کی یہ جد وجہد حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ان کی جماعت کشمیریوں کے ساتھ یوم سیاہ منانے کے ساتھ ہی اپنے آزادی مارچ کا آغاز کرے گی۔ مولانا کا بتایا کہ انہوں نے احتجاج کے لیے حکمت عمل مرتب کرلی ہے۔ ملک گیر احتجاج 27 اکتوبر کو ہی ہوگا۔
’پورے ملک سے انسانون کا ایک سیلاب آرہا ہے اور اس کا پہلا پڑاؤ اسلام آباد ہوگا جبکہ ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا۔‘ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے موقف کو پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے میں ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے اسے ناکام اور نااہل حکومت قرار دے دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت چھوڑ کر نئے الیکشن کروائے جائیں۔ مولانا کا کہنا تھا کہ 25جولائی 2018کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی، تاہم اب نا اہل اور ناجائز حکومت کو جانا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی حکمت عملی سے متعلق کہا کہ موجودہ حکومت میں روزگار فراہم کرنے کے بجائے اس کے تمام مواقع ہی ختم کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک ڈوب رہا ہے، ہر طرف سے ہم ناکامی کا سفر کر رہے ہیں۔
جے یو آئی ف کے احتجاج میں مدارس کے طلبہ کی شرکت سے متعلق بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مدارس کا ذکر کرکے حکومت بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ امریکا میں کس سے ملاقات کی گئی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کا مدارس والا کارڈ فیل ہوچکا ہے۔ مدارس اس کا اثر نہیں لے رہے۔ مدارس کے طلبہ میں انعامات تقسیم کرکے ہمیں کاؤنٹر کرنے کی کوشش کی گئی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ان کی جماعت اداروں سے تصادم نہیں چاہتی بلکہ ان کا احترام کرتی ہے۔
وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ احتجاج کرنا سیاسی جماعتوں کا حق ہوتا ہے تاہم یہ آزادی مارچ کالے دھن کو وائٹ کرنے کا بہانہ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن سیاست میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مدارس کے بچوں کو چارے کے طور پر استعمال کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ایک مرتبہ یہ بچے شعور کے نظام میں داخل ہوگئے تو ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔