ایل او سی پار عبور کرنے والے بھارتی بیانیے کو مضبوط کریں گے: وزیراعظم

  • ہفتہ 05 / اکتوبر / 2019
  • 4720

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر سے لائن آف کنٹرول  پار کرنے والے بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلیں گے۔ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’مقبوضہ کشمیر میں 2 ماہ سے جاری غیرانسانی کرفیو میں محصور کشمیریوں کے حوالے سے پائے جانے والے کرب کو سمجھ سکتا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں ان کی کی حمایت کی غرض سے جو بھی آزاد کشمیر سے لائن آف کنٹرول پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت،  پاکستان پر ’ اسلامی دہشت گردی‘ کا الزام عائد کرکے بھارت کے ظالمانہ قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر تشدد بڑھانے اور لائن آف کنٹرول کے پار حملہ کرنے کا جواز مل جائے گا‘۔ وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان یھارت کی قید میں موجود حریت پسند کشمیری رہنما یٰسین ملک کی سربراہی میں قائم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے آزاد کشمیر سے ایل او سی کی جانب پُرامن آزادی مارچ کے تناظر میں دیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میں آپ کو بتاؤں گا کہ لائن آف کنٹرول کب جانا ہے۔ پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ مجھے پتہ ہے آپ لائن آف کنٹرول کی جانب جانا چاہتے ہیں لیکن ابھی لائن آف کنٹرول کی طرف نہیں جانا جب تک میں آپ کو نہیں بتاؤں گا، میں آپ کو بتاؤں گا کہ کب جانا ہے۔

گزشتہ روز آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی کال پر مظفرآباد کی جانب گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر مشتمل ریلیوں کا آغاز کیا تھا۔  جے کے ایل ایف نے مقبوضہ کشمیر میں محصور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور عالمی برادری کی توجہ طویل عرصے سے موجود مسئلہ کشمیر کے فوری اور پرامن حل کی جانب مبذول کروانے کے لیے مارچ کا آغاز کیا ہے۔

جے کے ایل ایف کےترجمان نے بتایا کہ ریلی کے شرکا جمعے کی شب کو مظفرآباد میں قیام کریں گے اور 5 اکتوبر کو صبح 10 بجے چکوٹھی سیکٹر کی جانب مارچ کا آغاز کریں گے۔ چکوٹھی سے وہ سری نگر کے لیے لائن آف کنٹرول پار کریں گے۔ ترجمان جے کے ایل ایف  نے انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مارچ میں رکاوٹیں پیدا نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

گزشتہ روز ڈویژنل کمشنر امتیاز، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سردار الیاس اور ایڈیشنل سیکریٹری مسعود الرحمٰن نے پریس کلب کا دورہ کیا تھا اور لوگوں کی حفاظت کے پیش نظر ایل و سی کے نزدیک جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔  ڈویژنل کمشنر چوہدری امتیاز نے کہا کہ بھارتی مظالم کی مذمت کے لیے لوگوں کے جذبات کا اظہار ایک قابلِ تحسین اقدام ہے اور انتظامیہ کو ان کے جذبات کا احساس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’تاہم خدشات ہیں کہ بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کی جانب بڑھنے والے افراد پر شیلنگ کرے گی جس کے نتیجے میں شدید جانی نقصان ہوسکتا ہے‘۔ ڈویژنل کمشنر نے اصرار کیا تھا کہ تمام ریلیوں کے شرکا دشمن کو نہتے شہریوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع نہ دیں۔

رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے پرامن مارچ کے شرکا کو لائن آف کنٹرول سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر چناری کے مقام پر روکنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔