عمران خان کا خطاب اور اسلامو فوبیا
- تحریر افتخار بھٹہ
- ہفتہ 05 / اکتوبر / 2019
- 12590
عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پر اعتماد خطاب کر کے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل جیت لئے۔تقریر پاکستان اور کشمیر میں غور سے سنی گئی۔جن طاقتوں کو خطاب کیا جا رہا تھا انہوں نے بھی تقریر کے مندرجات کو نوٹ کیا۔
کیا اس تقریر کو امریکہ اور بین الاقوامی میڈیا نے کہیں نمایاں جگہ دی ہوگی؟ یہ غیر جانبدار مبصر ہی بتا سکتے ہیں کیا اس تقریر سے اسلام فوبیا میں کچھ کمی آئی ہو گی۔اسلام فوبیا کی اصطلا ح کے موجد مہذب دنیا کے دانشور، یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور تھنک ٹینک شدید اضطراب سے دو چار ہیں۔ امریکہ کی اوپن سو سائٹی نے نشاط ثانیہ، تحریک احیائے علوم اور ماڈرن اور پوسٹ ماڈرن ازم جدید تحقیق اور ایجادات سے مستفید ہونے کے باوجود یورپ اور امریکہ دونوں ہی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی احساسات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایسے ادارے، ٹرسٹ اور این جی اوز جو مسلم دشمن محسوسات کو پروان چڑھاتے ہیں، نفرتیں پھیلاتے ہیں، معاشرے میں بد امنی پیدا کرتے ہیں، خاص مذہبی مسالک کے لوگوں کو جہادی تناظر میں ابھار کر اپنے ہی بھائیوں کے خلاف دہشت گردی اور خود کش دھماکے کرنے کیلئے تیار کرتے ہیں، افغانستان، شام، عراق، لیبیا اور یمن کو برباد کرنے کے بعد دنیا میں امن اور سلامتی کے خواہاں ہیں۔
پاکستان میں طالبان کی قیادت نے پاکستان کی سماجیت امن اور سیاسی کلچر کو تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ اب وہ امن معاہدے کے نام پر پاکستان میں آئی ہوئی ہے۔ پتہ نہیں انہیں مستقبل میں کس حکمت عملی کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے ایٹمی جنگ کے بارے میں ذکر کیا ہے اور کہا دنیا بھارت کے ساتھ تعلقات محض ٹریڈ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر قائم کرے۔ جس میں بھارت کا ریکارڈ خراب ہے جس وقت وہ یہ بات کر رہے تھے، اسی دن اس فورم پر پاکستان نے یمن کے مسئلہ پر سعودی عرب کے حق میں ووٹ ڈالا۔کیا یمن اخلاقی مسئلہ نہیں ہے؟ کیا اس معاملے میں سعودی عرب کا ریکارڈ بہتر ہے؟
اسی طرح خان صاحب نے فرمایا کشمیریوں کو بھارت نے مبحوس بنایا ہوا ہے، میں عمران خان کی اس بات کی حمایت کرتا ہوں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں ایران، ترکی، ملائشیا کے علاوہ کوئی ملک کھل کر ہمارے حق میں کشمیر کے حوالے سے حمایت نہیں کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے ماہر ہیں۔ جب خان صاحب اور ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی تو روایتی اورسوشل میڈیا پر ایسا ہی ماحول تھا جیسا اب ہے خان صاحب نے اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ خان صاحب چھا گئے ہیں خان صاحب واہ۔ خان صاحب ایران کے مسئلے پر ثالثی کریں گے وغیرہ۔ مگر جو نتیجہ چند روز کے بعد آیا جس میں کشمیر کے مسئلے پر امریکہ سے کوئی سفارتی مدد نہ آئی اور نہ ہی فنڈ، جن کا وعدہ کیا گیا تھا، دیا گیا۔ خان صاحب کے اس تقریر سے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ اب چند دنوں میں دیکھ لیں گے۔
اس سے قبل بھی اقوام متحدہ میں کئی لیڈروں نے گرمجوش تقریر کی۔ پاکستانی سیاستدانوں میں سب سے مشہور تقریر ذوالفقار علی بھٹو کی تھی جس میں جذبات، لفاظی اور بھاشن بھی تھا دھمکی بھی تھی۔ ڈاکو منٹ پھاڑے گئے۔ بھٹو صاحب اجلاس چھوڑ کر چلے گئے مگر نتیجہ کیا نکلا؟
اسی فورم سے ضیاء الحق نے تقریر کی جسے پاکستانی میڈیا نے تاریخ ساز قرار دے دیا اور کہا گیا کہ جنرل صاحب نے عالم اسلام کی ترجمانی کی اور اقوام متحدہ اور مغرب کو آئینہ دکھا دیا ہے۔بے نظیر بھٹو میں دانش بھی تھی، لیاقت بھی، اعلیٰ درجہ کی مدبرانہ الفاظی بھی۔1996میں اقوام متحدہ میں کشمیر کے موضوع پر انتہائی خوبصورت تقریر کی مگر کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا۔ اگر پاکستان کے باہر تیسری دنیا کی تقریروں پر نظر ڈالیں جن میں احمدی نژاد، رابرٹ موگابے، کرنل قذافی، صدر صدام حسین، ہیو گو شاویز اور فیڈرل کاسترو شامل ہیں۔ ان کی کیا افادیت رہی؟
ملائشیا کے مہاتیر محمد اور ترکی صدر طیب اردوان جدید عالمی اسلام کے درخشندہ ستارے ہیں۔ دونوں نے اپنے ممالک کی معاشی اور معاشرتی حالت بہتر کی ہے۔ عمران خان نے ان سے ملاقات میں مشترکہ طور پر ٹیلی ویژن نیٹ ورک شروع کرنے کے بارے میں بات کی جس سے اسلام فوبیا بارے میں مغرب کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے متبادل بیانیہ تیار کیا جا سکے۔ یہ ذمہ داری تو او آئی سی کی تھی۔ اس کے چارٹر میں یہ اقدام شامل تھا۔ ایک اسلامی یونیورسٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ اس کے بعد مشترکہ ریڈیو اور ٹی وی کی طرف جانا تھا مگر عرب دنیا اس سے علیحدہ ہو گئی جس نے اسلام سے سب سے زیادہ سیاسی اور مالی مفادات حاصل کیے تھے۔ 9/11کے بعد اسلام فوبیا زیادہ تیز ہوا جس میں عرب ممالک کے نوجوان پیش پیش تھے۔ ان میں کوئی ترک، کوئی افغان، کوئی ملائشیا یا پاکستانی شامل نہیں تھا لیکن اس کا سب سے زیادہ خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑا۔آج مغربی میڈیا کا جواب دینے کیلئے ہمارے پاس کوئی بنیادی ذریعہ اور تھنک ٹینک موجود نہیں ہے جو نظریاتی اور مسلکی تحفظ سے بالا تر ہو کر اپنی غیر جانبدارانہ رائے سے اسلام کے سافٹ آؤٹ لک کو اجاگر کر سکے۔ آج اٹھارہ سال کے بعد اس ٹیلی ویژن کی ضرور محسوس ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کیا اسلام فوبیا کا مقابلہ صرف ٹیلی ویژن سے کیا جا سکتا ہے؟
پاکستان میں ٹیلی ویژن پر جس معیار کے پروگرام پیش کیے جاتے ہیں جن کو دیکھ کر قاری کو ندامت ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں ایک متحرک چینل کا انعقاد خاصا کٹھن دیکھائی دیتا ہے۔ یاد رہے ایسے بین الاقوامی چینلز کیلئے خبریں، رپورٹیں، تجزیے اور پیکج تیار کرنے کیلئے تجربہ کار جہاں دیدہ رپورٹر کی ضرورت ہے جن کا امریکہ اور یورپ کے سماجی تاریخی اور بدلتے ہوئے تناظر میں گہرا تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہو۔ اور وہ سنجیدہ تحقیقات کر سکیں۔ پاکستان، ملائشیا اور ترکی کی یونیورسٹیوں کے سکالر زکے درمیان مطاللعاتی رابطے کی ضرورت ہوگی، مسلمان ممالک کے علاوہ یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں جید اسلامی سکالر موجود ہیں۔ اسلام فوبیا پر یورپ اور امریکہ میں تحقیق ہو رہی ہے زیادہ تر اسے ذہنی مرض قرار دے رہے ہیں۔ اس کا باقاعدہ نفسیاتی علاج تجویز کیا جا رہا ہے۔
عمران خان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خوف ناک خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے ہندو توا کی انتہا پسندی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جس سے بظاہر سیکو لرازم کا نقاب اوڑھ رکھا ہے۔ عمران خان نے سرحد پر در اندازی کو کشمیریوں اور پاکستان سے دشمنی کے مترادف قرار دے کر دوہرے معیار والے بیانیے سے اپنے دامن کو بچا لیا ہے۔ عمران خان نے کشمیریوں کی ممکنہ مزاحمت، بھارتی افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام، پلوامہ طرز کے اشتعال انگیز ڈرامے، ممکنہ جنگ اور نیو کلیئر تباہی کے خدشات کا اظہار کیا۔ اور عالمی برادری کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کروائی ہے۔ ویسے بات چیت کے لئے عمران خان نے شرائط تو عملیت پسندانہ رکھی ہیں کہ کرفیو اور بندشوں کو اٹھایا جائے اور گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے تو پھر بات ہوگی۔ اسی بات کو امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے بھی دوہرایا ہے۔ ہماری دعا ہے بر صغیر میں امن رہے اور کشمیریوں کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہو۔