عراق: حکومت مخالف مظاہروں میں شدت، 99 افراد ہلاک
- اتوار 06 / اکتوبر / 2019
- 5650
عراق کے پارلیمانی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق حکومت کے خلاف پانچ روز سے جاری مظاہروں میں اب تک کم از کم 99 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ نے عراق میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کو ’انسانی جانوں کا بے معنی ضیاع‘ قرار دیتے ہوئے ان کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے عراق کی سربراہ جینین ہینس پلایسچارٹ نے کہا ہے کہ ’اموات اور زخمی ہونے کے پانچ دن، اس کو رکنا چاہیے۔‘ ان کا کہنا تھا جو ان ہلاکتوں کے زمہ دار ہیں انہیں کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
سکیورٹی اور میڈیکل ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں شدت آنے کے سبب ہلاکتوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ بغداد میں 'نامعلوم سنائپرز' نے دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کو ہلاک کر دیا۔ دوسری جانب حکام نے سنیچر کی علی الصبح دارالحکومت بغداد میں دن کا کرفیو ختم کر دیا ہے۔
عراق کے وزیرِ اعظم عادل عبدالمہدی نے اس سے قبل کہا تھا کہ مظاہرین کے 'جائز مطالبات' سن لیے گئے ہیں اور انہوں نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے پرامن رہنے کی اپیل کے باوجود سینکڑوں عراقی جمعے کو سڑکوں پر موجود رہے۔ غیر معینہ مدت کے لیے نافذ کرفیو اور انٹرنیٹ بندشیں بھی مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے میں ناکام رہیں۔
عادل عبدالمہدی کی کمزور حکومت کے اقتدار میں آنے کے تقریباً ایک سال کے اندر ان مظاہروں کو ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کہا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بغداد سمیت ملک کے متعدد شہروں میں منگل کو اچانک بیروزگاری کی بلند شرح، بنیادی سہولیات کی ناگفتہ بہ صورت حال اور شدید بدعنوانی کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔