امریکہ شام میں ترک فوجی کارروائی کی مخالفت نہیں کرے گا: وائٹ ہاؤس

  • سوموار 07 / اکتوبر / 2019
  • 5050

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ ترکی کی جانب سے شام کے شمال مشرقی علاقوں میں مستقبل قریب میں کی جانے والی عسکری کارروائی میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔

یہ اعلان اتوار کی شام وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کیا گیا ہے جو امریکی صدر ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ایک فون کال کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ ترک صدر اردوان کئی ماہ سے شمالی شام میں موجود کرد فورسز کے خلاف عسکری کارروائی کرنے کی دھمکی دے رہے تھے۔

ترکی کرد پیشمرگاہ (وائے پی جی) کو ایک دہشت گرد گروہ سمجھتا ہے اور اسے اپنی سرحد سے ہٹانا چاہتا ہے۔ یہ گروپ شام میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے شانہ بشانہ حصہ لیتا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی دولتِ اسلامیہ کے ان جنگجو قیدیوں کے ذمہ داری بھی اٹھائے گا جنہیں گزشتہ دو برسوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  جنوری میں دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد کرد فورسز پر حملہ کیا تو امریکہ ’ترکی کو معاشی طور تباہ‘ کر دے گا۔  تاہم اتوار کو جاری کردہ اعلامیے میں کرد پیشمرگاہ کے حوالے سے خاموشی تھی جس نے ماضی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق ’امریکہ کی فوجیں اس عسکری کارروائی کا نہ تو ساتھ دیں گی اور نہ ہی اس میں حصہ لیں گی اور کیونکہ امریکی فورسز نے دولتِ اسلامیہ کی علاقائی خلافت کو شکست دے رکھی ہے اس لیے امریکی فورسز اس علاقے میں موجود نہیں ہوں گی۔‘

امریکی حکومت نے بار ہا فرانس، جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک کو دولتِ اسلامیہ کے ان جنگجوؤں کو واپس لینے کا کہا جن میں سے متعدد ان ہی ممالک سے آئے تھے تاہم ان ملکوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے دوران تقریباً 2500 غیر ملکی جنگجوؤں کو پکڑا گیا تھا اور امریکہ چاہتا ہے کہ انہیں یورپ کے حوالے کیا جائے۔

ترک صدر کے آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کے صدور نے اگلے ماہ واشنگٹن میں ملنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ شمالی شام ایک ’محفوظ زون’ بنانے کے حوالے سے بات کی جا سکے۔ ترکی چاہتا ہے کہ وہ 20 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو اس زون میں منتقل کر دے۔ اس وقت ترکی میں تقریباً 36 لاکھ شامی باشندے مقیم ہیں۔