امریکی صدر کے خلاف دوسرا مخبر بھی سامنے آگیا

  • سوموار 07 / اکتوبر / 2019
  • 11360

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرائن کے ہم منصب سے ممکنہ انتخابی حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرنے سے متعلق ٹیلی فون کال کا دوسرا مخبر بھی سامنے آگیا ہے۔

اتوار کو امریکی حکام کے وکیل مارک زید کا کہنا ہے کہ ایک انٹیلی جنس اہلکار کے پاس پہلے مخبر کی طرف سے صدر ٹرمپ پر لگائے گئے الزامات سے متعلق مزید معلومات ہیں۔ جس کے بعد ڈیمو کریٹس نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک شروع کی تھی۔ پہلے مخبر جس نے الزام لگایا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرائن کے صدر کو جو بائیڈن سے متعلق تحقیقات کرنے پر زور دیا تھا۔

بارہ اگست کو انسپکٹر جنرل انٹیلی جنس کمیونٹی مائیکل اٹکنسن کے پاس درج ہونے والی شکایت میں 6 امریکی حکام کی طرف سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گہا تھا کہ امریکی صدر اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخاب سے پہلے دوسرے ملک کی مدد لینے کی کوشش کی ہے۔

امریکی حکام کی طرف سے صدر ٹرمپ پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ امریکی صدر نے یوکرائن کے صدر ولادیمیر زلینسکی کو ایک فون کال کے ذریعے زور دیا تھا کہ وہ ان کے ممکنہ انتخابی ڈیمو کریٹ حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کریں۔ جو بائیڈن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو یوکرائن کی گیس کمپنی میں پرکشش تنخواہ پر ملازمت دلانے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ پر الزام لگایا گیا ہے کہ یوکرائن کے صدر سے تحقیقات کرنے کے بدلے میں اُنہوں نے یوکرائن کو 400 ملین ڈالر کی امداد دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ دوسرے مخبر کے وکیل اینڈریو بکاج نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ 12 اگست کو انسپکٹر جنرل کے پاس امریکی صدر سے متعلق درج شدہ شکایت کے حوالے سے اُن کی کمپنی اور ٹیم متعدد مخبروں کی نمائندگی کرتی ہے۔"

سرکاری وکیل مارک زید کا کہنا ہے کہ مخبر نے انسپکٹر جنرل سے ملاقات میں امریکی صدر سے متعلق درج شدہ شکایت پر بات کی ہے۔ اس کے علاوہ جمعے کو صدر ٹرمپ کی طرف سے بیجنگ سے جو بائیڈن کے بیٹے سے متعلق تحقیقات کرنے کا بھی مطالبہ سامنے آیا تھا۔ جن کے چین کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ دوسرا مخبر سامنے آنے اور امریکی صدر کے بیجنگ سے مطالبے کے بعد ریپبلکن پارٹی کے خدشات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی اسپیکر نینسی پلوسی نے گزشتہ ماہ ان الزامات کی تحقیقات کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مواخذے کی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد صدر ٹرمپ شدید دباؤ میں ہیں اور اتوار کے روز انہوں نے نینسی پلوسی کے بارے میں ٹوئٹ میں کہا کہ ''وہ غداری کی مرتکب ہوسکتی ہیں۔''

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ میں انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نینسی پلوسی ایڈم شف کے جھوٹ اور امریکی عوام کے ساتھ کی جانے والی دھوکہ دہی سے واقف ہیں۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا ہے کہ ایڈم شف نے ثبوت کے بغیر مخبر کی شکایت درج کرانے میں مدد کی ہے۔

دوسری جانب ریپبلکن سینیٹرز مِٹ رومنی، بین سسی اور سوسن کولنز نے اگلے امریکی انتخاب سے پہلے صدر ٹرمپ کی دوسرے ملکوں سے مدد حاصل کرنے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کے روز ہونے والے ٹی وی مباحث میں بعض ریپبلکنز صدر ٹرمپ کی حمایت میں بھی ڈٹے نظر آئے۔

ریپبلکن سینیٹرز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی یوکرائن کے صدر کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں کچھ غلط نہیں تھا۔ جبکہ صدر ٹرمپ کی چین سے کیے جانے والے مطالبے کو مذاق کے طور پر لیا گیا ہے۔