مصر ميں ہندوستانى فلموں كى مقبوليت
- تحریر ڈاکٹر ولاء جمال العسیلی
- جمعرات 10 / اکتوبر / 2019
- 12740
ہندوستانی فلمیں اعلیٰ معیار کی ہوتی ہیں۔ ان فلموں میں ہندوستانی ثقافت کی جھلکیاں بخوبی محسوس کی جا سکتی ہیں۔ ہندوستانی فلم گزشتہ چند دہائی میں بہت سے ممالک تک پہنچ چکی ہے اور اب اس کی نمائش دنیا کے 92 سے زیادہ ملکوں میں ہو رہی ہے۔
عالم عرب میں بھی ہندوستانی فلمیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ مسلسل ان کا چرچا رہتا ہے، ان فلموں کے گانے بھی کافی مقبول ہیں۔ بہت سے خلیجی ممالک میں عام طور پر ہندوستانی فلموں کی شوٹنگ كى جاتى ہے۔
مصر میں ہندوستانی سینما کا ذکر کئے بغیر ہم ہندوستان کو نہیں سمجھ سكتے اور اس کے بارے میں بات کرنا مکمل نہیں سمجھا جاتا۔ بچپن سے ہی میرے اندر ہندوستانی فلموں کو دیکھنے کی چاہت رہى ہے، اُس وقت مصر میں یہ فلمیں صرف عید کے دنوں میں ٹی وی کے پردے پر دکھائی جاتی تھیں۔ اور ہم سب ایک ساتھ انہیں دیکھا کرتے تھے۔ دنیا کے حالات اس قدر دردناک ہیں کہ میں ہندوستانی فلموں میں امید کی کرن دیکھتی ہوں۔ کبھی کبھار فلم کا پیغام بہت متاثر کن ہوتا ہے اور میری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔
آجكل مصر میں بہت سے لوگ خاص طور پر عورتوں کو بھارتی فلمیں اور سلسلہ وار ڈرامے دیکھنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ نئی فلموں کا انتظار ہوتا ہے اور بڑے شوق سے انہیں دیکھا جاتا ہے۔ فیس بُک پر کبھی کبھی نوجوانوں کے پوسٹ پر بھارتی فلمی ستاروں کی تصویریں بھی ہوتی ہیں۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ مصر ميں ہندوستانی فلمی اداکار کتنے مقبول ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اکثر رومانوی ہندوستانی فلموں کو دیکھ کر مصری لڑکیوں کے دلوں کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستانی فلمیں ایک ملک کی نہیں بلکہ ایک تہذیب کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ یہ فلمیں ہندوستانی سماج کی عکاسی ہوتی ہیں۔ ان فلموں کو دیکھنے سے انڈیا کے بارے میں علم میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ان فلموں ميں جن پہاڑوں، ندیوں، مقامات اور کرداروں کو پیش کیا جاتا ہے، ان سب کا تعلق اسی سر زمین سے ہے ۔ فلموں کی وجہ سے گنگا اور جمنا، کرشن اور لکشمی اور ہندوستانى تہذيب بھی ہمارے لئے مانوس بن گئے ہیں۔
مصر کے بیشتر لوگ اردو زبان سے آگاہ نہیں تھے۔ کیونکہ اردو زبان دوسری زبانوں کی طرح کسی خطے کی زبان نہیں ہے۔ اس لئے بہت کم لوگ اس کو جانتے ہیں ۔لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ ہمارے یہاں میڈیا کی وجہ سے اس کا وجود ہے اور بے شمار لوگوں کو اب پتہ چلا ہے کہ اردو اور ہندی ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ ان دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے، فرق صرف رسم الخط کا ہے ۔اس لئے بیشتر ہندوستانی فلموں کے شیدائی ہى یونیورسٹیوں میں اردو ڈپارٹمنٹ میں زبان سيكھنے كے لئے داخلہ لیتے ہیں۔
مصری لوگ ہندوستانى فلموں کے بہت شوقین ہیں۔ ہندوستانی فلمیں بالخصوص تاریخی فلمیں بامقصد ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں ان فلموں کے پیغام سے ناظرین بہت متاثر ہوتے ہیں ۔ موسیقی، لباس، ڈیزائن، رہن سہن اور اداکاروں کی کارکردگی وغیرہ میں دلچسپی ہوتی ہے۔ مصری لوگوں کی پسند کے مطابق اور ان کی مقبولیت اور شہرت کی وجہ سے بھارت کے معروف فنکار امیتابھ بچن نے قاہرہ فلم فیسٹیول کی دعوت پر 1991میں مصر کا دورہ کیا تھا۔
مصر میں ہندوستانی فلموں كی نمائش کے لئے بھارتی سفارت خانہ نے پروڈکشن کمپنیوں کے ساتھ تعاون کر کے کچھ ایسی ہندوستانی فلمیں بھی دکھائی ہیں جن میں مشہور فنکار شامل ہیں۔ يہ بھى قابلِ ذکر ہے کہ تمام فلموں كا عربی میں ترجمہ بھى ہوتا ہے۔ شہور ہندوستانی فلمیں "چینائی ایکسپریس"، " کریش 2" اور "دھوم 3" كافى مقبول ہوئى ہیں- ان فلموں کی نمائش عوامی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور زیادہ مضبوط بناتی ہے۔ میں نے مصری سینما گھر میں "چینائی ایکسپریس" دیکھی تھى۔ اس کے دوران ميں نے كافى تعداد ميں طالب علموں اور یونیورسٹی کے نوجوانوں کو دیکھا جو بڑے شوق سے فلم كو دیکھ رہے تھے جس سے اس بات كا اندازه ہوتا ہے كہ ہندوستانی فلميں مصرى نوجوانوں ميں كافى مقبول ہیں۔
ہميں پتہ ہے كہ مصر کے خوش گوار ماحول کے لحاظ سے ہندوستانى فلميں خاص اہمیت رکھتی ہيں اور اس میں آثار قدیمہ، سیر و تفریح اور تاریخی مقامات دکھائے جاتے ہیں۔ پہلی بار مصر میں 2014 ایک ہندوستانی فلم کی بنائى گئى تھى میں جس کا نام ’ لو ان کیرو‘ تھا۔ مصری وزارتِ سیاحت کے زیر اہتمام مصری سیاحتی مقامات اور قدرتی مناظر میں اس فلم کی شوٹنگ كى گئى تھى۔ مصر كے معروف شہر قاہرہ، اسکندریہ، شمالی ساحل، غردقہ اور لکساور فلم كى شوٹنگ كے لئے كافى مقبول ہيں۔ میرے خیال میں اس طرح مصر كى سیاحت کو فروغ دينے میں مدد ملتی ہے۔
پرانی نسل كے لوگ آج بھی کلاسیکی ہندوستانی فلموں اور اداکاروں کو یاد کرتے ہيں جبکہ نوجوان نسل نئی فلميں ديكھنا پسند كرتى ہے۔غرض عالمی مقبوليت کے لحاظ سے ہندوستانی فلمیں اپنی روایتی حدود سے تجاوز کر گئی ہیں ۔ ہندوستانى فلميں بيشتر ممالک، تہذیب اور زبانوں میں بڑی مقبولیت حاصل كر رہى ہیں۔ عالم عرب میں ا جن لوگوں کو اُردو پڑھنے کا شوق ہے ، ان پر ہندوستانى ڈرامہ اور سینماکا اثر ہوتا ہے ۔مصر میں بھی ہندوستانی فلموں کا چرچہ وسیع پیمانے پر ہے۔ ا ن کی مقبولیت کی سب سے بڑی دلیل ان چینل کی دستيابى ہے ۔
ہندوستانى فلمیں دنیا کے ان مسائل سے متعلق ہوتی ہیں جو عام زندگى کا حصہ ہیں۔ اس لئے ان کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔