الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر: دہشت گردی پر اکسانے کی فرد جرم عائد
- جمعرات 10 / اکتوبر / 2019
- 4520
نفرت انگیز تقاریر سے متعلق کیس میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین پر دہشت گردی کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقاریر سے متعلق تفتیش میں ضمانت ختم ہونے کے بعد الطاف حسین میٹروپولیٹن پولیس کے ساؤتھ وارک پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے تھے۔ نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں الطاف حسین کی یہ تیسری پیشی تھی۔
اس سے قبل 12 ستمبر کو بانی ایم کیو ایم 5 گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں موجود رہے تھے۔ بعد ازاں انہیں ضمانت میں توسیع کرکے جانے دیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو میٹرو پولیٹن پولیس نے 11 جون کو ان کی مبینہ نفرت انگیز تقاریر کی تفتیش کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ تاہم ایک روز بعد ہی برطانوی انتظامیہ نے چارجز فائل کیے بغیر انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا تھا۔
جون 2019 میں الطاف حسین کی گرفتاری پر میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا تھا کہ 60 سال سے زائد عمر کے شخص کو شمال مغربی لندن میں سنگین جرائم ایکٹ 2007 کی دفعہ 44 کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
الطاف حسین کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت حراست میں لے کر جنوبی لندن کے پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان سے پولیس حراست میں تفتیش کی گئی تھی۔ تاہم الطاف حسین کی ایک روز بعد ہی ضمانت پر رہائی کے بعد ایم کیو ایم لندن کے ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ حکام نے ان پر چارجز عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کے لیے اپنی تفتیش جاری رکھیں گے۔
میٹرو پولیٹن پولیس نے کہا تھا کہ یہ تحقیقات 'اگست 2016 میں ایم کیو ایم سے منسلک ایک شخص کی جانب سے پاکستان میں کی گئی تقریر سمیت اسی شخص کی گزشتہ تقاریر کے گرد گھومتی ہے'۔ جون میں پولیس افسران نے لندن کے شمال مغربی حصے میں ایم کیو ایم کے بانی سے منسلک دو جگہوں کی تلاشی لی تھی۔
اس موقع پر پولیس نے کہا تھا کہ ان کے افسران جاری تفتیش کے سلسلے میں پاکستان سے رابطے میں ہیں۔ واضح رہے کہ لندن میں رہنے والے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین 27 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے دوران مختلف انکوائریز کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں پہلی مرتبہ 3 جون 2014 کو منی لانڈرنگ سے متعلق تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔
2016 میں برطانوی حکام نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات ختم کردی تھیں اور انہیں وہ رقم واپس کردی تھی جو 2014 کے دوران الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر مارے گئے چھاپوں کے دوران برآمد کی گئی تھیں۔
الطاف حسین کو ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے دوران بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عدالت کی جانب سے الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ 22 اگست کو کراچی پریس کلب پر کی گئی اشتعال انگیز تقریر کے بعد پاکستان میں ان کی پارٹی کو ان سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا تھا۔