سعودی ساحل کے قریب ایرانی تیل بردار جہاز پر راکٹوں سے حملہ

  • جمعہ 11 / اکتوبر / 2019
  • 4600

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساحل سے بحیرہ احمر کے ذریعے سفر کرنے والے ایرانی تیل بردار جہاز پر 2 راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔

اس حملے سے متعلق سعودی عرب کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی سعودی حکام نے رابطہ کرنے پر فوری کوئی ردعمل دیا۔  امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ کی بندرگاہ کے قریب آئل ٹینکر میں دھماکے ہوئے۔ اس سے  اسٹور رومز کو نقصان پہنچا اور جہاز سے بحیرہ احمر میں تیل کا رساؤ شروع ہوگیا۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے ایران کی قومی ایرانین ٹینکر کمپنی کے بیان کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ جہاز کی شناخت سیبیٹی کے نام سے ہوئی ہے۔  اس جہاز نے آخری مرتبہ اگست میں ایرانی ساحلی شہر بندر عباس کے قریب ٹریکنگ ڈیوائسز کو آن کیا تھا۔

اس حوالے سے مشرق وسطیٰ کو دیکھنے والے امریکی نیوی کے 5 ویں بیڑے کے ترجمان لیفٹیننٹ پیٹی پاگانو نے کہا کہ انہیں اس واقعے کی رپورٹس سے متعلق باخبر ہیں لیکن انہوں نے اس پر مزید تبصرے سے انکار کردیا۔

ایرانی تیل بردار جہاز پر حملے کا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب ایران کے سعودی عرب اور امریکا سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ اور خلیج کی ان دونوں ریاستوں کے کشیدہ تعلقات کے خاتمے میں پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان 12 اکتوبر کو ایران اور سعودی عرب جانے والے ہیں۔

گزشتہ مہینوں میں خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب سعودی اور دیگر ملکوں کے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا تھا۔ لیکن تہران نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔