نواز شریف نے فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کردیا
- جمعہ 11 / اکتوبر / 2019
- 4320
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتاری کے بعد احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے قائد کا کہنا تھا کہ ہم مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف کو اپنا ہی موقف سمجھتے ہیں اس لیے ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے انتخابات کے بعد اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے اور احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ہم نے انہیں استعفے نہ دینے پر قائل کرلیا تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ان کی بات میں وزن تھا‘۔
آزادی مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آج مولانا فضل الرحمٰن کی بات کو رد کرنا بالکل غلط ہوگا‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مخالف احتجاج کے حوالے سے وہ مولانا صاحب کے جذبے کو بھی سراہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں حکومت مخالف مارچ کا اعلان کیا تھا بعدازاں یومِ یکجہتی کشمیر کے پیشِ نظر احتجاج کی تاریخ کو تبدیل کر کے 31 اکتوبر کردیا تھا۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے واضح طور پر اس احتجاج کی حمایت اور اس میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔
گزشتہ روز یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے مابین جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے 31 اکتوبر کے آزادی مارچ کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا کہ جب جیل میں قید نواز شریف سے ملاقات طے ہونے کے باوجود شہباز شریف نے کمر درد کی وجہ سے ملاقات سے گریز کیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ چونکہ شہباز شریف، جے یو آئی (ف) کے مارچ میں شرکت کے مخالف ہیں لہٰذا انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کو منسوخ کردیا کیونکہ وہ اپنے بھائی کی تجویز پر ’سخت دلائل‘ دینا چاہتے تھے۔ تاہم کیپٹن (ر) صفدر سمیت مسلم لیگ (ن) کے کچھ رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ سابق وزیراعظم نے ’سلیکٹڈ حکومت‘ کو ہٹانے کے لیے کارکنان کو مارچ میں شرکت کی ہدایت کردی ہے۔