چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
- جمعہ 11 / اکتوبر / 2019
- 4180
احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سزا کاٹنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو چوہدری شوگر ملز کیس میں 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔
قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کرکے لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا تھا۔ احتساب عدالت کے جج چوہدری امیر محمد خان نے کیس کی سماعت کی اور ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں اگلی سماعت پر 25 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دیا۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی گرفتاری عدالت کی اجازت کے بعد عمل میں لائی گئی۔ اس کے ساتھ انہوں نے سابق وزیراعظم کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ چوہدری شوگر ملز میں نواز شریف کے کردار کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ 2016 میں نواز شریف چوہدری شوگر مل کے سب سے بڑے شئیر ہولڈر رہے ہیں اس کے ساتھ ان کے شمیم شوگر مل میں بھی شیئرز تھے۔ چوہدری شوگر مل میں نواز شریف کے ساتھ مریم نواز، شہباز شریف اور شریف خاندان کے دیگر اراکین بھی شئیر ہولڈر تھے۔
نیب کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ چوہدری شوگر ملز کے اکاؤنٹس میں بیرون ملک سے رقوم آتی تھیں اور 1992 میں نواز شریف کو غیر ملکی کمپنی نے ایک کروڑ 55 لاکھ روپے فراہم کیے تھے تاہم یہ آج تک معلوم نہ ہوسکا کہ اس کمپنی کا مالک کون تھا۔
سماعت میں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز بٹ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کبھی بھی چوہدری شوگر ملز کے شیئر ہولڈر یا ڈائریکٹر نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے اثاثوں کہ چھان بین پہلی مرتبہ نہیں ہو رہی اس سے قبل مخالف حکومتوں نے بھی کمپنیز کی تشکیل سے متعلق چھان بین کروائی لیکن کچھ نہیں ملا تھا۔
امجد پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ 1991 میں نواز شریف کسی بھی کمپنی کے سپانسر یا مالک نہیں رہے اور نہ ہی ان کا چوہدری شوگر ملز کے قیام میں کوئی کردار تھا بلکہ شریف خاندان کی اولادیں ڈائریکٹر اور حصہ دار تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) ان تمام معاملات کی تفصیلی تحقیقات پہلے ہی کر چکی ہے جس کے بعد نیب نے ریفرنس دائر کیا تھا چانچنہ دوبارہ تحقیقات کا کوئی جواز نہیں ہے۔
وکیل نواز شریف نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے کیس میں بددیانتی نظر آرہی ہے جس میں جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں جبکہ گرفتاری بھی غلط کی گئی ہے کیوں کہ یہ سیاسی بنیاد پر بنایا گیا کیس ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی اور نیب کے پاس چودھری شوگر ملز کا تمام ریکارڈ پہلے سے ہی موجود ہے اور پانامہ جے آئی ٹی تحقیقات کے بعد ہی نواز شریف کو سزا ہو ئی تھی اس لیے چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتاری کا جواز نہیں۔
امجد پرویز کا کہنا تھا کہ اب نیب کا چوہدری شوگر ملز سے متعلق خود ساختہ انکشاف کرنا بلاجواز ہے۔ نواز شریف اب جیل میں قید ہیں تو تفتیش کے لیے نیب والے جیل میں جاکر پوچھ کچھ کرسکتے ہیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ نواز شریف 30 سال سے مقدمے بھگت رہے ہیں لیکن آج تک ایک روپے کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی۔ نیب بطور ایجنٹ کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
دلائل کے اختتام میں ایڈوکیٹ امجد پرویز ملک نے عدالت سے نواز شریف کے خلاف چودہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کا کیس خارج کرنے کی استدعا کی۔
دورانِ سماعت ملزم نواز شریف نے بھی روسٹروم پر آکر بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب والے مجھ سے جیل میں ملاقات کے لیے آئے تھے لیکن ایک ہی مرتبہ آئے اس کے بعد کبھی نہیں آئے۔ نیب نے جو پوچھا میں نے اس کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا مجھ سے میرے وکیل کی ملاقات نہیں کروائی گئی حالانکہ میں نے لکھ کر دیا کہ میری ملاقات میرے وکیل سے کروائی جائے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھ پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سب جھوٹ ہیں۔ نیب پہلے ہی ظاہر کردہ اثاثوں کی تحقیقات کررہا ہے۔ نیب اہلکاروں نے گرفتاری کے لیے جو جو الزمات لگائے گئے ہیں وہ بے بنیاد ہیں 32 انڈسٹریز میں ہمارا نام تھا بتائیں کرپشن کہاں ہوئی ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں وزیر بھی رہا ہوںوزیر اعلی بھی رہا ہوں اور 3 مرتبہ وزیر اعظم بھی بنا، ان پانچوں ادوار میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت کردیں تو میں کیس سے کیا سیاست سے دستبردار ہوجاؤں گا۔ نیب کا ادارہ پرویز مشرف نے میرے لیے قائم کیا تھا۔ پرویز مشرف کا ایک ہی ٹارگٹ تھا وہ تھا نوازشریف۔ نیب صرف مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن کے خلاف استمعال ہورہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں تو پہلے سے جیل میں ہوں اگر اتنی دشمنی ہے تو بتادیں کہ یہ مجھے کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کسی کو انسداد منشیات کے مقدمے میں پکڑا جا رہا ہے یہ کیا طریقہ ہے اگر یہ سمجھتے ہیں مسلم لیگ ن گھبرا کر جُھک جائے گی تو یہ کبھی نہیں ہوگا۔
نواز شریف کے بیان پر کمرہ عدالت میں نعرے بازی شروع ہوگئی جس پر احتساب عدالت کے جج نے انہیں صرف موجود مقدمے پر بات کرنے کی ہدایت کی۔
نیب کی جانب سے گزشتہ روز نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جو پہلے ہی العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں 7 سال کی سزا کاٹ رہے ہیں۔