چین سے ضرور سیکھیں مگر صرف یہ نہیں!

  • تحریر
  • جمعہ 11 / اکتوبر / 2019
  • 5120

کرپشن ملکوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،  ہم کرپشن ختم کرنے کے لئے چین سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ کاش میں پانچ سو کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈال سکتا ۔ چین نے وزیر کے عہدہ کے چار سو افراد کو جیلوں میں ڈالا۔

 ہم بھی بد عنوان افراد کی خلاف ایسی کاروائی کرنا چاہتے ہیں لیکن  نظام سست ہے، سرخ فیتے کی رکاوٹ بھی کرپشن کا نتیجہ ہے۔  چین کے دورے کے دوران  چائنا کونسل  کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا  ملک میں سرمایہ  کاری نہ  آنے کی سب سے بڑی وجہ بھی کرپشن ہے۔  وزیر اعظم  کی اس خواہش اور بیان پر کئی احباب کو اچنبھا ہوا۔  اوّل یہ کہ  بیرون ملک ایسے فورم پر   اس طرح  کی گفتگو  سے   پیدا  ہونے والامنفی تاثر  دورے کے مقاصد سے  متصادم ہے۔ دوم،  کرپشن کے خلاف  2012  سے جاری  مہم کے باوجود اعلی سطح پر کرپشن اب  بھی ختم نہیں ہوئی بلکہ  ابھی بھی چین کا  بڑا دردِ سر ہے۔ سوم،   کوئی بھی ملک یہ نہیں چاہتا  کہ اس کے ہاں کرپشن  پھلے پھولے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقتصادی ترقی اور   حکومتوں کے انتظامی  معاملات میں  ترقی یافتہ ممالک  بھی کرپشن سے پاک نہیں۔ کرپشن کی بیخ کنی کوئی ایک بارگی جوش نہیں بلکہ ایک مربوط اور مسلسل نظام کے طور پر گورننس کا حصہ بنائے رکھنے کی متقاضی ہے۔

ترقی پذیر ملکوں میں کرپشن کا پھیلاؤ ترقی یافتہ ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ سرمایہ کاری اور کرپشن کا تال میل اکثر سطحوں  پر کسی نہ کسی صورت میں تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود رہتا ہے۔  لہذٰا سرمایہ  کاری صرف اس انتظار میں کونے میں دبکی نہیں رہتی کہ کبھی تو کرپشن فری دن آئیں گے تو سرمایہ گردش میں آئے گا۔کرپشن اور سرمایہ کاری کا یوں سادہ سا تعلق  نہیں  بلکہ کئی صورتوں میں تو یہ تعلق  معکوس صورت میں زیادہ حسبِ حال ہو تا ہے کہ سرمایہ کاری ہوتی ہے تو اس کے خوشہ چیں بھی  نظام  میں سرمایہ کاری کی سہولت کے عوض فوائد کے طلبگار ہو تے ہیں۔ دور کیا جانا ایشیاکے بیشتر ممالک میں جہاں معاشی ترقی  نے عروج  حاصل کیا وہاں کرپشن نے بھی کم و بیش اتنا ہی قد نکالا۔

حکومتوں کے لئے کرپشن پر قابو پانا ایک جہدِمسلسل  ہے۔  اداروں اور  قوانین کی موجودگی میں بھی  انتظامی  و کاروباری معاملات میں کرپشن غیر محسوس انداز میں در آتی ہے۔  کرپشن سے جان چھڑانا اتنا آسان ہوتا تو ملائشیاکے سابق وزیر اعظم،  جنوبی کوریا کی سابق صدر اور سام سنگ گروپ کے وائس چئیرمین، برازیل کے سابق صدر سمیت  دنیا  کے درجنوں سربراہان  مملکت اور سینئیرقیادت  کرپشن کے مقدمات اور سزائیں نہ بھگت رہے ہوتے۔ 

وزیر اعظم کی  یہ خواہش کہ کاش وہ پانچ سو کرپٹ  افراد کو جیل میں ڈال  سکتے۔ بہت حد تک  ان کے اپنے ملک میں انہیں اس طرح  کی فضا  میسر ہے جہاں نیب  نے بہت سے افراد کو انکوائری اور ریفرنسوں  کے دوران گرفتار کر رکھا ہے۔  بلکہ نیب کی کاروائیوں پر کاروباری  افراد اپنی بپتا لے کر آرمی چیف اور خود  ان  تک بھی پہنچے۔ جس کے بعد چئیرمین نیب نے  کاروباری اور سرمایہ کاروں کے تحفظات  کو  ردّ کرنے کے باوجود  ٹیکس اور بینک ڈیفالٹ کے کیسز  پر نیب کو  آئندہ  کا روائی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ 

بیوروکریسی کے درجنوں افراد کئی کئی ماہ سے  گرفتار ہیں۔ کئی کیسز میں تو پلی بارگین  سے معاملہ نمٹا دیا گیا لیکن بہت سے  ہائی پروفائل کیسز  جن کی میڈیا  پر بھی خوب شہرت ہوئی خاصا وقت گزرنے کے باوجود  جزا سزاکے سنگ میل تک نہیں  پہنچ پائے۔  تفتیش کمزور تھی یاکرپشن کے ملزموں کی مہارت اس اعلی درجے کی تھی کہ نشان نہیں چھوڑا یا  تفتیشی عملے کی  کرپشن کے پیچیدہ معالات  کے پیچ و خم کی ابھی سوجھ جوجھ اس درجے کی نہیں  ہے کہ سزاؤں کا تناسب خاطر خواہ ہو سکے۔  

کئی ایک کیسز میں تو اعلیٰ عدالتوں نے بھی  برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا۔ احتساب عدالتوں میں ججوں کی مناسب تعداد، ان کی آزادی اور صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں  ایک ویڈیو اسکینڈل نے اس سوال کو ایک بار پھر سب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔  ان حالات میں خواہش کی بنا  پر افراد کو  صرف جیلوں  میں ڈالنے سے  سزاؤں کا عمل خودکار انداز میں پورا ہوگا نہ کرپشن کا خاتمہ۔

ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل کے سالانہ کرپشن  امکان انڈکس 2018  (Corruption Perception Index)   کے مطابق پاکستان 180  ممالک میں 117 ویں نمبر پر تھا۔ ایک سال قبل بھی پاکستان کا یہی نمبر تھا۔ چین جس سے وزیر اعظم کرپشن ختم کرنے کا  سبق سیکھنا چاہتے ہیں اسکا نمبر 2017 میں 77 واں تھا جو  2108 میں دس درجے لڑھک کر 87 واں ہو گیا۔

چین نے اسّی کی دِہائی میں ڈینگ ژیاؤ پنگ کی قیادت میں مارکیٹ اکانومی کی طرف مراجعت کی تو پہلی بار معیشت میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔  اِس وقت چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی پانچ سو کمپنیوں میں سے 129 کے ہیڈ کوارٹر چین میں قائم ہیں۔ دنیا میں تین ٹریلین ڈالرز سے زائد زرِمبادلہ رکھنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ دنیا  میں سب سے زیادہ ارب پتی رکھنے والا دوسرا بڑا ملک ہے  جن  کی مجموعی دولت کا تخمینہ 996 ارب  ڈالرز ہے۔  گزشتہ تیس سالوں کے دوران اوسطاٌ 6% سالانہ ترقی کرنے والا  چین حالیہ سالوں میں سالانہ شرح  نمو میں کمی کے باوجود ہر سال آسٹریلیا کے برابر اضافی قومی پیداوارجمع کرتا ہے۔

 اس ہوش ربا ترقی میں کرپشن بھی اپنا قد کاٹھ نکالتی رہی، حتیٰ کہ ماہرین نے کرپشن کو معیشت اور سیاست کا سب سے بڑا خطر ہ گرداننا شروع کر دیا۔  کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری  منتخب ہونے پر شی جن پنگ نے 2012  میں 18ویں نیشنل کانگریس  میں کرپشن کے خلاف ایک مربوط  کریک ڈاؤن کا اعلان کیا۔  GAN Integrity  کی 2018  کی رپورٹ کے مطابق  اب تک  لاکھوں افراد کو جن میں اعلیٰ حکومتی، پارٹی اور ملٹری عہدیداران بھی شامل ہیں گرفتار کیا گیا۔ کرپشن کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ 2017   کے صرف آدھے  سال میں تیرہ لاکھ سے زائد  شکایات موصول ہوئیں، 260,000 کیسز شروع ہوئے اور210,000  افراد کو سزائیں ہوئیں۔   تین ملین  یوآن سے زائد  کی کرپشن پر سزا بڑھا کر  سزائے موت  نافذ کر دی گئی۔  ان اعدادوشمار سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حیرت انگیز معاشی ترقی  کی بغل میں کرپشن نے بھی  اسی رفتار  سے ترقی کی،  اور ہاں اس دوران سرمایہ کاری بھی آتی رہی!

وزیر اعظم عمران خان چین سے کرپشن  ختم کرنے کا سبق  ضرور سیکھیں  لیکن واضح رہے کہ چین کرپشن ختم کرنے کی زوردار  جدو جہد کر  رہا ہے مگرکرپشن کا پھیلاؤ  اس قدر وسیع اور  پیچیدہ ہے کہ چینی قیادت کے وسیع اختیارات اور سخت اقدامات کے باوجود  اِسے  ورلڈ انڈکس کی پہلی صفوں میں جگہ نہیں مل سکی۔

پاکستان کے اپنے معروضی حالات ہیں جن کے مطابق  چین سمیت دنیا کے تجربات سے استفادہ ضرور کرنا چاہئے لیکن  چین کے کرپشن کریک ڈاؤن پر مر مٹنے  کی ضرورت ہے نہ حاجت ہونی چاہئے۔ ہمیں اپنے اداروں اور کرپشن کے خلاف نظام کو بہتر اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ اور ہاں، سرمایہ کاری نہ آنے کی وجہ  صر ف کرپشن نہیں۔پرسوں جاری ہونے والے  مسابقتی انڈیکس کے مطابق پاکستان  141  ممالک کی فہرست میں 110ویں نمبر پر ہے اور   پورے جنوبی ایشیا میں  سب سے نیچے۔ سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے کرپشن  کی بیخ کنی کے علاوہ  اوربھی بہت کچھ کرنے  اور  چین سمیت دنیا سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔