دھرنوں اور احتجاجی تحریکوں سے عوام کو کیا حاصل

مولانا فضل الرحمان دھرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں دھرنے میں شمولیت کیلئے تقریبا راضی ہو چکی ہیں۔ میاں نواز شریف کا دھرنے میں شمولیت کے حوالے سے خط مولانا فضل الرحمان کو موصول ہو چکا ہے۔

پیپلزپارٹی بظاہر  تو فضل الرحمان کا ساتھ دینے کا اعلان کر رہی ہے مگر اس کو مذہبی کارڈ کے استعمال ہونے  پر تحفظات ہیں کیونکہ ماضی میں سیاسی تحریکوں نے مذہبی تحریکوں میں تبدیل ہوتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ابھی نہیں جا رہی ہے اور نہ ہی اس دھرنے سے تبدیل ہونے کا کوئی چانس ہے۔یہ بات یاد  رہے کہ تاریخ میں پہلی بار مولانا فضل الرحمان نمایاں طور پر کسی سیاسی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔ وہ پہلے روز سے طے کیے بیٹھے ہیں کہ ان اسمبلیوں کو جانا چاہیے۔ تبدیلی والے بھی مولانا کے دھرنے کے حوالے سے پریشان ہیں۔  اس مارچ کو ناکام بنانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل  دی ہیں۔

دیکھا جائے تو عمران خان بھی ریاست مدینہ کا مذہبی کارڈ کھیل رہے ہیں۔انہوں نے اسلامو فوبیا کے خلاف اپنے خطاب میں دراصل مولانا فضل الرحمان کی ختم نبوت کے حوالے سے مہم سے ہوا نکالنے اور ملکی سامعین کو کشمیر ایشو پر اپنا گریدہ بنانے کی کوشش کی ہے۔گزشتہ نصف صدی سے سیاست اور معیشت اور سماجیت کے علم و دانش کے ایوانوں اور عملی زندگی میں مجھے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ مولانا کے والد کا تعلق جمعیت علماء اسلام ہند سے تھا جو کہ قیام پاکستان کے مخالف اور خود کو نیشنلسٹ مسلمان کہلانے پر فخر محسوس کرتے تھے۔وہ بنیادی طور پر سیکولر، جمہوریت پسند اور ترقی پسند نظریاتی رکھتے تھے۔ وہ عبید اللہ سندھی کے پیرو کار تھے۔60اور70کی دہائی نظریاتی سیاست کا دور تھا۔ دائیں بازو کی نمائندگی  جماعت اسلامی، مسلم لیگ، چھوٹی اور بڑی مذہبی و سیاسی جماعتیں کرتی تھیں۔ مگر ان کی سر خیل جماعت اسلامی تھی جو کہ اخوان المسلمین کے اسلامی تشخص کے تناظر میں یہاں نظام قائم کرنا چاہتی تھی۔

 تعلیمی اداروں میں دائیں اور بائیں بازو کے حوالے سے تفریق کافی نمایاں تھی۔ذوالفقار علی بھٹو نے سیکو لرز م اور سوشلزم کے بارے میں منشور دیا تو اس پر کفر کا فتویٰ جاری کر دیا گیا جس کے جواب میں مولانا مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے اسلامی سوشل ازم اور اسلامی مساوت کے بیانیہ کو تقویت دینے کے ساتھ پیپلز پارٹی کے معاشی انصاف پر مبنی منشور کی حمایت کی۔ مولانا  افغانستان میں امریکی کولیشن کا ساتھ دینے کے بھی خلاف تھے۔وہ ان دوسری مذہبی جماعتوں کی طرح نہیں تھے جنہوں نے جہاد افغانستان کے تناظر میں یہاں پر مذہبی انتہا پسندی کو ابھار۔ا مولانا فضل الرحمان نے کبھی شیعہ سنی تضادات کے حوالے سے سیاست نہیں کی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری اور سیکولر پارٹیوں کا ساتھ دیا ہے۔ ضیاء الحق کے عہد میں جب اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کے بائیکا ٹ کرنے کا اعلان کیا تو مولانا فضل الرحمان اور غوث بزنجو نے اس کی مخالفت کی اور کہا اگر یہ جگہ خالی چھوڑی گئی اور دوسرے غیر نظریاتی اور غیر سیاسی افراد سے ضیاء الحق اس خلاء کو پورا کر لے گا۔

 چنانچہ ایسا ہی ہوا ضیاء الحق کے غیر سیاسی اور کاروباری طبقات سیاست پر قابض ہو گئے اور آج بھی اس کی باقیات اقتدار کے ایوانوں کے قریب ترین ہیں۔ نواز شریف جو کہ بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے پر وردہ تھے،  انہوں نے  سول بالا دستی  کی خواہش میں اپنے سر پرستوں کی ناراضگی مول لی۔  وہ آج کل روزانہ نت نئے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے جنرل ضیاء الحق کے عہد میں قید و بند کی صوبتیں برداشت کیں۔ انہوں نے ایم ایم اے میں شامل ہو کر پختونخواہ کی حکومت حاصل کی اور پرویز مشرف کے وردی میں بطور صدر  حمایت کی۔وہ جمہوری اقتدار میں شراکت کرتے رہے ہیں۔  طویل عرصہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے۔ مولانا ذہین، صاحب مطالعہ انسان ہیں۔ وہ نظریاتی حوالہ سے مولانا عبید اللہ سندھی کے پیرو کار اور سرمایہ دارانہ نظام، استحصال اور سامراجیت کے مخالف ہیں  اور جمہوریت پسند ہیں۔

مولانا فضل الرحمان یوں ہی میدان کار زار میں نہیں اترے ہیں۔ اور نہ اسلامی کال کا استعمال نیا ہے۔ ممتاز دولتانہ، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیٰ، اسلامی جمہوری اتحاد اور عمران خان نے اسلامی کارڈ استعمال کیے ہیں۔عمران خان کی اسلامی فلاحی ریاست کا سفر مسافر خانوں، شیلٹرز ہوم اور لنگر خانوں تک محدود ہے۔ جبکہ معاشی اور صنعتی سر گرمیوں کے فروغ کیلئے روز گار کی فراہمی فی الحال اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔  مولانا فضل الرحمان دھرنے کے ذریعے حکومت تبدیل کروانے کے خواہش مند ہیں تو اس کے ساتھ ملک کی سب سے مراعات یافتہ اور امیر ترین تاجر برادری بھی حکومت کی مالیاتی اور ٹیکس وصولی کے حوالے سے پالیسیوں سے ناراض دیکھائی دیتی ہے۔ملک کے امیر طبقات نے بے پناہ دولت کمائی ہے مگر اپنی آمدنی اور اثاثوں کو کبھی ڈکلیئر نہیں کیا ہے اور نہ ہی ٹیکس دیا ہے۔ ملک کے امیر ترین تاجر حضرات اپنے سیاسی مقاصد کیلئے چھوٹے تاجروں کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔ ایف بی آر کو جو تجاویز انہوں نے دی ہیں ان کے مطابق پچاس کروڑ سالانہ کاروبار کرنے والوں کو چھوٹا تاجر تصور کیا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کیا پچاس کروڑ سے ساٹھ کروڑ  سالانہ کاروبار کرنے والا کبھی چھوٹا تاجر ہو سکتا ہے۔ آج اگر چھوٹے دکانداروں کو فکس ٹیکس میں اندراج کرنے کی بجائے ایف بھی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی بات زور شور سے ہونے لگی ہے۔ اس مضمون میں تاجروں کا تذکرہ اس لیے کر رہا ہوں کہ نظام مصطفی کی تحریک میں انہوں نے سیاسی جماعتوں کو بھرپور فنڈز دیئے تھے۔ تا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو ختم کیا جا سکے۔

پانچ سال قبل عمران خان نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں 126دن کا دھرنا دیا تھا۔ اسی مقاصد کیلئے مولانا فضل الرحمان 31اکتوبر کو ایک ملک گیر تحریک چلانے  والے ہیں۔ عمران خان نے اپنے دھرنوں کا نام آزادی مارچ رکھا تھا جس میں مڈل اور اپر مڈل کلاس کے نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی تھی۔ میڈیا نے دھرنے کی تسلسل کے ساتھ کوریج کر کے شام7بجے سے رات گئے  تک،  سیاسی تفریح فراہم کی۔  اور کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف شعور دیا۔  اس دھرنے میں نادیدہ قوتوں کے علاوہ طاہر القادری کی بھرپور حمایت حاصل تھی جو اب سیاست سے دستبردار ہو چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کے دھرنوں میں بھی اب مذہبی عناصر بہت فعال دیکھائی دے رہے ہیں۔ پانچ سال پہلے ہونے والے دھرنوں سے معیشت کو شدید دھچکا پہنچا تھا۔ چینی صدر کا  دورہ منسوخ ہوا۔  اس بار معیشت کی حالت بہتر نہیں ہے لوگوں کو مزید مہنگائی بے روز گاری کی نوید سنائی جا رہی ہے۔عمران خان دنیا کے کسی فور م پر پاکستان میں ہونے والی کرپشن کا تذکرہ کرنا نہیں بھولتے، جس کو سن کر غیر ملکی سرمایہ کارپریشان ہو جاتے ہیں کہ وہ ایسے ملک میں کیسے سرمایہ کاری کریں جہاں پر کرپشن اور بدعنوانی ہر ادارے میں موجود ہے۔ یوں بھی ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی مسابقتی رپورٹ میں پاکستان میں کرپشن، صحت اور فریڈم آف پریس کے شعبوں میں کارکردگی میں تنزلی ظاہر کی ہے۔ جبکہ معاشی استحکام کے لحاظ میں درجہ بندی میں کمی ہوئی ہے۔ اب ہم 116ویں نمبر پر ہیں، جبکہ بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش ہم سے بہتر پوزیشن پر ہیں۔

موجودہ صورتحال میں تمام ادارے عمران خان کے ساتھ یکساں سوچ رکھتے ہیں تو اس کی وجہ سے دھرنے کی کامیابی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ حکومت تبدیل بھی ہو جائے تو  اقتدار کے ہیت ترکیبی تبدیل نہیں ہو گی۔ چہرے بدلیں گے مگر کمانڈ وہی رہے گی، بلکہ مزید معاشی بحران پیدا ہوگا۔  حکومت کو دھرنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر کے مزید بد امنی پیدا نہیں کرنی چاہیے۔  اور نہ ہی مولانا کو معاملات کو اس انتہا تک لے جانا چاہیے کہ نظام کی بساط ہی لپیٹ دی جائے۔  اہم مسائل معیشت اور بیڈ گورننس کے حوالے سے ہیں جن کو عمران اور اس کے اتحادی اور سر پرست مل کر بھی حل نہیں کر سکتے۔موجودہ سیاسی انتشار کے  تناظرمیں دیکھا جائے تو تمام ادارے آئین میں طے کردہ اپنے اختیارات کے مطابق پرفارمنس نہیں کر رہے۔ میڈیا بے بس ہے۔ حکومتی اراکین کا گورننس، سماجی معاش اور عمرانی علوم کے حوالے سے شعور اور علم محدود ہے۔ اسٹیٹس کو کی طاقت ور علامتوں اور ٹیکس بیزار تاجر برادری  کے علاوہ مدارس کے طلبا کے ساتھ  مزاہمتی  سیاست کا میدان جنگ کو سجانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھیں مولانا کی محاذ آرائی کیا رنگ لاتی ہے۔