نواز شریف جمہوریت کی علامت بن چکے ہیں!

یہ مخالفت یا حمایت کا معاملہ نہیں ہے اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کی سیاست سے اتفاق  کرنے  یا غیر متفق ہونے کی بات ہے ۔  جس طرح نواز شریف کو اچانک  جیل  کی  قید سے نیب کی حراست میں دے کر   پراسرار طریقے سے  منظر نامہ سے غائب کیا گیا ہے، اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ  نواز شریف اس وقت ملک میں جمہوری حقوق  کی علامت اورعوام کی آواز بن چکے ہیں۔    تمام تر پروپیگنڈے اور بدعنوانی کے سوال پر تند و تیز الزامات کے باوجود نواز شریف کی مقبولیت میں  مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب   جسمانی ریمانڈ پر انہیں نیب کے حوالے کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ حکمران بھی نواز شریف کی مقبولیت اور اصولی سیاسی مؤقف سے لرزہ براندام ہیں۔

نواز شریف کی مقبولیت اور سیاسی نقطہ نظر کا جائزہ لیتے ہوئے یہ نکتہ   زیر بحث نہیں ہے کہ  کیا سابقہ ادوار میں   اقتدار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نواز شریف اور ان کے اہل خاندان نے بدعنوانی  کی  اور قومی وسائل کو  لوٹا تھا۔ اس کا جواب  بہرحال اس ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں  کو تلاش کرنا ہے اور عدالتوں کو حتمی فیصلہ صادر کرنا ہے۔ تاہم  اب یہ بات  روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ  اس وقت نیب کو نواز شریف کو توڑنے اور  ان کا سیاسی  مؤقف  تبدیل کروانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔   قید بھگتنے والے ایک شخص کی گرفتاری اور کسی قانونی حجت کے بغیر دو ہفتوں کے لئے نیب کے حوالے کرنے کا اقدام  صرف شکوک و شبہات کو ہی جنم نہیں دیتا بلکہ اداروں کی جانبداری اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ تحقیقات یا جرم کے شواہد تلاش کرنے کا معاملہ نہیں  ہے بلکہ  بدعنوانی   ختم کرنے کے  نعرے کے تحت سیاسی جبر اور جمہوری آواز کو دبانے کی مذموم کوشش ہے۔

یہ جائزہ لینا قانونی ماہرین اور ملک  کے عدالتی اداروں کا کام ہے کہ نیب کی درخواست اور اس پر نیب جج کی ’مؤثر‘ کارروائی  کس حد تک قانون کے تقاضوں کے مطابق اور  مبنی بر انصاف ہے۔  لیکن بادی النظر  میں صورت حال کا جائزہ لینے والا کوئی بھی شخص  یہ سوال ضرور کرے گا کہ جب ایک شخص ایک مقدمہ میں سزا ملنے کے بعد جیل میں قید ہے اور سزا بھگت رہا ہے تو کسی دوسرے مقدمے میں اس  سے تحقیق و تفتیش  کے لئے نیب یا کسی بھی دوسرے ادارے کو اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ جیسا کی نواز شریف نے آج چوہدری شوگر مل کیس  میں  نیب کی طرف سے ریمانڈ کی درخواست پر بات کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ نیب کی ٹیم نے جیل میں ان سے  صرف ایک بار ملاقات کی تھی۔

  گویا  نیب   نے نواز شریف پر عائد کئے  گئے نئے الزامات کے بارے میں پوچھ گچھ کے لئے کوئی سنجیدہ اور عملی کوشش نہیں  کی لیکن اچانک ایک جج کے حکم پر  انہیں جیل سے ’گرفتار‘ کرکے جسمانی ریمانڈ کے لئے عدالت میں پیش کردیا گیا۔ نواز شریف کی طرف سے جرم کی صحت سے انکار اور ان کے وکیل کی اس دلیل پر اتمام حجت کرنے کی بجائے کہ جب نواز شریف پہلے ہی قید میں ہیں تو ان کو ریمانڈ پر لینے کا کیا مقصد ہے، نیب جج نے  یک طرفہ طور سے فیصلہ صادر  کرتے ہوئے  14  دن کا ریمانڈ دے دیا ۔   یہ حکم ایک ایسے وقت  میں صادر کیا گیا ہے جب  حکمران مولانا فضل الرحمان  کے ’آزادی مارچ ‘ اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کے اعلان  پربدحواسی کا شکار ہیں اور اس بارے میں نت نئی دھمکیاں  دینے اور کسی طرح مولانا کو اس ارادے سے باز رہنے  پر آمادہ کرنے کے جتن ہورہے ہیں۔

انگریزی روزنامہ ’ دی نیوز ‘  نے خبر دی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کو رکوانے کے لئے اب سعودی سفارت خانہ  کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔  گزشتہ روز  مولانا  فضل الرحمان  نے اسلام آباد میں سعودی سفیر ایڈمرل (ر) نواف بن سید المالکی  سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ایک سرکاری شخصیت سعودی سفیر سے ملنے پہنچی۔  خبر کے مطابق سعودی سفیر جلد ہی  مشاورت کے لئے ریاض روانہ ہونے والے ہیں  جبکہ پاکستانی وزیر اعظم بھی اتوار کو ریاض جارہے ہیں جہاں وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام سے بات چیت کریں گے۔ کیا  اس دورے   میں کشمیر  یا ایران کے ساتھ سعودی عرب کی مفاہمت کروانے کے  علاوہ  اس ماہ کے آخر میں جمیعت علمائے اسلام   کے احتجاج اور دھرنے کے منصوبہ کو ختم کروانے کے لئے سعودی حکمرانوں کی اعانت حاصل کرنا مطلوب  ہے؟ اس کا جواب تو عمران خان ہی دے سکتے ہیں لیکن اس حوالے سے سامنے آنے والی خبروں سے یہ  اندازہ  ضرور ہوتا ہے کہ  حکومت  اس  مارچ اور دھرنا کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہے۔

حیرت کی بات ہے  کہ ایک جمہوری حکومت کسی سیاسی پارٹی کے احتجاج سے نمٹنے  کے لئے سیاسی طریقہ، مفاہمانہ لب و لہجہ یا مذاکرات کا  اقدام کرنے کی بجائے ، سفارت کاری کو زیادہ مؤثر ذریعہ سمجھنے لگے۔  اس طریقہ سے  اول تو حکومت  اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی لیکن اگر اسے کسی حد تک کچھ رعایت مل بھی جائے تو    اس طرح حکومت در حقیقت خود ہی عوامی  نمائندگی  کے استحقاق سے دست بردار ہونے کا اعلان کرے گی۔ سیاسی بحران یا چیلنج سامنے آنے کی صورت میں انتظامی اقدامات صرف  مظاہرین    کی  حفاظت اورشہریوں  کو سہولت فراہم کرنے کے لئے   ہونے چاہئیں ۔ حکومت  اگر کسی احتجاج کو  ملکی مفاد  کے خلاف یا معیشت کے لئے نقصان دہ سمجھتی ہو تو متعلقہ سیاسی قیادت سے بات چیت یا پارلیمنٹ  میں یہ معاملہ پیش کرنے  سے ہی  کوئی مناسب اور باہمی طور سے قابل قبول حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

  اس کی ایک مثال   نواز شریف نے 2014 میں تحریک انصاف کے دھرنے کو غیر مؤثر کرنے کے لئے قائم کی تھی۔ اس وقت پارلیمنٹ  کی تمام پارٹیوں  نے حکومت کی تائد کی تھی جبکہ تحریک انصاف اپنے  دو تین درجن ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ سیاسی طور سے تنہا ہو گئی تھی اور وہ پارلیمنٹ کو مطعون کرنے اور دشنام طرازی کرکے اپنا غصہ نکالنے کے سوا کچھ نہیں کرسکے تھے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو غور کرنا چاہئے کہ   وہ کیوں یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی  ہے کہ قومی اسمبلی میں اس معاملہ  پر بات ہوتی ہے تو شاید حکومت  کی اپنی حلیف پارٹیاں بھی  اس کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری نہ سمجھیں۔

ایک طرف  نیب کے ذریعے نواز شریف کو جسمانی ریمانڈ  کے نام پر منظر نامہ سے غائب کرنے کیا گیاہے تو دوسری طرف نواز شریف نے عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے  مولانا فضل الرحمان  کے احتجاج کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح یہ غلط فہمی ختم ہوگئی  ہے کہ جمیعت علمائے اسلام تن تنہا چند سیاسی مفادات کے لئے  یہ احتجاج کررہی ہے۔ اب  ملک کی اہم ترین اپوزیشن پارٹی  کے اصل قائد نے اس احتجاج کو  جائز قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ2018 کے  انتخابات کے بعد موجودہ اسمبلی کو تسلیم کرنے کی بجائے مولانا فضل الرحمان  کا   مشورہ مان لینا چاہئے تھا۔ اوراپوزیشن کے ارکان کو اسمبلیوں سے استعفی دے دینا چاہئے تھا۔ نواز شریف  نے کہا کہ ’ ہم نے مولانا کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے  پر آمادہ کیا لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ ان کا مؤقف درست تھا، ہم نے غلطی کی‘۔

یہ  بیان   موجودہ حکومت اور طریقہ کار کے خلاف نواز شریف  کاکھلا اعلان جنگ  ہے۔  اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ڈیل  کرنے یا ان کی طرف سے اربوں روپے یا ڈالر ادا کرکے ملک سے باہر جانے کی خبریں، نواز شریف کی سیاسی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لئے پھیلائی جاتی رہی ہیں۔ نواز شریف  نے حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بننے اور موجودہ اسمبلیوں کو ناجائز قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے  ان طاقتوں کو بھی للکار ا ہے ، جنہوں نے بزعم خویش ملک کو پرانے پاپی سیاست دانوں سے  نجات دلوانے کے لئے   ایک  نیا کھیل سجایا تھا۔ بدقسمتی سے   گزشتہ سال  انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے جو حکومت ملک پر مسلط کی گئی  تھی،  وہ سیاسی، معاشی ، انتظامی اور سفارتی لحاظ سے نااہل اور ناکام ثابت ہوچکی ہے۔  اب یہ  کوئی راز نہیں  ہے کہ  موجودہ حکومت کو  عمران خان نہیں بلکہ فوج چلانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس طرح  ناکامیوں  کی ذمہ داری میں فوج  کوبھی حصہ دار بننا ہوگا۔

نواز شریف کو  جیل سے نکال کر غائب کرنے   سے  ملکی سیاست  و  انتظام  اور  عدالتی  طریقہ کارکے بہت سے گوشے نمایاں ہوگئے ہیں۔ اسی لئے نواز شریف نے عدالت  میں کھڑے ہوکر یہ سوال کیا کہ   ’ میں تو پہلے ہی جیل میں ہوں۔ اگر میرے ساتھ ہی دشمنی ہے تو بتایا جائے کہ  یہ اب مجھے کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ اگر یہ سمجھا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) گھبرا جائے گی تو یہ کبھی نہیں ہوگا‘۔  مسلم لیگ  (ن) کو توڑنے یا اسے دبانے کے لئے نواز شریف کو خاموش کروانا یا اس کے سیاسی مؤقف کو تبدیل  کروانا  ضروری ہے۔  لگتا ہے  کہ  جو مقصد جیل میں خفیہ ملاقاتوں  کے دوران  حاصل نہیں کیا جاسکا، اب نیب  ریمانڈ کے نام پر نواز شریف کو تنہا کرکے  وہ مقصد حاصل  کرنے کی کوشش کی جائے گی۔   مسئلہ صرف  یہ ہے کہ نواز شریف اگر خاموش ہو بھی جائیں تو بھی موجودہ انتظام کے تحت  معاملات چل نہیں پائیں گے۔

سابق وزیر اعظم کے  علاوہ ان کے سارے خاندان اور سب اہم ساتھیوں کو گھیرے میں لینے کے باوجود    نواز شریف اپنے جمہوری  مؤقف سے پیچھے  ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔  اس استقامت  سے  انہیں  ملک کے عوام میں   جو  پذیرائی  نصیب ہوئی ہے،  وہ کسی بھی سیاسی لیڈر کی تمنا اور خواب ہوسکتا ہے۔ بہتر ہے  یہ نوشتہ دیوار پڑھ لیا جائے  کہ  سیاسی انجینئرنگ  کے دہائیوں پرانے طریقے فرسودہ اور ناکارہ ہوچکے ہیں۔ اب خلق خدا کی حکمرانی ہی اس مملکت کو  منزل  کی طرف  گامزن کرسکتی ہے۔