امارات نے رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنے والے پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا فراہم کردیا
- ہفتہ 12 / اکتوبر / 2019
- 4760
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستانی شہریوں کی غیرقانونی دولت کا سراغ لگانے کےلئے متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کے ذریعے رہائش حاصل کرنے والے پاکستانیوں کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔
دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ (ڈی ایل ڈی) سے پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا دبئی میں 8 سے 10 اکتوبر کےدوران ہونے والے 3 روزہ اجلاس کے موقع پر حاصل کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی ایف بی آر کی سیکریٹری برائے بین الاقوامی ٹیکسز ساجدہ کوثر نے کی۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کا انٹرنیشنل ٹیکسز ونگ ڈیٹا کی جانچ کررہا ہے اور درست رہائشی پتے اور شناخت معلوم کرنے کے بعد ان افراد کو ٹیکس ادائیگی کے لیے نوٹسز ارسال کیے جائیں گے۔
دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ ان پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا فراہم کرے گا جنہوں نے اقامہ (ورک پرمٹ) حاصل کیا ہوا ہے۔ ایف بی آر نے 22 اگست کو متحدہ عرب امارات کو خط ارسال کیا تھا، جس میں اقامہ اور سرمایہ کاری کے ذریعے رہائش حاصل کرنے والے تمام پاکستانی شہریوں کی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ دبئی میں ہونے والی ملاقات متحدہ عرب امارات کے حکام کو بھیجے جانے والے خط کے تناظر میں ہوئی تھی۔ متحدہ عرب امارات کا قانون ایک خاص حد تک سرمایہ کاری کی بنیاد پر غیر ملکیوں کو اقامہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
اس سے قبل بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وفاقی تحقیقاتی ادارے سے متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کی سرمایہ کاری سے متعلق ڈیٹا حاصل کیا تھا لیکن صرف 20 سے 30 کیسز میں نوٹسز جاری کیے تھے اور 40 کروڑ روپے کی ریکوری کی تھی۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے دبئی جائیدادوں پر ازخود نوٹس لینے کے بعد ان مقدمات کی پیروی کی گئی تھی۔ ان مقدمات میں وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خانم سے متعلق کیس بھی شامل تھا جنہوں نے متحدہ عرب امارات کی جائیداد چھپانے پر ٹیکسز اور جرمانے کی مد میں 2 کروڑ 94 لاکھ روپے ادا کئے تھے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا انٹرنیشنل ٹیکسز ونگ ڈی ایل ڈی کی جانب سے فراہم کیے گئے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرے گا اور ٹیکس چوری کرنے والے افراد کی شناخت میں چند روز لگیں گے۔ اس حوالے پاکستانی شہریوں کی کُل تعداد بھی ڈیٹا کے مکمل تجزیے کے بعد معلوم ہوسکے گی۔
گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا تھا کہ دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ، ایف بی آر کو دبئی میں موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرے گا۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام کی 9 اور 10 اکتوبر کو اثاثوں کے مالکان کی معلومات کے تبادلے سے متعلق متحدہ عرب امارات کے حکام سے ملاقات ہوئی'۔