امریکہ مزید 3000 فوجی سعودی عرب بھیجے گا
- ہفتہ 12 / اکتوبر / 2019
- 4080
امریکہ نے مزید تین ہزار امریکی فوجی سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کی ضرورت 14 ستمبر کو سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد پیش آئی۔ اس حملے کا الزام امریکہ اور سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پینٹاگون نے فائٹر اسکواڈرن، مہم جوئی کی نوعیت کا فضائی ونگ اور فضائی دفاع کے اہلکار سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ پیٹریاٹ کی دو اضافی بیٹریز اور ایک ’ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈفنس سسٹم‘ (ٹی ایچ اے اے ڈی) بھیجا جارہا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے کہا ہے کہ دیگر تعیناتیوں کے علاوہ اضافی 3000 فوجی بھیجے جا رہے ہیں جس کی گزشتہ ماہ اجازت دی گئی تھی۔ ابھی یہ بات واضح نہیں کہ فوجی دستوں کی نئی تعیناتی کہاں ہوگی اور کس کی جگہ لے گی۔
امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں لڑاکا طیارے اور دفاعی نظام سمیت اضافی افواج تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ سی این این کے مطابق امریکہ نے مئی سے خطے میں 14،000 فوجیوں کا اضافہ کیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اضافی مدد کی درخواست کی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب میں بقیق اور خریص کے علاقوں میں سعودی تیل کمپنی 'آرامکو' کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں دنیا میں تیل صاف کرنے کا سب سے بڑا کارخانہ متاثر ہوا تھا اور کمپنی کی نصف پیداوار معطل ہوگئی تھی۔ اس سے تیل کی عالمی رسد میں پانچ فیصد کی کمی آئی تھی۔
ان حملوں کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے خبردار کیا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بعد اگر دنیا مل کر ایران سے منسلک خطرات کا مقابلہ نہیں کرتی تو تیل کی قیمتوں میں 'ناقابلِ یقین حد تک' اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا ’اگر دنیا ایران کو روکنے کے لیے ایک مضبوط اقدام نہیں اٹھاتی تو ہم مزید ایسی کاروائیاں