شام میں فوجی کارروائی کے بعد ترکی پر پابندیوں کا امکان
- ہفتہ 12 / اکتوبر / 2019
- 4230
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی پر اس کے خلاف انتہائی سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
امریکہ کے وزیر خزانہ اسٹیون منوشن کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کرنے والے ہیں تاکہ ترکی کو شام میں مزید مہم جوئی سے روکا جا سکے۔ منوشن کے مطابق صدر ٹرمپ کو اس بات پر تشویش ہے کہ ترک فوج ممکنہ طور پر شہری آبادی، نسلی یا مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
اسٹیون منوشن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ترکی کو داعش کے کسی ایک جنگجو کو بھی فرار ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ منوشن کے مطابق وزارتِ خزانہ، محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع کے ساتھ مل کر صورتِ حال کا جائزہ لے رہی ہے۔ جس کے بعد صدر کو سفارش کی جائے گی کہ کس مرحلے پر پابندیاں عائد کرنا ضروری ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم مالیاتی اداروں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ محتاط رہیں کسی بھی وقت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ اسٹیون منوشن کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ امریکہ کے تحفظات کے بعد ترک حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔ منوشن نے مزید کہا کہ یہ بہت سخت پابندیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن ہم توقع کرتے ہیں اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن اگر ہم چاہیں تو ترکی کی معیشت کو ٹھپ کر سکتے ہیں۔
ادھر کرد جنگجوؤں نے کہا ہے کہ ترکی کی اس مہم جوئی کے بعد داعش کو سر اٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔ ترکی کی کارروائی کے بعد دولت اسلامیہ(داعش) نے کرد جنگجوؤں کے زیر اثر علاقے میں کار بم حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ کردوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے سے داعش کے پانچ جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
ڈیموکریٹ اراکین کانگریس کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے ترکی کو شمالی شام میں کارروائی کے لیے گرین سگنل دیا۔ جب کہ یہ اعتراض بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکہ نے شام میں اپنے اتحادی کرد جنگجوؤں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے امریکی تحفظات کے باوجود واضح کیا ہے کہ ترکی کارروائی نہیں روکے گا چاہے کوئی جو مرضی کہتا رہا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وار مانیٹر کے ادارے نے اب تک اس کارروائی میں سو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث اب تک ایک لاکھ افراد شمالی شام سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ترک حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کو کی گئی کارروائی میں وائی پی جی ملیشیا کے 399 جنگجوؤں کا ہلاک کیا گیا ہے۔ ترکی کی فوجی کارروائی کا مرکز شمالی شام میں راس العین کا علاقہ ہے۔ جمعے کو ترکی کی فضائیہ نے اس علاقے میں بمباری کی اور وائی پی جی ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ترکی نے اس علاقے میں نو دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔