مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا جائے: وزیر اعظم کی ہدایت

  • ہفتہ 12 / اکتوبر / 2019
  • 4340

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سیاسی ساتھیوں کو جمعیت علمائے اسلام  کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ’مذاکرات کا راستہ‘ کھلا رکھنے کی ہدایت کردی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں حکومت مخالف دھرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ عمران خان نے وزیراعظم آفس میں حکومتی ترجمانوں سے ملاقات میں رابطہ کے بارے میں یہ ہدایات دیں۔ وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا کہ اس حوالے سے تجویز زیرغور ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے رابطہ بحال رکھا جائے اور انہیں ان کے مطالبے پورے کرنے سے متعلق یقین دہانی کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر ڈیڈ لاک نہیں ہونا چاہیے‘۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد میں دھرنے سے نہیں روکا جائے گا تاہم اگر مظاہرین نے انتشار پھیلایا تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔  وزیراعظم عمران خان کا موقف واضح ہے کہ ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی لائن پر عمل کررہے ہیں کیونکہ وہ اپنی بقا کی جدوجہد کررہے ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن اس مرتبہ مذہب کارڈ استعمال کررہے ہیں اور دھرنے میں مدارس کے طلبہ کو استعمال کریں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے واضھ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے کا ہدف نہیں دیا۔  انہوں نے میڈیا پر نشر ہونے والی ان خبروں کی تردید کی کہ وزیراعظم عمران خان نے کمیٹی تشکیل دے کر معاملہ سنبھالنے کا ٹاسک انہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ متعدد میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں پنجاب یا خیبرپختونخوا میں گرفتار کرلیا جائے گا۔  دوسری جانب سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت جی یو آئی (ف) کی آزادی مارچ میں تعاون کرے گی۔  

قبل ازیں اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ 'آزادی مارچ' اب 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا جبکہ 27 اکتوبر کو کشمیریوں کے ساتھ 'یوم سیاہ' منایا جائے گا۔