ایتھوپیا کے ابی احمد کے لئے نوبل امن انعام

امسال نوبل امن انعام ایتھوپیا کے نوجوان وزیر اعظم ابی احمد کو دیا گیا۔ نارویجن نوبل امن کمیٹی کی سربراہ  بیرت رائس اینڈرسن نے جمعہ کمیٹی کے اس فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ  انعام کے اعلان سے پہلے ابی احمد سے رابطے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ 

امن کمیٹی نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ابی احمد کو یہ انعام ان کی افریقہ ، بین الاقوامی امن و مفاہمت اور خصوصاً  ہمسایہ ملک اریٹیریا کے ساتھ بیس سالہ پُرانے تنازعے ک ےپُرامن حل کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے دیا جا رہاہے۔ کمیٹی نے مزید کہا کہ اس انعام کا مقصد مشرقی اور شمال مشرقی افریقہ میں امن و مفاہمت کی کوشش کرنے والے تمام فریقین کی کاوشوں کو تسلیم کرنا ہے۔

کمیٹی کی سربراہ نے کہا کہ ایتھوپیا میں ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے ۔ لیکن ابی احمد نے بہت سی ایسی اصلاحات شروع کی ہیں  جو شہریوں کے بہتر اور روشن مستقبل کی اُمید دلاتی ہیں۔  انہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے پہلے سو دن  میں ملک سے ہنگامی حالت کو ختم کیا۔ ہزاروں سیاسی قیدیوں کو معافی دی ۔ ذرائع ابلاغ سے پابندی ہٹائی ۔  حزب مخالف کی جن جماعتوں کو غیر قانونی قرار دیاگیا تھا انہیں قانونی قرار دیا۔  بدعنوانی کی وجہ سے معطل سیاسی اور عسکری رہنماؤں کو  نوکریوں سے برخاست کیا۔  سیاست اور معاشرت میں عورتوں کے اثرو نفوذ میں اضافہ کیا۔  انہوں نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا وعہد بھی کیا ہے۔

نوبل کمیٹی کی سربراہ نے کہا کہ اس سب کے باوجود انہیں کچھ چیلنجز کابھی سامنا ہے ۔ ایتھوپیا ایک کثیراللسانی اور کثیر الثقافتی معاشرہ ہے۔ حال ہی میں نسلی دشمنیوں کی آگ  بھڑک اُٹھی ہے۔  بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایتھوپیا میں تیس لاکھ داخلی مہاجر ہیں۔ یہ تعداد ہمسایہ ممالک سے آنے والے دس لاکھ سیاسی پناہ گزینوں اور مہاجرین کے علاوہ ہے۔ بحیثیت وزیر اعظم انہوں نے  مفاہمت ، یک جہتی اور سماجی انصاف کی کوشش کی ہے۔ تاہم بہت سے مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ حالیہ مہینوں اور ہفتوں میں ہم نے اس کی پریشان کُن مثالیں دیکھی ہیں۔
کمیٹی کی سربراہ نے  اریٹیریا کے صدر عیسائیاس افورکی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ امن صرف ایک آدمی کوششوں سے نہیں آتا۔  ابی احمد جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے  صدر افورکی کی طرف امن کا ہاتھ بڑھایا جسے صدر افورکی نے فوراً تھام لیا۔ اور ایک امن معاہدے کی تشکیل میں مدد دی۔  نارویجن نوبل امن کمیٹی اُمید کرتی ہے کہ یہ امن معاہدہ ایتھوپیا اور اریٹیریا کے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے گا۔
اس بار توقع تھی  یہ انعام شاید سویڈن کی سولہ سالہ گریتا تُھون برگ کو دیا جائے۔ گریتا ماحولیات  کے لیئے سرگرم ہیں اور انہوں نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ میں ماحولیات پہ جذبات سے بھرپور ایک تقریر کی تھی۔  امن کمیٹی کی سربراہ نے گریتا کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔  امن کا نوبل انعام جیتے والے  ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے یہ خبر سن کے  کہا کہ اس جیت سے ان میں عاجزی آئی ہے۔ وہ ان تمام لوگوں کو مبارکباد دیتے ہیں جو امن کے لئے کام کر رہے ہیں۔  یہ انعام ایتھوپیا اور بر اعظم افریقہ کے لئے ہے۔  ہم امن کے ذریعے ہی خوشحال ہوں گے۔
ابی احمد علی  15اگست 1976 کو جنوبی ایتھوپیا کے شہر بشاشا میں پیدا ہوئے۔  ان کے والد مسلمان جبکہ والدہ راسخ العقیدہ عیسائی تھیں۔  ان کا تعلق ایتھوپیا ایک بڑے قبیلے اورومو سے ہے۔  وہ اپنے تیرہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔  ابی احمد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور کئی ڈگریاں رکھتے ہیں۔ جن میں نمایاں عدیس ابابا یونیورسٹی سے امن اور سلامتی میں پی ایچ ڈی اور یونیورسٹی آف گرینج سے قیادت کی تبدیلی میں ماسٹرز ہے۔ جمہوریت کے دلدادہ ابی احمد کا پس منظر بھی فوج اور سیکیورٹی اداروں سے ہے۔ وہ فوج میں لیفٹننٹ کرنل رہے ہیں۔ اور انٹیلیجنس اور کمیونیکیشن سے وابستہ رہے ہیں۔

انہوں نے روانڈا میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں خدمات سر انجام دیں۔ وہ اریٹیریا کے سرحدی علاقوں میں جاسوس بھی تھے۔  2010 میں سیاست  میں آئے۔ اور اورومو ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔  وہ ایتھوپیا کے انقلابی عوامی جمہوری محاذ کے سربراہ ہیں ۔ اور اسی  وجہ سے 2 اپریل 2018 کو ایتھوپیا کےوزیر اعظم بنے۔   انہوں نے وزیر اعظم بنتے ہی ہمسایہ ملک اریٹیریا کی حکومت سے رابطہ کیا اور امن معاہدے کی پیشکش کی۔  اریٹیریا نے بھی اس کا مثبت جواب دیا اور دونوں ملک اپنا 20 سالہ تنازعہ ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس تنازعے کی وجہ سے دونوں ملکوں کو اب تک بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہو چُکا ہے۔  امن معاہدے کے بعد اب دونوں اطراف کے لوگ آزادانہ آتے جاتے ہیں۔ 

ابی احمد نے وزیر اعظم بننے کے بعد کہا تھا کہ وہ اپنے ملک کو برق رفتاری سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فوراً سیاسی قیدی رہا کئے۔ صحافیوں کو رہا کیا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے جن لوگوں کو ملک سے نکال دیا گیا تھا انہیں عام معافی دے کے واپس بُلا لیا۔ ان پہ اس معاملے میں تنقید بھی ہوئی۔ ملکی اصلاحات کے لئے اپوزیشن سے مزاکرات کئے اور انہیں اصلاحات میں شامل کیا۔  ملک میں اور ہمسایہ ممالک میں  متحارب گروہوں میں صلح کروائی۔  وہ کہتے ہیں کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔  اور وہ امن و آشتی اور مفاہمت کے پر چارک ہیں۔
ابی احمد کو انعام دیے جانے پہ لوگ مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن اس بات پہ سب متفق ہیں کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں۔  یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ ان کی کوششیں کتنا رنگ لائیں۔ لیکن ان کے خلوص ، بصیرت اور قوت فیصلہ کے سب ہی معترف ہیں۔ ان کی امن و آشتی پیدا کرنے کی خواہش اور کوشش کی سبھی داد دیتے ہیں۔
ہمارے ہاں کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ اگلے سال یہ انعام عمران خان کو دیا جائے۔  اُن کی یہ خواہش حقائق سے کس قدر مطابقت رکھتی ہے،  یہ امن کمیٹی کی سربراہ کے ان الفاظ سے عیاں ہے جو انہوں نے ابی احمد کے بارے میں کہے۔ کیا عمران خان نے یہ سب کیا ہے جو  ابی احمد نے صرف ڈیڑھ سال کے عرصے میں کیا ہے ؟  وہ  ابی احمد سے چار مہینے بعد وزیر اعظم بنے۔  لیکن اب تک اپنے تمام وعدوں سے یو ٹرن لے چُکے ہیں۔ ابی احمد نے جو کہا کر دکھایا۔  اور آج دُنیا کا سب بڑا امن انعام جیت لیا۔ آنے والے وقت میں دونوں لیڈر کیاکر پاتے ہیں اور کیا نہیں، وقت ہی بتائے گا لیکن اس وقت ابی احمد کا پلہ بھاری ہے۔ ابی احمد کا اصل امتحان اگلے سال ہونے والے انتخابات ہیں۔  دیکھنا یہ ہے کہ وہ انتخابات کتنے شفاف ہوتے ہیں۔ اور یہی ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
ابی احمد کے ارییٹیریا کے ساتھ معاہدے میں بھارت اور پاکستان کے سیکھنے کا بہت سبق ہے۔ کہ اگر نیت صاف اور ارادہ پختہ ہو تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ہے۔  ہم ستر سال سے کشمیر پہ چار جنگیں لڑ چُکے ہیں۔ بے شمار جانی اور مالی نقصان کروا چُکے ہیں۔ لیکن ہمارے دونوں طرف کےرہنماؤں میں اتنی جُرات نہیں کہ وہ بکس سے باہر نکل کے فیصلہ کر سکیں۔ صرف ایک کوشش نواز شریف نے واجپائی کے ساتھ مل کے کی تھی اور پھر جو ہوا وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ 

دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ برصغیر کے رہنماؤں کو بھی اپنے تنازعات طے کرنے کی توفیق دے ۔ تا کہ ہماری نسلیں بھی امن و آشتی سے زندگی گزرا سکیں۔ آمین۔  ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ ترقی و خوشحالی کا راستہ امن سے ہو کے ہی گزرتا ہے۔